{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibuotm2q2fvun3eok27wkcajurdfyanu4ghfd4xgq2e35lvih2bry",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmqywowrvr62"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibp3lz3zzzwkra64y6o5tmllcfqajz3hbai6wapvyypcezvauu7qu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 116792
  },
  "path": "/node/186052",
  "publishedAt": "2026-05-26T12:01:59.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "ایران جنگ",
    "آبنائے ہرمز",
    "توانائی بحران",
    "پاکستان",
    "انرجی سکیورٹی",
    "تیل کے ذخائر",
    "روئٹرز",
    "معیشت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**ایک سرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان اپنی توانائی کی سکیورٹی بہتر بنانے کے لیے خام تیل اور ریفائن شدہ مصنوعات کی مقامی سٹوریج بڑھانے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جسے تیل پیدا کرنے والی کمپنیوں اور دنیا کی بڑی تجارتی فرموں کے ساتھ شیئر کیا گیا ہے۔**\n\nپاکستان اپنی تیل اور مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی درآمدات کا تقریباً 90 فیصد آبنائے ہرمز کے ذریعے حاصل کرتا ہے مگر اس کے باوجود اس کے پاس کوئی سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر موجود نہیں۔\n\nاسی وجہ سے ایران جنگ کے باعث پیدا ہونے والی سپلائی میں رکاوٹوں کے سامنے پاکستان کی انرجی سکیورٹی پر سوالیہ نشان لگ گئے ہیں جبکہ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے پروگرام کے تحت ہنگامی ذخائر بنانے میں رکاوٹ کا سامنا ہے۔\n\nسرکاری دستاویز، جن کا روئٹرز نے مشاہدہ کیا، کے مطابق وزارت توانائی تزویراتی یا سٹریٹیجک پیٹرولیم ذخائر قائم کرنے کے ساتھ ساتھ بانڈڈ ٹرمینلز، ریفائنریز اور آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کے ذریعے کمرشل سٹوریج بڑھانے کی تجویز دے رہی ہے۔\n\nاس کے ساتھ ساتھ تیل و گیس کی تلاش اور پیداوار میں اضافے، ریفائنریز کی اپ گریڈیشن اور ڈاؤن سٹریم سیکٹر کی تنظیم نو پر بھی زور دیا جا رہا ہے۔\n\n18 مارچ 2026 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر حب میں واقع ریفائنری پلانٹ نظر آ رہا ہے (روئٹرز)\n\n\n\n\nدستاویز میں کہا گیا ہے: ’پاکستان کی انرجی سکیورٹی کے لیے ہنگامی ذخائر کے ساتھ مضبوط مقامی سپلائی صلاحیت بھی ضروری ہے۔‘\n\nیہ مجوزہ فریم ورک سعودی آرامکو، ابوظہبی نیشنل آئل کمپنی، کویت پیٹرولیم کارپوریشن، قطر انرجی اور پیٹروچائنہ کے علاوہ ویٹول اور ٹریفگورا جیسی تجارتی کمپنیوں اور ووپاک (Vopak) نامی سٹوریج آپریٹر کے ساتھ بھی شیئر کیا گیا۔\n\nٹریفگورا اور ویٹول نے اس تجویر پر تبصرہ کرنے سے انکار کیا جبکہ دیگر کمپنیوں اور پاکستان کی وزارت پیٹرولیم نے روئٹرز کی درخواست پر کوئی جواب نہیں دیا۔\n\nوزیر پیٹرولیم علی پرویز ملک نے گذشتہ ہفتے کہا تھا کہ ’تیل کے ذخائر بنانا کہنے میں آسان مگر کرنے میں مشکل‘ ہے، خاص طور پر ایسے ملک کے لیے جو آئی ایم ایف پروگرام اور شدید مالی دباؤ کا شکار ہو، تاہم انہوں نے کہا کہ حکومت منصوبہ بندی سے عملی اقدامات کی طرف تیزی سے بڑھ رہی ہے۔\n\n**بانڈڈ سٹوریج، سٹریٹیجک ذخائر اور توانائی کا ڈھانچہ**\n\nبانڈڈ سٹوریج منصوبے کے تحت بین الاقوامی سپلائرز اور تاجر پاکستان میں تیل کے ذخائر رکھ سکیں گے، جس سے کمرشل ذخیرہ بڑھے گا جو ہنگامی حالات میں مقامی سپلائی کو سہارا دے سکے گا۔ حکومت ان کمپنیوں کو ری ایکسپورٹ کے لیے بھی ایندھن ذخیرہ کرنے کی اجازت دے سکتی ہے۔\n\nدستاویز میں مراعات، قیمتوں، ٹیکس، زرمبادلہ، خریداری کے معاہدوں یا ملکیت کی شرائط کی تفصیل نہیں دی گئی اور نہ ہی یہ واضح کیا گیا کہ کمپنیوں کو سٹوریج انفراسٹرکچر میں سرمایہ کاری کرنا ہوگی یا نہیں۔\n\nوزارت چاہتی ہے کہ سپلائرز کے لیے بانڈڈ سٹوریج کا فریم ورک جون تک حتمی شکل دے دیا جائے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسٹریٹیجک ذخائر کی کمی کے علاوہ، دستاویز میں بندرگاہوں پر انفراسٹرکچر کی محدود صلاحیت، جہاز سے جہاز منتقلی اور ناکافی سٹوریج کو بھی پاکستان کی کمزوریاں قرار دیا گیا ہے۔\n\nحکومت کے اپنے سٹریٹیجک ذخائر ایک مخصوص فنڈ کے ذریعے بنائے جائیں گے، جس کے لیے موجودہ پیٹرولیم لیوی میں سے فی لیٹر 10 روپے مختص کیے جائیں گے اور یہ عمل یکم جولائی سے شروع ہوگا۔\n\nدستاویز کے مطابق اس سے سالانہ تقریباً 70 کروڑ ڈالر جمع ہوں گے۔\n\nاس وقت پاکستان ڈیزل پر 58 روپے فی لیٹر اور پیٹرول پر 102.17 روپے فی لیٹر ٹیکس عائد کرتا ہے۔\n\nاس کے علاوہ حکومت منصوبہ بنا رہی ہے کہ ریفائنریز کو کم از کم 15 دن کا خام تیل ذخیرہ رکھنا ہوگا جبکہ آئل مارکیٹنگ کمپنیوں کو 30 دن کا تیار شدہ تیل ذخیرہ رکھنا لازمی ہوگا۔ یہ قواعد جون 2028 تک مرحلہ وار نافذ کیے جائیں گے۔\n\nدستاویز میں حب اور پورٹ قاسم کے اطراف توانائی انفراسٹرکچر کوریڈور بنانے کی بھی تجویز دی گئی ہے، جس میں سنگل پوائنٹ مورنگ، سٹوریج اور پائپ لائن کنیکٹیویٹی شامل ہوگی، تاکہ چھوٹے اور مہنگے کارگو پر انحصار کم کیا جا سکے۔\n\nایران جنگ\n\nآبنائے ہرمز\n\nتوانائی بحران\n\nپاکستان\n\nانرجی سکیورٹی\n\nتیل کے ذخائر\n\nسرکاری دستاویز کے مطابق پاکستان نے انرجی سکیورٹی کے لیے تیل ذخائر بڑھانے، بانڈڈ سٹوریج اور لازمی سٹاک قواعد متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے۔\n\nروئٹرز\n\nمنگل, مئی 26, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>18 مارچ 2026 کو لی گئی اس تصویر میں پاکستان کے صوبہ بلوچستان کے ساحلی شہر حب میں واقع ریفائنری پلانٹ میں خام تیل کے ذخیرہ کرنے والے ٹینک نظر آ رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nمعیشت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nتوانائی کی رکاوٹیں برقرار رہیں تو مشکلات طویل ہوں گی: پاکستان\n\nایران جنگ: سب سے پہلے کس ملک میں ایندھن ختم ہو گا اور کیوں؟\n\nایران جنگ کے اثرات: تیل کی قیمتیں 30 فیصد بڑھ گئیں\n\nتیل موجود ہے، متعین نرخوں پر فروخت یقینی بنائیں: شہباز شریف\n\nSEO Title:\n\nپاکستان کا تیل کے سٹریٹیجک ذخائر اور سٹوریج بڑھانے کا بڑا منصوبہ: رپورٹ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان کا تیل کے سٹریٹیجک ذخائر اور سٹوریج بڑھانے کا بڑا منصوبہ: رپورٹ"
}