{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreid4hhv4uabbmgr5try6mg7aye6sc2w3ugk433rinkqekttg47lil4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmqywvfztte2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreig4ujtj6qfwjyslr7geom6b7uawzgkzwwznhwxboch4mtkp6c33b4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 70386
  },
  "path": "/node/186051",
  "publishedAt": "2026-05-26T11:54:38.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "اسرائیل",
    "یہودی بستیاں",
    "مغربی کنارہ",
    "آئرلینڈ",
    "روئٹرز",
    "دنیا",
    "news"
  ],
  "textContent": "**آئرش وزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے منگل کو کہا ہے کہ آئرلینڈ اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں قائم بستیوں کے ساتھ اشیا کی تجارت محدود کرنے سے متعلق قانون جولائی کے وسط تک منظور کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔**\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق تاہم اسرائیل، بعض امریکی قانون سازوں اور کاروباری گروہوں نے آئرلینڈ کے اس اقدام کی مخالفت کی ہے۔\n\nبین الاقوامی برادری کی اکثریت مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کو بین الاقوامی قانون کے تحت غیر قانونی سمجھتی ہے۔ تاہم اسرائیل اس مؤقف سے اختلاف کرتا ہے اور علاقے کے ساتھ تاریخی اور مذہبی تعلقات کے ساتھ ساتھ ان بستیوں کو سٹریٹیجک اہمیت کا حامل قرار دیتا ہے۔\n\nغزہ میں اسرائیل کی جنگ پر سب سے زیادہ کھل کر تنقید کرنے والی حکومتوں میں شامل آئرلینڈ نے پہلی بار اکتوبر 2024 میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔\n\nاس کے بعد یہ قانون ایک جانب ان اپوزیشن سیاست دانوں کے دباؤ کے باعث رکا رہا جو پابندی کو خدمات کی تجارت تک بھی بڑھانا چاہتے تھے، جبکہ دوسری جانب بین الاقوامی کمپنیوں کے لابنگ گروپس بل کو ختم کروانے کی کوشش کرتے رہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nذرائع نے گذشتہ اکتوبر میں روئٹرز کو بتایا تھا کہ بل کو صرف اشیا تک محدود رکھا جائے گا۔\n\nآئرش وزیراعظم میکائل مارٹن نے گذشتہ ہفتے اس کی تصدیق کرتے ہوئے کہا تھا کہ خدمات تک دائرہ وسیع کرنا نہ تو ’قابلِ عمل‘ ہے اور نہ ہی ’ممکن‘۔\n\nآئرلینڈ کے مرکزی محکمۂ شماریات کے مطابق، بل کو صرف اشیا تک محدود رکھنے سے صرف چند مصنوعات متاثر ہوں گی، جیسے اسرائیل کے زیرِ قبضہ علاقوں سے درآمد کیے جانے والے پھل، جن کی سالانہ مالیت صرف دو لاکھ یورو (234,660 ڈالر) ہے۔\n\nکاروباری گروہوں نے خبردار کیا کہ خدمات کے وسیع زمرے کو شامل کرنے سے غیر ملکی کثیر القومی کمپنیوں کو ناقابلِ عمل پابندیوں کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔\n\nوزیر خارجہ ہیلن میک اینٹی نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا: ’ہم مسلسل ایک پرامن حل کی حمایت کرتے آئے ہیں لیکن اسرائیلی حکومت کے حالیہ اقدامات، خاص طور پر آبادکاروں کے تشدد میں مسلسل اضافہ، مغربی کنارے میں تشدد کی شدت اور لبنان میں جاری تشدد سے یہ بالکل واضح ہے کہ ان کی اس راستے پر چلنے کی کوئی خواہش نہیں۔‘\n\nاسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے حکومتی اتحاد نے بستیوں کی تیزی سے توسیع ممکن بنائی ہے، جبکہ بعض وزرا مغربی کنارے کو اسرائیل میں ضم کرنے کی کھل کر حمایت کرتے ہیں۔\n\nاکتوبر 2023 میں غزہ جنگ شروع ہونے کے بعد سے اسرائیل کے زیرِ قبضہ مغربی کنارے میں فلسطینیوں کے خلاف آبادکاروں کے تشدد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔\n\nوزیر خارجہ میک اینٹی نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ وہ امید کرتی ہیں کہ یہ قانون بیلجیئم، نیدرلینڈز اور ممکنہ طور پر سلووینیا کے ساتھ مل کر منظور کیا جائے گا، کیونکہ یہ ممالک بھی اسی نوعیت کی پابندیاں متعارف کرانے کا عزم کر چکے ہیں۔\n\nسپین پہلے ہی ایسی پابندیاں نافذ کر چکا ہے اور اب تک ایسا کرنے والا یورپی یونین کا واحد رکن ملک ہے۔\n\nدوسری جانب امریکی قانون سازوں کے ایک گروپ نے گذشتہ سال میکائل مارٹن کو خط لکھ کر خبردار کیا تھا کہ اگر یہ بل منظور کیا گیا تو اس سے امریکہ اور آئرلینڈ کے تعلقات متاثر ہوں گے اور آئرلینڈ میں موجود امریکی کمپنیوں پر بھی اثر پڑے گا۔\n\nآئرلینڈ خاص طور پر امریکی دباؤ کے حوالے سے حساس ہے کیونکہ زیادہ تر غیر ملکی کثیر القومی کمپنیاں امریکی ملکیت میں ہیں، جو ملکی معیشت کا بڑا حصہ ہیں اور تقریباً 11 فیصد آئرش کارکنوں کو روزگار فراہم کرتی ہیں۔\n\nاسرائیل\n\nیہودی بستیاں\n\nمغربی کنارہ\n\nآئرلینڈ\n\nغزہ میں اسرائیل کی جنگ پر سب سے زیادہ کھل کر تنقید کرنے والی حکومتوں میں شامل آئرلینڈ نے پہلی بار اکتوبر 2024 میں اسرائیلی بستیوں پر پابندیاں عائد کرنے کا وعدہ کیا تھا۔\n\nروئٹرز\n\nمنگل, مئی 26, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">آئرلینڈ کی وزیرِ خارجہ ہیلن میک اینٹی 15 دسمبر 2025 کو برسلز، بیلجیئم میں یورپی یونین کی خارجہ امور کونسل کے اجلاس میں شرکت کے موقعے پر (فائل فوٹو/روئٹرز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمقبوضہ مغربی کنارہ: اسرائیلی آباد کاروں کا حملہ، مسجد نذر آتش\n\nیہودی بستیوں کوقانونی بنانے کےاسرائیلی فیصلے پر پاکستان کی مذمت\n\n’نتن یاہو سابق ہوائی اڈے پر یہودی بستی بسانا چاہتے ہیں‘\n\nمغربی کنارے کی اراضی رجسٹریشن: مسلم ممالک کی اسرائیل کی مذمت\n\nSEO Title:\n\nآئرلینڈ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کی اشیا پر پابندی لگانے کا فیصلہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "آئرلینڈ کا مقبوضہ مغربی کنارے میں قائم اسرائیلی بستیوں کی اشیا پر پابندی لگانے کا فیصلہ"
}