{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiayzfc6n7axnygnidn3i4mama6cjq2jtyse3spjbhrjrssh4wodvi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmqesq3lpub2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidzp3i2y2fuhyver5np75salhtirzf75qhqmxikoqmtz7lgzbgi5m"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 106180
  },
  "path": "/node/186050",
  "publishedAt": "2026-05-26T05:40:39.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/9vz7doa9bt",
    "May 25, 2026",
    "چین",
    "شہباز شریف",
    "سی پیک",
    "ٹی ٹی پی",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "ایشیا",
    "news",
    "@GovtofPakistan"
  ],
  "textContent": "**پاکستان اور چین نے منگل کو جاری ہونے والے ایک مشترکہ اعلامیے میں سٹریٹجک شراکت داری کو مزید گہرا کرنے پر نیا وسیع اتفاق رائے کیا ہے۔**\n\nوزیراعظم شہباز شریف کے چار روزہ بیجنگ کے سرکاری دورے کے اختتام پر جاری اس اعلامیے میں کہا گیا کہ دونوں ممالک نے چین - پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) کی ’اعلیٰ معیار کی ترقی‘ کو فروغ دینے پر اتفاق کیا ہے۔\n\nدونوں ملکوں نے سی پیک کی ترقی میں دیگر فریقوں کی شمولیت کا بھی خیرمقدم کیا۔\n\nپاکستانی دفتر خارجہ کی جانب سے جاری اعلامیے کے تحت ’چین - پاکستان مشترکہ مستقبل کی کمیونٹی‘ کو آگے بڑھانے کے لیے نیا پانچ سالہ ایکشن پلان (2025-2029) منظور کیا گیا۔\n\n**چین - پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ پر اتفاق**\n\nاعلامیے میں کہا گیا کہ ’چین نے پاکستان کی قومی خودمختاری، آزادی اور علاقائی سالمیت کے دفاع میں اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور پاکستان کی قومی سلامتی، استحکام، ترقی اور خوشحالی کو یقینی بنانے کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی۔‘\n\nاعلامیے کے مطابق ’چینی فریق نے کہا کہ وہ پاکستان کے ساتھ مل کر گلوبل سکیورٹی انیشی ایٹو (GSI) کو مکمل طور پر نافذ کرنے، چین-پاکستان سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے، دوطرفہ اور کثیرالجہتی انسداد دہشت گردی تعاون جاری رکھنے اور فوجی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے تیار ہے تاکہ علاقائی امن و استحکام کو فروغ دینے میں مثبت کردار ادا کیا جا سکے۔\n\n’پاکستانی فریق نے اس بات کا اعادہ کیا کہ وہ سکیورٹی اقدامات اور تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے لیے ہدفی اقدامات کرے گا تاکہ پاکستان میں چینی اہلکاروں، منصوبوں اور اداروں کی حفاظت یقینی بنائی جا سکے۔\n\n’چین نے پاکستان کی دہشت گردی کے خلاف مسلسل اور مضبوط جدوجہد کی حمایت بھی کی۔\n\n’دونوں ممالک نے عالمی برادری پر زور دیا کہ انسداد دہشت گردی کے تعاون کو بڑھایا جائے اور اس بات کا اعادہ کیا کہ انسداد دہشت گردی پر دوہرا معیار اپنانے یا اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی سخت مخالفت کی جائے گی۔\n\n’پاکستانی فریق نے اپریل 2026 میں چین کے شہر اُرومچی (صوبہ سنکیانگ) میں چین، افغانستان اور پاکستان کے درمیان غیر رسمی مذاکرات کے کامیاب انعقاد کو مثبت قرار دیا اور چین کی جانب سے پاکستان اور افغانستان کے درمیان رابطے کے لیے مکالمے کا پلیٹ فارم فراہم کرنے کا خیرمقدم کیا۔\n\n’دونوں ممالک نے افغانستان کے مسئلے پر قریبی رابطے اور ہم آہنگی برقرار رکھنے پر اتفاق کیا۔‘\n\nاس کے علاوہ ’دونوں فریقین نے زور دیا کہ کسی بھی فرد، گروہ یا جماعت، بشمول تحریک طالبان پاکستان (TTP) اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ (ETIM) کو علاقائی سلامتی اور مفادات کو نقصان پہنچانے یا دہشت گردانہ کارروائیاں کرنے کے لیے کسی بھی علاقے کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔‘\n\n**سی پیک 2.0 اور معاشی تبدیلی**\n\nدورے کا مرکز سی پیک 2.0 تھا، جو چین - پاکستان اقتصادی راہداری کا جدید ورژن ہے۔\n\nیہ منصوبہ چین کے 15ویں پانچ سالہ منصوبے اور پاکستان کے قومی معاشی تبدیلی منصوبہ (اُڑان پاکستان) کے ساتھ ہم آہنگ کیا گیا ہے۔\n\nاعلامیے کے مطابق دونوں ممالک نے گوادر بندرگاہ کو علاقائی رابطے کا مرکز بنانے اور قراقرم ہائی وے کی مرحلہ وار بحالی پر اتفاق کیا۔\n\n> وزیرِ اعظم محمد شہباز شریف کی بیجنگ میں صدر شی جنپنگ کے ساتھ ملاقات\n>\n>  وزیراعظم محمد شہباز شریف نے آج بیجنگ میں چین کے صدر شی جنپنگ سے نہایت گرمجوشی اور خوشگوار ماحول میں ملاقات کی۔ یہ ملاقات پاکستان اور چین کے درمیان سفارتی تعلقات کے قیام کی 75ویں سالگرہ کے تناظر میں ہوئی۔\n>\n>  ملاقات… pic.twitter.com/9vz7doa9bt\n>\n> — Government of Pakistan (@GovtofPakistan) May 25, 2026\n\nاعلامیے میں مزید کہا گیا کہ معاشی تعاون اب صنعتی ترقی تک وسیع ہو گا، جس میں ٹیکسٹائل اور گھریلو آلات کے لیے خصوصی صنعتی پارکس قائم کیے جائیں گے۔\n\nمزید برآں، دونوں ممالک نے معدنیات، تیل اور گیس کی تلاش میں تعاون بڑھانے کا عزم کیا، جو رواں سال کے آغاز میں منعقدہ پہلے معدنی تعاون فورم کی کامیابی کے بعد ہے۔\n\n**خلائی اور مصنوعی ذہانت میں پیش رفت**\n\nپاکستان کے خلائی پروگرام کے لیے تاریخی اعلان میں چین نے دو پاکستانی خلا بازوں کو تربیت دینے اور ایک پاکستانی کو چین سپیس سٹیشن بھیجنے کا عزم کیا۔\n\nیہ سائنسی شراکت داری ڈیجیٹل میدان تک بھی پھیلی، جہاں پاکستان نے چین کی تجویز کردہ عالمی مصنوعی ذہانت تعاون تنظیم کی حمایت کی۔\n\nاعلامیے کے مطابق چین نے آئندہ پانچ سالوں میں پاکستانی ماہرین کے لیے تین ہزار تربیتی مواقع فراہم کرنے کا وعدہ بھی کیا۔\n\n**سفارتی ہم آہنگی اور کشمیر**\n\nاعلامیے کے مطابق جغرافیائی سیاست میں پاکستان نے ون-چائنا اصول کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور تائیوان کو چین کا لازمی حصہ قرار دیتے ہوئے ’تائیوان کی آزادی‘ کی ہر شکل کی مخالفت کی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان نے چین کے سنکیانگ، تبت، ہانگ کانگ اور بحیرہ جنوبی چین کے مؤقف کی بھی حمایت کی۔\n\nاس کے جواب میں چین نے پاکستان کی خودمختاری اور جموں و کشمیر تنازعے پر اس کے مؤقف کی حمایت کی۔\n\nچین نے زور دیتے ہوئے کہا کہ مسئلہ اقوام متحدہ کے چارٹر اور سلامتی کونسل کی قراردادوں کے مطابق پرامن طور پر حل ہونا چاہیے۔\n\nچین نے پاکستان کی آئندہ ذمہ داریوں میں بھی تعاون کا وعدہ کیا، جن میں ایس سی او کی صدارت اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی غیر مستقل رکنیت (2025-2026) شامل ہیں۔\n\n**علاقائی ثالثی**\n\nمشترکہ اعلامیے میں پاکستان کے ثالثی کردار کو بھی اجاگر کیا گیا، جس میں چین نے امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی میں اسلام آباد کے کردار کو سراہا۔\n\nدونوں ممالک نے مشرق وسطیٰ اور خلیجی خطے میں امن کی بحالی کے اقدامات پر زور دیا۔\n\nدورہ متعدد تجارتی، توانائی اور زرعی معاہدوں پر دستخط کے ساتھ اختتام پذیر ہوا، جو آئندہ دہائی کے لیے ’چٹان جیسی مضبوط‘ دوستی کا واضح روڈ میپ فراہم کرتا ہے۔\n\nچین\n\nشہباز شریف\n\nسی پیک\n\nٹی ٹی پی\n\nدونوں ملکوں کے مشترکہ اعلامیے میں ٹی ٹی پی اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ کو سخت انتباہ دیا گیا کہ کسی گروہ کو علاقائی سلامتی کو خطرے میں ڈالنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nمنگل, مئی 26, 2026 - 10:30\n\nMain image:\n\n> <p>پاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے 25 مئی، 2026  کو بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی۔ اس موقعے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار بھی موجود تھے (ہینڈ آؤٹ/ وزیراعظم آفس)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا چین طاقت کا محور بن رہا ہے؟\n\nخلائی مشن پر تحقیق کے لیے جانا ایک اہم سنگ میل: شہباز شریف\n\nپاکستانی وزیراعظم کا دورہ چین، مشرق وسطیٰ پر بات چیت کا امکان\n\nٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟\n\nSEO Title:\n\nپاکستان اور چین کا سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے پر اتفاق: مشترکہ اعلامیہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "پاکستان اور چین کا سکیورٹی پارٹنرشپ قائم کرنے پر اتفاق"
}