{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih7u5dtahn6bmdz6d7gzjllhqqquggassibxlyxp2ruqv5mc6miyq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmuebimvhzj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih62fpxbtmjg2mz7hpa72qcfbcormmwls6dhpkt57wfnv3at2j4ce"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 132666
},
"path": "/node/186061",
"publishedAt": "2026-05-27T04:36:09.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"سینیما",
"بولی وڈ",
"پاکستانی ڈراما",
"فاروق اعظم",
"فلم",
"news"
],
"textContent": "**ہر روز رات کے آٹھ بجتے ہی پاکستان میں ایک بڑی تعداد اپنی زندگیوں کی کہانیوں سے نکل کر کسی اور کی کہانی میں داخل ہو جاتی ہے۔**\n\nمالی حالات بہتر ہیں تو صوفے پر چائے یا کافی کا مگ ہاتھ میں لیے، گاؤں کی زندگی ہے تو صحن میں دیوار کے ساتھ ٹی وی کو ٹیک لگا کر بیٹھ گئے، بچے سامنے ہو کر نیچے بیٹھ گئے، بڑے چارپائیوں پر ساکت ہو چکے ہیں۔\n\nیہ ڈرامہ دیکھنے کا وقت ہے، کسی اور کی کہانی میں اپنے خواب تلاش کرنے کا وقت۔\n\nیونیورسٹوں کی لڑکیاں البتہ اس معمول کو فالو نہیں کرتیں، وہ رات گئے اکیلے بیٹھ کر یوٹیوب سے تازہ قسط دیکھتی ہیں۔\n\nپاکستان شاید دنیا کے ان چند ممالک میں سے ہے جہاں ٹی وی ڈراما محض تفریح نہیں بلکہ اجتماعی زندگی کا حصہ ہے۔\n\nڈرامے تھوڑے دیر کے لیے مہمان بن کر گھروں میں نہیں آتے بلکہ مستقل قیام کرتے ہیں۔\n\nلوگ کرداروں کو ایسے یاد رکھتے ہیں جیسے خاندان کے افراد ہوں۔ بعض مکالمے سیاسی نعروں کی طرح یا شاید ان سے بھی زیادہ مقبول ہو جاتے ہیں۔\n\nمگر فلم؟ ڈراما دیکھنے والوں میں سے شاید دو فیصد بھی ایسے نہ ہوں جنہوں نے پچھلے چھ، آٹھ ماہ کے دوران کوئی پاکستانی فلم دیکھی ہو۔\n\nجن ایک، دو فیصد نے دیکھی ہو گی، وہ بھی پوچھتے ہوں گے کہ اس میں آخر دیکھنے کو تھا ہی کیا؟\n\nشاندار ڈرامے بنانے والا پاکستان، فلم انڈسٹری کی تاریخ رکھنے والا ملک، فلم کے معاملے میں اتنا خراب کیسے ہو گیا؟\n\nیہ سوال محض فلم کا نہیں۔ یہ پاکستان کے شہروں، سیاست، مذہب، معیشت، خوف، متوسط طبقے اور ہماری اجتماعی نفسیات کا سوال بھی ہے۔\n\nڈراما بلکہ ٹی وی کے جنم سے پہلے فلم ہماری اجتماعی تفریح تھی یا اجتماعی پناہ گاہ تھی۔\n\nلاہور کا مال روڈ، پشاور کا سینیما روڈ اور کراچی کا ایم اے جناح روڈ فلمی پوسٹرز سے لتھڑا ہوتا تھا۔ سینیما گھروں کے باہر ٹکٹ لینے والے لمبی قطاریں میں گھنٹوں انتظار کرتے۔\n\nوحید مراد کی مسکراہٹ، محمد علی کی آواز اور ندیم کی آنکھیں زندگی میں رومانس بھرتی تھیں۔ نورجہاں کے گیت گلیوں میں خوشبو بن کر اڑتے۔\n\nشہروں میں لوگ خاندان کے ساتھ سینیما جاتے۔ گاؤں، دیہات میں یار بیلیوں کی ٹولیاں نکلتیں، پیدل اور ٹریکٹر ٹرالیوں پر۔\n\nٹی وی، وی سی آر، کیبل اور ریاستی پالیسیوں نے فلم کلچر کا بھرکس نکال دیا۔ سینیما ہال آہستہ آہستہ شادی ہال اور پلازوں میں تبدیل ہونے لگے۔ فلم کا زوال اور ڈرامے کا عروج ساتھ ساتھ آیا۔\n\nڈرامے نے متوسط طبقے کے عام پاکستانی کی زبان سیکھی، یہ خاندان کے ساتھ بیٹھ کر دیکھا جا سکتا تھا۔ ٹکٹ کا تکلف بھی نہیں، ہفتے کے سات دن، روز الگ الگ ڈرامے، ایک ساتھ اتنے ذائقے، وہ بھی خود چل کر گھر آ گئے۔\n\nہم لوگ دبکڑی مار کر بیٹھ رہے اور آج تک بیٹھے ہیں۔ فلم دوبارہ ہمیں ٹکٹ کے لیے کھڑکی تک نہ لے جا سکی۔\n\nپاکستانی ڈراما کبھی بہت بڑے سیٹوں یا مہنگی ٹیکنالوجی پر نہیں چلا۔ اس کی اصل طاقت ہمیشہ سے مکالمہ رہا۔ دو ٹوک بات، کچھ ویسی ہی زبان جو ہمیں اردگرد سننے کو ملتی ہے۔\n\nڈراما آہستہ آہستہ ہم پاکستانیوں کی ایک قومی عادت بن گیا۔ یہ اس کی غیر معمولی کامیابی ہے اور فلم کی سب سے بڑی ناکامی۔\n\nڈرامے کے مقابلے میں فلم ایک بڑا وختہ ہے، محض کہانی اور ڈائیلاگ سے کام نہیں چلتا۔\n\nفلم ایک پورا ماحولیاتی نظام مانگتی ہے۔ سینیما گھر چاہییں، سرمایہ چاہیے، سرمایہ کار، جدید کیمرے، ساؤنڈ، ایڈیٹنگ، مارکیٹنگ، ڈسٹری بیوشن اور پتہ نہیں کیا کچھ۔۔\n\nٹی وی چینلز کو اشتہارات سے فوری آمدن حاصل ہو جاتی ہے۔ پھر عادی شوقین عوام یوٹیوب وغیرہ سے دیکھ دیکھ کر متبادل ریوینیو کا سبب بنتی ہے۔\n\nفلم میں کروڑوں روپے کی لاگت اور پھر مدھم سی امید کہ لوگ ٹکٹ خرید کر سینیما آئیں گے۔ اوپر سے فلم پر الگ دباؤ کہ اس نے بولی وڈ والا معیار برقرار رکھنا ہے۔\n\nاگر پاکستانی فلم میں ساؤنڈ کمزور ہو، ایکشن مصنوعی لگے یا کہانی ٹی وی جیسی محسوس ہو تو ایک دم بوریت ہونے لگتی ہے۔\n\nہماری فلم ویسے بھی ’بڑی سکرین کے لیے بنے ڈرامے‘ جیسی لگتی ہے۔\n\nسال میں ٹوٹل دس، بارہ فلمیں بن جاتی ہیں، ایک آدھ ’مولا جٹ‘ کی طرح کامیاب ہو جائے تو ہو جائے ورنہ زیادہ تر کا ہم نام بھی نہیں جان پاتے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nچند فلمیں کامیاب ہو بھی جائیں تو کیا فرق پڑتا ہے؟ ڈراما کامیاب ہوتا ہے کہ وہ ایک تسلسل میں چل رہا ہے، روزمرہ زندگی کے قریب ہے۔\n\nبڑے خواب کم اور جذباتی ٹچے زیادہ ہوتے ہیں، مڈل کلاس کی نفسیات اور پسند ناپسند کی خوب جانچ پرکھ رکھتا ہے۔\n\nفلم اس کے برعکس ایک عوامی تجربہ ہے۔ وہ آپ کو گھر سے باہر بلاتی ہے۔ بڑی سکرین، بلند آواز، اجتماعی ردعمل، یہ سب ایک مختلف ثقافتی مزاج مانگتے ہیں۔\n\nہم ابھی تک اس مزاج کو بحال کرنے میں ناکام ہیں۔ دوسرا مسئلہ فلم کو صنعت کی طرح سنجیدگی سے نہ لینا ہے۔\n\nانڈیا میں فلم صرف آرٹ نہیں، معیشت ہے۔ جنوبی کوریا نے فلم اور موسیقی کو قومی طاقت بنایا۔ ترکی نے ڈراموں کو سفارتی اثرورسوخ میں بدل دیا۔\n\nاور ہم؟ بوکھلائے پھرتے ہیں۔ نہ وژن ہے، نہ سپورٹ، نہ پالیسی۔ ہمارے ہاں سینیما اور عام آدمی کا رشتہ ٹوٹ چکا ہے۔ دنیا بھر میں سینیما سستی عوامی تفریح سمجھا جاتا ہے، مزدور، طالب علم اور مڈل کلاس چند پیسوں میں جا کر دو گھنٹے کسی اور دنیا میں گزار لے۔\n\nپاکستان میں سینیما گلی محلے کی زندگی سے کٹا ہوا الگ ہی کسی دنیا کا حصہ ہے۔ مہنگے مالز کے اندر قید، ایسی جگہوں پر، جہاں عام آدمی خود کو ویسے ہی اجنبی محسوس کرتا ہے۔ وہاں وہ فلم دیکھنے جانے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔\n\nہم، ہمارا معاشرہ جذبات پسند کرتا ہے، تخیل نہیں۔ ڈراما اسے مانوس رشتے دیتا ہے، وہی ساس، وہی محبت، وہی خاندان، وہی فارمولا ٹائپ زندگی۔\n\nاس کے برعکس، فلم ایک نئی دنیا اور بڑا وژن مانگتی ہے۔ ہم ثقافتی، تیکنیکی اور ریاستی، کسی بھی طرح فلم کے لیے ایک سازگار ماحول نہیں۔\n\nہمارے ہاں فلم کبھی کبھار کا ایونٹ رہے گی، اجتماعی تجربہ نہیں۔ یہ خلا ڈرامہ پر کر چکا ہے، آئندہ بھی کرتا رہے گا۔\n\n_نوٹ: یہ بلاگ لکھاری کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، انڈپینڈنٹ اردو کا اس سے متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nسینیما\n\nبولی وڈ\n\nپاکستانی ڈراما\n\nہم ثقافتی، تیکنیکی اور ریاستی، کسی بھی طرح فلم کے لیے ایک سازگار ماحول نہیں۔\n\nفاروق اعظم\n\nبدھ, مئی 27, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p>30 اگست، 2018 کو کراچی کے بمبینو سینیما کے ہال میں ٹکٹ چیکر بیٹھا ہے (روئٹرز)</p>\n\nفلم\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nعید قرباں پر پاکستانی فلموں میں ایکشن، رومانس اور خوف کا راج\n\nسینیما گلی محلے کے عام آدمی سے کٹ گیا\n\nہمارے ٹی وی ڈرامے اور سماجی عکس\n\nپاکستانی سینیما اور اس کے گرو\n\nSEO Title:\n\nپاکستانی ڈرامے شاندار، مگر فلمیں بری کیوں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستانی ڈرامے شاندار، مگر فلمیں بری کیوں؟"
}