{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibwo2wimzq5q3aqjxycu3jkc7v7od4rzknzryvxgujxsle5t5nhpm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmx3g7clvbh2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreietj5qdkujn6danoplvfz6lxdybnxv6axnay5rpxifvz3oxtjkicu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 137378
  },
  "path": "/node/186079",
  "publishedAt": "2026-05-28T14:42:43.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/6iV4GUOjE3",
    "May 28, 2026",
    "افغانستان",
    "طالبان",
    "روس",
    "روس یوکرین جنگ",
    "یوکرین",
    "ارپن رائے",
    "ایشیا",
    "news",
    "@aamajnews_EN"
  ],
  "textContent": "**روس نے طالبان کے ساتھ فوجی تعاون کو مزید گہرا کرنے کے لیے ایک معاہدے پر دستخط کیے ہیں، جس کے بعد وہ دنیا کا واحد ملک بن گیا ہے جس نے افغانستان میں طالبان کی حکومت کو باضابطہ طور پر تسلیم کیا ہے۔**\n\nیہ معاہدہ بدھ کو ماسکو میں منعقدہ ’انٹرنیشنل سکیورٹی فورم‘ میں ہوا، جس کی میزبانی روس نے کی اور طالبان کے وزیر دفاع و سینیئر رہنما محمد یعقوب نے شرکت کی۔\n\nیہ طالبان حکام کی پہلی اعلیٰ سطحی شرکت ہے، جو روس کی جانب سے جولائی 2025 میں طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کے بعد ہوئی۔\n\nروس اور افغان فریق نے فوجی تکنیکی معاہدے کی تفصیلات ظاہر نہیں کیں، لیکن خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ طالبان اپنے تجربہ کار جنگجو روس کی یوکرین میں جنگی کوششوں کے لیے بھیج سکتے ہیں۔\n\nاس سے قبل شمالی کوریا نے جون 2024 میں ماسکو کے ساتھ فوجی معاہدے کے بعد ہزاروں فوجی یورپ کے محاذ پر بھیجے تھے۔\n\nمحمد یعقوب نے کہا کہ طالبان اور روس نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دی ہے اور ماسکو کے ساتھ تعاون کو ’اہم معنی‘ کا حامل سمجھتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’افغانستان اور روس کے طویل اور تاریخی تعلقات ہیں، اسی سمت میں ہم مزید آگے بڑھنا چاہتے ہیں۔ ہم نے دوطرفہ تعلقات کو وسعت دی ہے۔ روس ہمارے خطے اور دنیا بھر میں ایک اہم ملک ہے۔‘\n\nروس کے سابق وزیر دفاع اور موجودہ سکیورٹی کونسل کے سیکریٹری سرگئی شوئیگو نے طالبان رہنما کا خیرمقدم کیا اور مغربی پابندیوں کو تنقید کا نشانہ بنایا۔\n\nانہوں نے کہا ’ہم سمجھتے ہیں کہ مغربی ممالک کو افغانستان کے منجمد اثاثے بحال کرنے چاہییں اور ملک کی تعمیرِ نو کی مکمل ذمہ داری قبول کرنی چاہیے۔‘\n\n> Russia and Taliban Sign Military-Technical Cooperation Agreement in Moscow\n>\n>  During an official visit to Moscow, the Taliban’s Defense Minister, Mullah Yaqoob Mujahid, signed a military-technical cooperation agreement with the Russian side at the inaugural International Security… pic.twitter.com/6iV4GUOjE3\n>\n> — Aamaj News English (@aamajnews_EN) May 28, 2026\n\nشوئیگو نے مزید کہا کہ روس نے طالبان کے اقدامات کو نوٹ کیا ہے جو انہوں نے افغانستان میں دہشت گردی اور منشیات کی سمگلنگ کے خلاف کیے۔\n\nانہوں نے زور دیا کہ امریکہ یا نیٹو کے فوجی ڈھانچے یا سہولتیں کسی بھی بہانے سے افغانستان یا اس کے پڑوسی ممالک میں واپس نہیں آنی چاہییں۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ اس معاہدے کی حقیقی نوعیت ابھی واضح نہیں اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ طالبان شمالی کوریا کی طرح روس کو فوجی یا اسلحہ فراہم کریں گے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتجزیہ کار الیکسی زاخروف کے مطابق طالبان کی حکومت داخلی عدم استحکام کا شکار ہے اور روس کے ساتھ کسی بڑے فوجی تعاون کا امکان کم ہے۔\n\nانہوں نے کہا طالبان شمالی صوبوں میں بڑھتی ہوئی بدامنی اور پاکستان کے ساتھ سرحدی مسائل سے دوچار ہیں، اس لیے روس کی جانب سے پرانے فوجی سازوسامان کی مرمت یا کچھ بنیادی اسلحے کی فراہمی ان کے لیے بروقت مدد ہو سکتی ہے، لیکن جدید ٹیکنالوجی کا تبادلہ روس کے لیے خطرناک ہو گا۔\n\nروس چاہتا ہے کہ طالبان وسطی ایشیائی خطے کی سرحدوں کو محفوظ بنانے پر توجہ دیں، جہاں داعش خراسان گروپ کی سرگرمیوں پر ماسکو کو شدید تشویش ہے۔\n\nروسی فیڈرل سکیورٹی سروس کے سربراہ الیگزینڈر بورٹنیکوف نے کہا کہ داعش- خراسان تاجکستان، ازبکستان، کرغیزستان، قازقستان اور روسی مزدوروں میں بھرتی کر رہا ہے اور خفیہ دہشت گرد سیل بنا رہا ہے۔\n\nتاہم طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا کہ افغانستان میں داعش کا مکمل خاتمہ کر دیا گیا ہے اور کوئی دہشت گرد گروہ افغان سرزمین پر سرگرم نہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’کسی ملک کو افغانستان کے بارے میں فکر مند نہیں ہونا چاہیے۔ کسی فرد یا گروہ کو ایسی سرگرمیوں کی اجازت نہیں۔\n\n’داعش کا مکمل خاتمہ ہو چکا ہے اور افغان سکیورٹی فورسز نے اس کے خلاف کامیاب کارروائیاں کی ہیں۔‘\n\nافغانستان\n\nطالبان\n\nروس\n\nروس یوکرین جنگ\n\nیوکرین\n\nماہرین کے مطابق روس یا طالبان نے فوجی تعاون کی تفصیلات تو نہیں بتائیں لیکن اس بات کا امکان نہیں کہ یہ شمالی کوریا کے ماڈل جیسا ہو۔\n\nارپن رائے\n\nجمعرات, مئی 28, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\n> <p>دو مارچ، 2026 کو خوست میں ایک طالبان اہلکار اینٹی ایئر کرافٹ گن آپریٹ کر رہا ہے (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی ثالثی میں روس اور یوکرین کے درمیان تین روزہ جنگ بندی\n\nڈرون بمقابلہ ڈرون: یوکرین نے جنگ کا نقشہ بدل دیا\n\nیوکرین جنگ کے چار برس بعد پوتن کہاں کھڑے ہیں؟\n\nروس ایران کی مدد کے لیے ڈرونز بھیج رہا ہے: رپورٹ\n\nSEO Title:\n\nروس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/south-asia/russia-taliban-military-agreement-afghanistan-ukraine-b2985166.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "روس کا افغانستان سے فوجی معاہدہ، کیا طالبان اب یوکرین میں لڑیں گے؟"
}