{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibkqt3cbv5kzixkkjdc3nxv7b5twavspwp4mixt6rvtcsjv5jtpeu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmrge2wrd7z2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreib7ajopoehrcljliojltdkwwc3n3clfx5lrek6qlir2oadkaqqctq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 63363
  },
  "path": "/node/186053",
  "publishedAt": "2026-05-26T15:38:45.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "چین",
    "قتل",
    "سزائے موت",
    "نیٹ فلکس سیریز",
    "علیشا رحمٰن سرکار",
    "دفتر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**چین میں ایک گیمنگ کمپنی کے اعلیٰ عہدے دار کو نیٹ فلکس سیریز کے تنازع پر اپنے ارب پتی بزنس پارٹنر کے قتل کے جرم میں سزائے موت دے دی گئی ہے۔**\n\nژو یاؤ نامی شخص نے دسمبر 2020 میں ’یوزو گیمز‘ نامی کمپنی کے بانی لِنچی کے کھانے میں زہر ملا دیا تھا۔\n\nیہ واقعہ اس وقت پیش آیا جب ان دونوں کے درمیان اس بات پر تنازع ہوا کہ لنچی نے ژو یاؤ کو اہم ذمہ داریوں سے ہٹا دیا تھا حالانکہ ژو یاؤ نے کمپنی کے نیٹ فلکس کے ساتھ ایک بڑا معاہدہ کروانے میں مدد دی تھی۔\n\n39 سالہ لِنچی کرسمس کے دن مردہ پائے گئے۔ ان کی موت کے بعد ژو یاؤ کو گرفتار کیا گیا اور 2024 میں انہیں قتل کا مجرم قرار دے کر سزائے موت سنائی گئی۔\n\nیوزو کمپنی کے پاس مشہور چینی سائنسی تخیلاتی ناول ’تھری باڈی پرابلم‘ کے فلمی حقوق موجود ہیں۔ ژو یاؤ اس کمپنی کے ایک ذیلی ادارے کے سربراہ تھے جو اسی ناول سے متعلق کاروبار دیکھتا تھا۔\n\nرپورٹس کے مطابق ستمبر 2020 میں نیٹ فلکس نے اس ناول پر مبنی سیریز بنانے کے حقوق حاصل کیے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلِنچی کو اس پروجیکٹ کا ایگزیکٹو پروڈیوسر بنایا گیا جبکہ ’گیم آف تھرونز‘ کے تخلیق کار ڈیوڈ بینی آف اور ڈی بی وائز بھی اس میں شامل تھے۔\n\nلِنچی نے 2018 میں ژو یاؤ کو ’تھری باڈی یونیورس‘ پروجیکٹ کا سربراہ مقرر کیا تھا، لیکن دو سال بعد جب انہوں نے کاروباری امور دوسرے افراد کے سپرد کیے تو دونوں کے درمیان اختلافات پیدا ہو گئے۔\n\nکمپنی یوزو نے ژو یاؤ کو 21 مئی کو سزائے موت کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم لِنچی کی وفات پر گہرے صدمے میں ہیں اور ان کے اہل خانہ سے دلی ہمدردی کرتے ہیں۔‘\n\nکمپنی کے مطابق تمام ملازمین عدالتی عمل کی غیر جانبداری پر یقین رکھتے ہیں اور اس کا احترام کرتے ہیں۔\n\nسیریز ’تھری باڈی پرابلم‘ نیٹ فلکس پر 2024 میں جاری ہوئی جس میں سائنس دانوں کی ایک ٹیم دکھائی گئی ہے جو اس بات کی تحقیق کرتی ہے کہ دنیا بھر میں سائنسی تجربات کیوں ناکام ہو رہے ہیں اور انسانیت کو ایک ممکنہ خلائی حملے کا سامنا کیوں ہے۔\n\nاس کہانی میں ایک گروہ ’آکسفورڈ فائیو‘ کے نام سے شامل ہے اور ایک غیر روایتی جاسوس ’دا شی‘ بھی ان کی مدد کرتا ہے، جس کا کردار بینڈکٹ وونگ نے ادا کیا ہے۔\n\nاس سیریز میں ایزا گونزالیز، جووان اڈیپو، جیس ہانگ اور جوناتھن پرائس شامل ہیں جبکہ بریڈ پٹ، روزامنڈ پائک اور رائن جانسن اس کے ایگزیکٹو پروڈیوسرز میں شامل ہیں۔\n\nچین\n\nقتل\n\nسزائے موت\n\nنیٹ فلکس سیریز\n\nیہ واقعہ نیٹ فلکس کی سیریز ’تھری باڈی پرابلم‘ کے معاہدے سے جڑے تنازع کے بعد پیش آیا تھا، جس نے کاروباری اختلاف کو ایک سنگین جرم میں بدل دیا۔\n\nعلیشا رحمٰن سرکار\n\nمنگل, مئی 26, 2026 - 20:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ژو یاؤ نامی شخص نے دسمبر 2020 میں ’یوزو گیمز‘ نامی کمپنی کے بانی لِنچی کے کھانے میں زہر ملا دیا تھا (شنگھائی فرسٹ انٹرمیڈیٹ پیپلز کورٹ)</p>\n\nدفتر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچین: بدعنوانی الزامات پر دو سابق وزرائے دفاع کو سزائے موت سنا دی گئی\n\nامریکہ: جب ایک پوڈکاسٹ نے 1982 کے قتل کا معمہ حل کروا دیا\n\nامریکہ: باپ نے فائرنگ کر کے اپنے سات بچوں سمیت آٹھ قتل کر دیے\n\nدنیا بھر میں موت کی سزاؤں پر عمل درآمد میں 26 فیصد کمی\n\nSEO Title:\n\nنیٹ فلکس شو تنازع: چینی شہری کو بزنس پارٹنر کے قتل کے جرم میں سزائے موت\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/china/netflix-3-body-problem-china-execution-lin-qi-b2983560.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "نیٹ فلکس شو تنازع: چینی شہری کو بزنس پارٹنر کے قتل کے جرم میں سزائے موت"
}