{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreico4r5bjmkodbul3zakj5u5f6jtjdbsh6t5jcs2qsyvrgbjrecsey",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmuebx3zfhf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicacq6m72bp6ib7j7c2qeneviu47zaxuebu547kf2ssspeocwkq5e"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 127255
  },
  "path": "/node/186058",
  "publishedAt": "2026-05-27T02:53:04.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عیدالاضحیٰ",
    "قربانی",
    "کباب",
    "صالحہ فیروز خان",
    "ملٹی میڈیا",
    "video"
  ],
  "textContent": "**پاکستان میں عیدالاضحیٰ پر گھروں میں جہاں روایتی پکوانوں کا زور رہتا ہے وہیں باربی کیو کی خوشبو ہر گلی، ہر محفل کا حصہ بن جاتی ہے۔**\n\nتکے، سیخ کباب اور چانپوں کے بیچ ایک ایسا ذائقہ بھی ہے جو اپنی منفرد خوشبو، نرم ساخت اور مصالحوں کی خاص آمیزش کی وجہ سے خاص پہچان رکھتا ہے— بہاری کباب۔\n\nبظاہر یہ ایک عام باربی کیو ڈش نظر آتی ہے مگر حقیقت میں بہاری کباب اپنے ساتھ سفر، روایت اور نسلوں سے منتقل ہونے والے ذائقوں کی پوری کہانی لیے ہوئے ہے۔\n\nاسی روایت کی تلاش ہمیں کراچی کے علاقے اورنگی ٹاؤن میں قائم مختاریہ ریستوران تک لے گئی، جہاں ایک خاندان کئی دہائیوں سے بہاری کباب کے اصل ذائقے کو زندہ رکھے ہوئے ہے۔\n\nیہ خاندان ان بہاری مسلمانوں کی نسل سے ہے جن کے آباؤ اجداد انڈین ریاست بہار سے ہجرت کر کے پاکستان آئے تھے۔\n\nان کے بزرگ 1984 سے اس فن میں مہارت رکھتے ہیں اور وقت کے ساتھ یہی ہنر ان کی پہچان بن گیا۔\n\nیہ ریستوران آج صرف کھانے کی جگہ نہیں بلکہ ایک چلتی پھرتی روایت ہے، جہاں ذائقے کے ساتھ ایک ثقافتی ورثہ بھی پیش کیا جاتا ہے۔\n\nریستوران کے مالک محمد فیروز انصاری بتاتے ہیں ’بہاری کباب کی اصل جان اس کے مصالحے اور گوشت کی تیاری کے انداز میں ہے۔\n\n’یہ سلسلہ ہمارے گھرانے میں 1984 سے چلا آرہا ہے۔ مشکلات تو زندگی کا حصہ ہیں، مگر اصل سرمایہ وہ ہنر اور روایت ہے جو ہمیں بڑوں سے ملی۔ ہمارے لیے بہاری کباب صرف کاروبار نہیں، ہماری پہچان ہے۔‘\n\nانہوں نے گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا ’ہمارے بزرگ انڈیا کی ریاست بہار سے ہجرت کر کے یہاں آئے تھے۔ حالات مشکل تھے مگر انہوں نے بہاری کھانوں کی روایت نہیں چھوڑی۔‘\n\nاصل بہاری کباب کا ذائقہ کہاں سے آتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں فیروز نے بتایا کہ بہاری کباب کی اصل پہچان گوشت کی خصوصی کٹنگ میں ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا تھا اس کے لیے گائے کے ران کا گوشت استعمال ہوتا ہے کیونکہ یہ زیادہ رسیلا اور نرم ہوتا ہے۔\n\n’گوشت کی انتہائی باریک تہیں کاٹی جاتی ہیں تاکہ پکنے کے بعد کباب نرم اور رسیلا رہے۔\n\n’سرسوں کا تیل اس ڈش کی روح ہے، جو اسے منفرد خوشبو اور ذائقہ دیتا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ گوشت کو چھ سے 10 گھنٹے تک خصوصی مصالحوں میں میرینیٹ کیا جاتا ہے تاکہ ہر ریشہ بھرپور مزے سے بھر جائے۔\n\n’جب میرینیٹ کیا ہوا گوشت کوئلے پر پکتا ہے تو اس میں سے ہلکا ہلکا تیل نکلتا ہے— یہی بہاری کباب کی اصل پہچان ہے اور جب آپ ایک لقمہ لیتے ہیں تو گوشت منہ میں رکھتے ہی گھل جاتا ہے۔‘\n\nپیش کرنے کا اصل بہاری انداز؟ اس سوال پر وہ مسکرائے اور بتایا ’صرف بہاری ہی بہاری کباب کو روایتی انداز میں دال والی کچوری کے ساتھ کھلاتا ہے۔\n\n’لوگ اسے پراٹھے یا روٹی کے ساتھ کھاتے ہیں لیکن اصل بہاری طریقہ کچوری کے ساتھ ہے۔‘\n\nان کے مطابق بہاری کباب محض ایک کھانا نہیں بلکہ بہار کی ثقافت کا حصہ ہے، جو وہاں عید اور خوشیوں کے موقعے پر خاص طور پر بنائے جاتے تھے۔\n\nعیدالاضحیٰ\n\nقربانی\n\nکباب\n\nبہار سے آ کر کراچی میں دہائیوں سے ریستوران چلانے والے ایک خاندان کے مطابق بہاری کباب کی اصل پہچان گوشت کی خصوصی کٹنگ میں ہے۔\n\nصالحہ فیروز خان\n\nبدھ, مئی 27, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\nملٹی میڈیا\n\njw id:\n\nQWl7m04s\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nمردان: 160 سالہ دکان کے کباب جس کا ’ذائقہ کھینچ کے لاتا ہے‘\n\nچمن کا صرف بارڈر ہی نہیں جاجک کباب بھی مشہور ہیں\n\nکوئٹہ کے افغانی کباب جن میں کوئی مصالحہ شامل نہیں ہوتا\n\nچند گھنٹوں میں کئی من بکنے والے قلندرآباد کے خاص چپلی کباب\n\nSEO Title:\n\n’صرف بہاری ہی بہاری کباب کو کچوری کے ساتھ کھلاتا ہے‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’صرف بہاری ہی بہاری کباب کو کچوری کے ساتھ کھلاتا ہے‘"
}