{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihyy2bbxwfq3rjzdqvwnsfogbw3jpnyr5ykpmeehfow3zpya5xzkm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmueb3cjhrj2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifada5wtvvudajh54foqgajhhpqua7sqty7cfkzyreat3gynji6iu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 115554
  },
  "path": "/node/186065",
  "publishedAt": "2026-05-27T12:40:11.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "افغانستان",
    "معیشت",
    "سرحدی کشیدگی",
    "ایران جنگ",
    "آبنائے ہرمز",
    "غذائی قلت",
    "ایسوسی ایٹڈ پریس",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پاکستان کی جانب سے سرحدی رکاوٹ اور اب ایران جنگ کے باعث آبنائے ہرمز کی بندش نے خشکی سے گھرے افغانستان کے لیے تجارت اور انسانی امداد کی فراہمی کو شدید متاثر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں کاروباری سرگرمیاں سست پڑ گئی ہیں جبکہ غذائی قلت کے شکار ہزاروں افراد بنیادی سہولتوں سے محروم ہو رہے ہیں۔**\n\nگذشتہ سال کے آخر میں جب افغانستان اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کے باعث سرحدی گزرگاہیں بند ہوئیں تو افغان تاجروں نے متبادل راستے کے طور پر ایران کا رخ کیا۔\n\nپاکستان کی سرحدی بندش کے بعد افغانستان کی برآمدات اور درآمدات کی ترسیل ایران کی اہم بندرگاہ بندر عباس کے ذریعے شروع کی گئی تاہم یہ راستہ بھی زیادہ دیر کارآمد نہ رہ سکا کیونکہ یہ بندرگاہ آبنائے ہرمز پر واقع ہے، جہاں جاری جنگ کے باعث سینکڑوں بحری جہاز پھنس چکے ہیں۔\n\nدوسری جانب پاکستان میں بھی افغانستان کے لیے آنے والے ہزاروں کنٹینرز رکے ہوئے ہیں۔\n\n11 نومبر، 2021 کو کابل کی سبزی منڈی میں پاکستان جانے والے ٹرک پر انار کے ڈبے لادے جا رہے ہیں (اے ایف پی/ ہیکٹر ریٹامل)\n\n\n\n\nان دونوں راستوں کی بندش نے افغانستان کی معیشت اور امدادی سرگرمیوں کو شدید دھچکا پہنچایا ہے۔\n\nاقوام متحدہ کے عالمی ادارہ برائے خوراک کے مطابق غذائی قلت کے شکار خواتین اور بچوں کے لیے فراہم کی جانے والی امداد بری طرح متاثر ہوئی ہے۔\n\nاس سے نہ صرف ترسیلی اخراجات میں غیر معمولی اضافے کا سامنا ہے بلکہ سپلائی بھی تقریباً منقطع ہو چکی ہے۔\n\nاس سے قبل زیادہ تر غذائی امداد پاکستان سے آتی تھی، تاہم سرحد بند ہونے کے بعد اسے دبئی اور ایران کے راستے منتقل کیا جا رہا تھا، جو اب عملی طور پر بند ہو چکا ہے۔\n\nادارے کے مطابق غذائی سپلیمنٹس بتدریج کم ہوتے گئے اور اپریل کے وسط تک مکمل طور پر ختم ہو گئے۔\n\nافغانستان میں عالمی ادارہ خوراک کے ڈائریکٹر جان ایلییف نے کہا: ’ایسے وقت میں جب غذائی قلت پہلے ہی خطرناک حد تک بڑھ چکی ہے، کمزور اور مجبور ماؤں اور بچوں کو طبی مراکز سے واپس بھیجا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے پاس فراہم کرنے کے لیے خوراک موجود نہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ ادارہ پہلے ہی مالی مشکلات کا شکار تھا اور رواں سال اسے اپنی مجموعی فنڈنگ کا صرف آٹھ فیصد ہی حاصل ہو سکا ہے، جبکہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ اور پاکستان کے ساتھ سرحد کی بندش نے صورت حال کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے۔\n\nادھر امدادی سامان کی ترسیل کے لیے اب وسطی ایشیا کے طویل زمینی راستے استعمال کیے جا رہے ہیں، جس کے باعث اخراجات میں کئی گنا اضافہ ہو چکا ہے۔\n\nایک امدادی کھیپ جو پہلے دبئی سے ایران کے راستے افغانستان پہنچنی تھی، اب ایک طویل اور پیچیدہ راستے سے سعودی عرب، اردن، شام، ترکی، جارجیا، آذربائیجان اور بحیرہ کیسپین سے ہوتی ہوئی ترکمانستان پہنچ رہی ہے اور اسے روانہ ہوئے تین ماہ گزر چکے ہیں۔\n\nکاروباری شعبہ بھی اس بحران سے شدید متاثر ہوا ہے۔ کابل کے تاجر لطف اللہ اکبری کے مطابق ان کا چین سے منگوایا گیا تعمیراتی سامان آبنائے ہرمز میں پھنسا ہوا ہے جبکہ ترسیلی اخراجات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ کاروبار جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nان کا کہنا ہے کہ اگر صورت حال برقرار رہی تو وہ اپنا سامان چھوڑنے پر مجبور ہو جائیں گے۔\n\nاسی طرح دیگر تاجروں نے بھی شکایت کی ہے کہ ٹرانسپورٹ کمپنیاں اب سامان کی مالیت سے بھی زیادہ کرایہ طلب کر رہی ہیں، جس کے باعث درآمدی سرگرمیاں تقریباً رک گئی ہیں۔\n\nلاجسٹکس کمپنی کے ایک عہدیدار کے مطابق جنگ سے قبل ایک کنٹینر کی ترسیل کی لاگت تقریباً تین سے ساڑھے تین ہزار ڈالر تھی، جو اب بڑھ کر سات ہزار سے زائد اور بعض صورتوں میں 11 ہزار ڈالر تک پہنچ چکی ہے۔\n\nکابل میں الیکٹرانکس کے ایک تاجر کے مطابق چین سے سامان منگوانے کی لاگت جو پہلے ڈیڑھ ہزار ڈالر کے قریب تھی، اب 15 ہزار ڈالر سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔\n\nافغان حکام کے مطابق اگرچہ ملک میں مجموعی مہنگائی کی شرح نسبتاً کم یعنی تقریباً تین فیصد ہے، تاہم ایران کے راستے آنے والی اشیا پر پابندیوں نے مسائل پیدا کیے ہیں۔\n\nحکام کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کی صورت حال بہتر ہونے پر تجارتی سرگرمیاں معمول پر آ جائیں گی۔\n\nافغان چیمبر آف کامرس کے مطابق اس وقت افغانستان کی 60 فیصد سے زائد تجارت وسطی ایشیا کے ذریعے ہو رہی ہے، جس سے ایران میں جاری تنازعے کے اثرات کسی حد تک کم ہوئے ہیں۔\n\nخوراک اور پیٹرولیم مصنوعات وسطی ایشیا اور روس سے درآمد کی جا رہی ہیں جبکہ دیگر اشیا ترکی کے راستے ریل کے ذریعے ایران یا آذربائیجان کے ذریعے افغانستان پہنچ رہی ہیں۔\n\nماہرین کے مطابق اگر یہ صورت حال طویل عرصے تک برقرار رہی تو افغانستان کی معیشت اور انسانی بحران مزید سنگین ہو سکتا ہے۔\n\nافغانستان\n\nمعیشت\n\nسرحدی کشیدگی\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nغذائی قلت\n\nایران جنگ اور پاکستان سے کشیدگی کے باعث افغانستان شدید بحران کا شکار ہے، تجارتی راستے بند ہیں اور غذائی امداد متاثر ہو رہی ہے۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nبدھ, مئی 27, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">چمن میں پاکستان افغانستان سرحد کے قریب 7 نومبر 2025 کو افغانستان جانے والے ٹرک دکھائی دے رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپاکستان، افغانستان سرحد بندش 100 دن، کن شعبوں کو نقصان پہنچا؟\n\nعید الاضحیٰ: افغان بارڈر کی بندش سے مویشیوں کی قیمتوں پر کیا اثر ہوا؟\n\nآبنائے ہرمز کی بندش: کیا واقعی کراچی پورٹ کی سرگرمیاں بڑھ گئیں؟\n\nمصروف آبی گزرگاہ آبنائے ہرمز کی بندش: دنیا پر کیا اثرات ہوں گے؟\n\nSEO Title:\n\nآبنائے ہرمز کی بندش: افغانستان کے لیے تجارت اور امداد کا بحران سنگین\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آبنائے ہرمز کی بندش: افغانستان کے لیے تجارت اور امداد کا بحران سنگین"
}