{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreichwjtbcv5q5bwfrsl5hsrofesxidlvc3n47ofwk4azffb5urhkvm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmx3ghkdsgn2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig3o5ewp43zf6hylrok3lc6chzx5y36hphlooiwnjapv52u5vyb34"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 128884
},
"path": "/node/186076",
"publishedAt": "2026-05-28T12:02:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"گوشت",
"برآمدات",
"ایران جنگ",
"آبنائے ہرمز",
"تجارت",
"جہاز رانی",
"ممتاز جمالی",
"معیشت",
"video"
],
"textContent": "**ایران پر امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد خطے میں پیدا ہونے والی کشیدگی اور آبنائے ہرمز سے خلیجی ممالک کے لیے جہاز رانی متاثر ہونے کے باعث تجارت اور بحری نقل و حمل دباؤ کا شکار ہو گئی ہے، جس کے اثرات پاکستان کی گوشت برآمدات پر بھی پڑنے لگے ہیں۔**\n\nپاکستان سے گوشت برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے، تاہم برآمد کنندگان کے مطابق حالیہ کشیدگی کے بعد سمندری راستوں میں رکاوٹ، انشورنس اور ایندھن کے بڑھتے اخراجات نے گوشت کی ایکسپورٹ کو مہنگا اور پیچیدہ بنا دیا ہے۔\n\nگوشت برآمد کرنے والی کمپنی 'دی آرگینک میٹ' کے چیف آپریٹنگ آفیسر علی حسین نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں بتایا کہ خلیجی منڈیوں، خصوصاً دبئی تک گوشت کی ترسیل بنیادی طور پر سمندری راستوں سے ہوتی تھی لیکن جنگی صورت حال کے بعد یہ سلسلہ شدید متاثر ہوا۔\n\nانہوں نے کہا: ’جنگ کے بعد گوشت کافی کم مقدار میں ایکسپورٹ ہوا کیونکہ دبئی پاکستان کے بڑے گوشت درآمد کنندگان میں شامل ہے۔ سمندری راستوں میں خلل آنے کے بعد ایکسپورٹ متاثر ہوئی، تاہم اب اس کا بڑا حصہ فضائی راستوں سے منتقل کیا جا رہا ہے۔‘\n\nعلی حسین کے مطابق فضائی راستے سے برآمدات کے اخراجات سمندری راستے کے مقابلے میں کہیں زیادہ ہیں۔\n\nپاکستان سے گوشت برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا: ’جب اخراجات بڑھتے ہیں تو گوشت بھی مہنگا ہوتا ہے اور اس کے نتیجے میں قوت خرید متاثر ہوتی ہے۔ اس وقت ہمیں ایسی ہی صورت حال کا سامنا ہے۔‘\n\nان کے مطابق جنگ کے دوران بندرگاہوں اور بحری راستوں میں مسلسل تبدیلی کے باعث برآمد کنندگان کو غیر یقینی صورت حال کا سامنا رہا۔\n\n’پہلے کچھ بندرگاہیں کھلیں، پھر بند ہو گئیں۔ کویت کو کئی ہفتوں تک گوشت برآمد نہیں کیا گیا، تاہم اب وہاں عمان کے ذریعے ٹرکوں سے گوشت پہنچایا جا رہا ہے۔ اگر یہی صورت حال برقرار رہی تو صرف گوشت نہیں بلکہ پھل، سبزیاں اور دیگر اشیا کی برآمدات بھی متاثر ہو سکتی ہیں۔‘\n\nدوسری جانب ٹریڈ ڈیولپمنٹ اتھارٹی آف پاکستان (ٹڈاپ) کے ایگرو اینڈ فوڈ ڈویژن کے ڈپٹی ڈائریکٹر اورنگزیب جہانگیر کے مطابق حالیہ بحران کے باوجود برآمدی سلسلہ مکمل طور پر نہیں رکا۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’خلیجی ممالک کے لیے سمندری روٹ متاثر ضرور ہوا، لیکن ہم نے متبادل اقدامات کیے تاکہ برآمدات جاری رہ سکیں۔\n\nگوشت برآمدات میں تیزی سے اضافہ ہو رہا تھا، اس لیے اس سلسلے کو بلاتعطل برقرار رکھنا ضروری تھا۔‘\n\n**برآمدات جاری رکھنے کے لیے کیا اقدامات کیے گئے؟**\n\nاورنگزیب جہانگیر کے مطابق بعض برآمدات فضائی راستوں کے ذریعے منتقل کی گئیں اور اس مقصد کے لیے خصوصی انتظامات بھی کیے گئے۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم نے سعودی اور قطری ایئر لائنز کے ساتھ خصوصی ریٹس پر کام کیا اور کچھ خصوصی پروازوں کے ذریعے بھی گوشت کی ترسیل جاری رکھی تاکہ سپلائی چین مکمل طور پر متاثر نہ ہو۔‘\n\nان کے مطابق بعض خلیجی درآمد کنندگان نے چارٹرڈ بحری جہازوں کے ذریعے بھی گوشت درآمد کیا کیونکہ وہاں خوراک کی دستیابی اور فوڈ سکیورٹی سے متعلق خدشات پیدا ہو رہے تھے۔\n\n**پاکستان سے کون سے ممالک کو کتنا گوشت برآمد ہوا؟**\n\nٹڈاپ کے اعداد و شمار کے مطابق 2023 اور 2024 میں پاکستان نے تقریباً 50 کروڑ 70 لاکھ ڈالر مالیت کا 99 ہزار میٹرک ٹن سے زائد گوشت برآمد کیا اور اس عرصے میں چاول کے بعد گوشت دوسری بڑی برآمدی صنعت رہی۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق 2024-25 میں بھی تقریباً 50 کروڑ ڈالر مالیت کا گوشت اور لائیو اسٹاک برآمد کیا گیا۔\n\nٹڈاپ کے مطابق پاکستان نے سب سے زیادہ گوشت متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب کو برآمد کیا جبکہ کویت، قطر، بحرین، عمان اور اردن بھی پاکستانی گوشت کی بڑی منڈیاں رہیں۔\n\nگزشتہ دو برس میں متحدہ عرب امارات پاکستانی گوشت کی سب سے بڑی منڈی رہا، جہاں متحدہ عرب امارات کو 31 کروڑ 30 لاکھ، سعودی عرب کو 17 کروڑ 10 لاکھ ڈالر جبکہ کویت کو نو کروڑ 20 لاکھ ڈالر سے زائد مالیت کا گوشت برآمد کیا گیا۔\n\n**فضائی راستوں نے اخراجات کیسے بڑھائے؟**\n\nعلی حسین کے مطابق جنگ کے اثرات صرف بحری راستوں تک محدود نہیں رہے بلکہ فضائی برآمدات اور بڑھتی توانائی قیمتوں نے بھی لاگت میں نمایاں اضافہ کیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا: ’جو بحری جہاز پہلے دو ہزار ڈالر لیتا تھا، اب چھ ہزار ڈالر چارج کر رہا ہے۔ انشورنس بھی مہنگی ہو گئی ہے اور ایندھن کی قیمتوں میں اضافے سے مجموعی ایکسپورٹ اخراجات تقریباً تین گنا تک بڑھ گئے ہیں۔‘\n\nان کے مطابق بڑھتے اخراجات کا اثر بالآخر صارفین اور تجارت دونوں پر پڑتا ہے۔\n\n’اگر کاسٹ آف پروڈکشن بڑھے گی تو کنزمپشن کم ہو گی، اور جب کھپت کم ہو گی تو اس سے ایکسپورٹر اور امپورٹر دونوں متاثر ہوں گے۔‘\n\n**نئی منڈیوں کی تلاش کیوں ضروری ہو گئی؟**\n\nخلیجی منڈیوں پر انحصار کم کرنے کے لیے پاکستانی برآمد کنندگان اب نئی مارکیٹس کی تلاش پر بھی زور دے رہے ہیں۔\n\nاورنگزیب جہانگیر کے مطابق ازبکستان اور تاجکستان میں پاکستانی گوشت کے لیے امکانات موجود ہیں، جبکہ آذربائیجان تک رسائی کے لیے بھی کوششیں جاری ہیں۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہماری کوشش ہے کہ اگر کسی ایک خطے میں برآمدات متاثر ہوں تو ہمارے پاس متبادل مارکیٹس موجود ہوں۔‘\n\nعلی حسین بھی اس مؤقف سے اتفاق کرتے ہیں۔\n\nان کے بقول: ’پاکستانی ایکسپورٹرز کو ایسی نئی مارکیٹس تلاش کرنی چاہئیں جو نسبتاً کم خطرات رکھتی ہوں اور مختلف خطوں میں واقع ہوں۔ تھائی لینڈ، انڈونیشیا، ماریشس، اردن اور سری لنکا جیسے ممالک میں پاکستانی گوشت کے لیے مواقع موجود ہیں۔‘\n\nپاکستان\n\nگوشت\n\nبرآمدات\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nتجارت\n\nجہاز رانی\n\nخلیج میں کشیدگی اور سمندری راستوں میں رکاوٹ کے باعث پاکستانی گوشت کی برآمدات شدید متاثر ہو رہی ہیں، اخراجات میں اضافہ ہوا ہے اور برآمد کنندگان متبادل منڈیوں کی تلاش میں ہیں۔\n\nممتاز جمالی\n\nجمعرات, مئی 28, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان سے گوشت برآمدات کا بڑا حصہ خلیجی ممالک کو جاتا ہے (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\nLSbLHFwq\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nچینی کمپنی کو پاکستان سے گدھے کے گوشت کی برآمد کی اجازت\n\n’گوشت اتنا ملا کہ ایک ہی سالن بن سکا:‘ کراچی کی بے گھر نادرا\n\nپاکستان: 187 ٹیکسٹائل ملز، 50 ہزار سے زائد پاور لومز بند ہونے سے برآمدات کتنی متاثر؟\n\nپاکستان کا استعمال شدہ گاڑیوں کی ریفربشمنٹ اور ایکسپورٹ کا منصوبہ\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز بحران سے پاکستان کو گوشت کی ایکسپورٹ میں مشکلات\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "آبنائے ہرمز بحران سے پاکستان کو گوشت کی ایکسپورٹ میں مشکلات"
}