{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiczyhxfbqiwob6qnthwb5db5vtx7lzfb3wff6hq4ategvk4u5xtau",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmx3harmobv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiaj3q5pxok7hvjmjfuxveeru3ha2kkalhmzooqxz3zwzgnsm4v25u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 127014
},
"path": "/node/186073",
"publishedAt": "2026-05-28T05:30:57.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"یورپ",
"فرانس",
"برطانیہ",
"گرمی",
"ہیٹ ویو",
"اے ایف پی",
"ماحولیات",
"news"
],
"textContent": "**یورپ رواں ہفتے ریکارڈ توڑ گرمی کی لہر (ہیٹ ویو) کی لپیٹ میں ہے، اور ماہرین کے مطابق یہ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جو مزید تیزی سے گرم ہونے والے آرکٹک خطے تک پھیلا ہوا ہے۔**\n\nبرطانیہ، آئرلینڈ اور فرانس میں مئی کے مہینے کے ریکارڈ درجہ حرارت پیر اور منگل کو ٹوٹنے کے بعد بھی آئندہ دنوں میں مزید شدید گرمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے۔\n\nاس شدید گرمی کی ایک بڑی وجہ شمالی افریقہ سے آنے والی گرم ہوا ہے، جو مغربی یورپ پر موجود ہائی پریشر سسٹم کے دباؤ میں ہے، جسے ’ہیٹ ڈوم‘ کہا جاتا ہے۔ اس قسم کی گرمی عام طور پر گرمیوں کے عروج میں دیکھنے کو ملتی ہے۔\n\nماہرین کے مطابق زمین کا اوسط درجہ حرارت صنعتی دور (1850-1900) کے مقابلے میں تقریباً 1.4 ڈگری سینٹی گریڈ بڑھ چکا ہے، جبکہ یورپ میں یہ اضافہ 2.4 ڈگری تک پہنچ چکا ہے۔\n\nامپیریل کالج لندن کے محقق بین کلارک کے مطابق اس اضافے کی بڑی وجہ انسانی سرگرمیوں سے پیدا ہونے والی گرین ہاؤس گیسیں ہیں، جبکہ مختلف ماحولیاتی عوامل اس حرارت کی تقسیم کو متاثر کرتے ہیں۔\n\nیورپ میں موسمی پیٹرن میں تبدیلی بھی اہم کردار ادا کر رہی ہے۔ کوپرنیکس کلائمیٹ سروس کے مطابق ہائی پریشر سسٹمز، جو زیادہ درجہ حرارت لاتے ہیں، اب زیادہ عام ہو چکے ہیں۔\n\nان سسٹمز کو ’بلاکنگ ہائیز‘ کہا جاتا ہے کیونکہ یہ ایک جگہ ٹھہر کر دیگر موسمی نظام کو روک دیتے ہیں۔\n\nٹرینیٹی کالج ڈبلن کی پروفیسر میری بورک کے مطابق یہ سسٹمز آسمان کو صاف رکھتے ہیں، بادل کم ہو جاتے ہیں، اور گرم ہوا سطح تک پہنچتی ہے، جس سے درجہ حرارت بڑھنے کے ساتھ نمی بھی کم ہو جاتی ہے۔\n\nیورپ کے تیزی سے گرم ہونے کی ایک اور بڑی وجہ اس کا جغرافیہ ہے، کیونکہ یہ آرکٹک سے جڑا ہوا ہے، جہاں درجہ حرارت صنعتی دور کے مقابلے میں 3.2 ڈگری بڑھ چکا ہے۔\n\nبرف اور برفانی سطح کے پگھلنے سے سیاہ زمین اور سمندر سامنے آتے ہیں، جو زیادہ حرارت جذب کرتے ہیں اور اس عمل کو مزید تیز کرتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاسی طرح یورپ میں برف باری والے علاقوں میں کمی آئی ہے، جس کے باعث سفید برف کی جگہ گہری زمین زیادہ حرارت جذب کر رہی ہے۔\n\nفضائی آلودگی میں کمی بھی ایک دلچسپ عنصر ہے۔ اگرچہ یہ صحت کے لیے فائدہ مند ہے، تاہم ہوا میں موجود ذرات میں کمی کی وجہ سے سورج کی شعاعیں زیادہ مقدار میں زمین تک پہنچ رہی ہیں، جس سے درجہ حرارت بڑھ رہا ہے۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق یورپ کے مختلف حصوں میں درجہ حرارت بڑھنے کی رفتار مختلف ہے۔ مشرقی اور جنوب مشرقی یورپ میں درجہ حرارت میں 0.5 سے 1 ڈگری فی دہائی اضافہ ہوا، جبکہ مغربی یورپ میں یہ اضافہ 0.2 سے 0.5 ڈگری رہا۔\n\nناروے کے آرکٹک جزیرے سوالبارڈ میں درجہ حرارت سب سے تیزی سے بڑھ رہا ہے، جہاں ایک دہائی میں 1.5 سے 2 ڈگری اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ اگر موجودہ رجحان برقرار رہا تو یورپ میں شدید گرمی کی لہریں مزید عام اور خطرناک ہوتی جائیں گی، جس کے اثرات معیشت، ماحول اور انسانی صحت پر گہرے پڑ سکتے ہیں۔\n\nیورپ\n\nفرانس\n\nبرطانیہ\n\nگرمی\n\nہیٹ ویو\n\nماہرین کے مطابق یورپ دنیا کا سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم بن چکا ہے، جو مزید تیزی سے گرم ہونے والے آرکٹک خطے تک پھیلا ہوا ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nجمعرات, مئی 28, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">اٹلی کے شہر میلان کے ڈومو سکوئر کے قریب ایک آئس کریم شاپ پر ایک خاتون 27 مئی 2026 کو یورپ میں شدید گرمی کے دوران ٹھنڈک کے لیے مسٹنگ فین کے سامنے بیٹھی ہیں (تصویر: اے ایف پی)</p>\n\nماحولیات\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچین آگے بڑھ چکا، یورپ ابھی پیچھے ہے\n\nیورپی یونین سے تجارت کے فروغ کی کوششیں جاری رکھیں گے: پاکستان\n\nہائے یورپ، اب تجھے کوئی پوچھتا بھی نہیں\n\nبدلتا عالمی نظام: کیا یورپ اپنی نئی سمت کا فیصلہ کرے گا؟\n\nSEO Title:\n\nیورپ سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم کیوں بن رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "یورپ سب سے تیزی سے گرم ہونے والا براعظم کیوں بن رہا ہے؟"
}