{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreibpc73tgcda4sarjpxhfmflppqa56dpyi32vbzow55s5yiabgtzvm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpvmgfti3v2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreifojjmpchxn2gzjnbykft7g3dmsyt34t2tz7ffv354xdb3vfme7w4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 117913
  },
  "path": "/node/186038",
  "publishedAt": "2026-05-26T01:27:32.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فیفا",
    "فٹ بال",
    "اے پی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**دنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے میلے فٹ بال ورلڈ کپ میں اس بار پہلے سے بھی زیادہ ٹیمیں، زیادہ میچ اور زیادہ میزبان ممالک شامل ہیں۔ اس صورت حال نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے:**\n\n**آخر حد کتنی ہے؟**\n\nامریکہ، کینیڈا اور میکسیکو کی مشترکہ میزبانی میں 11 جون سے 19 جولائی تک ہونے والا یہ ورلڈ کپ اس بات کی آزمائش کرے گا کہ دنیا کا مقبول ترین کھیل اپنے سائز اور شیڈول کو کہاں تک بڑھا سکتا ہے، اس سے پہلے کہ یہ نظام ٹوٹنے لگے۔\n\nچاہے بات بڑے کھلاڑیوں کی جسمانی برداشت کی ہو، جو پہلے ہی بھرے ہوئے کیلنڈر پر ہڑتال کی دھمکیاں دے رہے ہیں یا فینز کی توجہ کی، جو ہر روز ٹی وی پر فٹ بال دیکھ کر تھکنے لگے ہیں، یا پھر ٹکٹوں اور حتیٰ کہ پارکنگ تک کی آسمان چھوتی قیمتوں کی، ٹورنامنٹ شروع ہونے سے پہلے ہی دباؤ کے کئی پہلو سامنے آ رہے ہیں۔\n\n48 ٹیموں کے توسیعی فارمیٹ، جو پہلے 32 تھیں اور تقریباً چھ ہفتوں کے دوران میچز کے باعث کچھ لوگ کہہ رہے ہیں کہ فیفا اپنی سب سے قیمتی پراڈکٹ کو کمزور کر رہا ہے۔\n\nسابق امریکی فارورڈ کلنٹ ڈیمپسی نے اے پی سے بات کرتے ہوئے کہا ’میری ذاتی رائے میں اس سے ٹورنامنٹ کا جوش اور معیار کچھ کم ہوا ہے۔\n\n’ایسا لگتا ہے جیسے اصل ٹورنامنٹ تو راؤنڈ آف 32 سے ہی شروع ہو گا۔‘\n\nفارمیٹ کے پھیلاؤ نے ’گروپ آف ڈیتھ‘ جیسے مقابلوں کے امکانات تقریباً ختم کر دیے ہیں، جہاں بڑے بڑے ملک ایک ہی گروپ میں آتے تھے۔\n\nروایتی طور پر گروپ مرحلے میں جو سنسنی اور خطرے کا عنصر ہوتا تھا، وہ اب کم ہو گیا ہے کیونکہ اب بہترین آٹھ ’تیسری پوزیشن‘ والی ٹیمیں بھی راؤنڈ آف 32 میں پہنچ جائیں گی۔\n\nمورخ اور مصنف جوناتھن ولسن نے کہا ’سب سے بڑا خطرہ یہ ہے کہ مقابلے کی کشش ہی کم نہ ہو جائے۔ شاید اس بار فیفا بچ جائے کیونکہ یہ پہلا بڑا ٹورنامنٹ ہے اور ٹکٹوں کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔\n\n’لیکن آخرکار ایسا وقت آ سکتا ہے کہ براڈکاسٹرز اور فینز دلچسپی کھونا شروع کر دیں اگر ٹورنامنٹ صرف آخری 16 ٹیموں کے راؤنڈ میں جا کر دلچسپ بنے۔\n\nایک شخص 18 مئی، 2026 کو میامی میں فیفا ورلڈ کپ کے آفیشل مرچنڈائز سٹور کے افتتاحی دن خریداری کے دوران فٹ بال کے ساتھ کھیل رہا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\n’ورلڈ کپ کا میچ ایسا ہونا چاہیے کہ آدمی اسے دیکھے بغیر نہ رہ سکے، لیکن 104 میں سے 90 میچ کون دیکھے گا؟ یہ بہت زیادہ ہے۔‘\n\n**’ہم کھیل کو عالمی بنا رہے ہیں‘**\n\nفیفا کے صدر جیانی انفانٹینو کہتے ہیں ٹورنامنٹ کی توسیع سے کھیل واقعی عالمی ہو جائے گا اور ان ممالک کو موقع ملے گا جنہوں نے کبھی ورلڈ کپ میں کھیلنے کا تصور بھی نہیں کیا تھا۔\n\nخیال یہ ہے کہ زیادہ ٹیموں کے کوالیفائی کرنے کے امکانات بڑھنے سے دنیا بھر میں فٹ بال بہتر ہوگا۔\n\nاگلے ماہ چار نئے ممالک پہلی بار ورلڈ کپ کھیلیں گے، جن میں سب سے چھوٹا کیوراساؤ ہے۔ آبادی کے لحاظ سے ورلڈ کپ کھیلنے والا اب تک کا سب سے چھوٹا ملک۔\n\nان کے گول کیپر ایلوی روم نے کہا ’ہمارے لیے یہ بہت بڑی کامیابی ہے مگر ہم یہ بھی دکھانا چاہتے ہیں کہ ہم کھیل سکتے ہیں اور ہم اس جگہ کے مستحق ہیں۔‘\n\nدیگر نئے ممالک میں اردن، کیپ وردے اور ازبکستان شامل ہیں۔ ہیٹی 1974 کے بعد پہلی بار کوالیفائی ہوا ہے۔\n\nہیٹی کے مڈفیلڈر یاسین فورچون نے کہا ’بچپن میں ہم سب ورلڈ کپ دیکھتے تھے اور اس میں کھیلنے کا خواب دیکھتے تھے لیکن وہ صرف ایک خواب تھا۔ اب حقیقت بن جانا ناقابلِ یقین ہے۔‘\n\nاسی طرح ہیٹی کے گول کیپر جوشوئے ڈووَرژے جرمنی کی ریجنل لیگ چھوڑ کر برازیل کے ستاروں وینیسیئس جونیئر اور نییمار جیسے کھلاڑیوں کے ساتھ ایک ہی ٹورنامنٹ میں ہوں گے۔\n\n**کبھی کبھی ’کم‘ ہی ’زیادہ‘ ہوتا ہے**\n\nانگلینڈ کی پروفیشنل فٹ بالرز ایسوسی ایشن کے سربراہ میہتا مولانگو ان لوگوں میں شامل ہیں جو مسلسل خبردار کر رہے ہیں کہ کھلاڑیوں پر زیادہ کھیل کا بوجھ ان کی کارکردگی کو متاثر کر رہا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nوہ کہتے ہیں کہ فٹ بال کو امریکہ کی این ایف ایل کی طرح ’کمی کی قدر‘ سمجھنا چاہیے۔\n\nاین ایف ایل کے میڈیا رائٹس ہر سیزن تقریباً 11 ارب ڈالر کماتے ہیں جبکہ ٹیمیں صرف 17 لیگ میچ اور زیادہ سے زیادہ 21 میچ پورے سیزن میں کھیلتی ہیں۔\n\nدوسری طرف دنیا کی سب سے بڑی اور امیر ترین لیگ انگلش پریمیئر لیگ ہے، لیکن اس کی مجموعی آمدنی این ایف ایل کے مقابلے میں ابھی بھی کم ہے، باوجود اس کے کہ پریمیئر لیگ کی ٹیمیں 38 میچ کھیلتی ہیں۔\n\nمولانگو کے مطابق فٹ بال کی عالمی مقبولیت کے باوجود، کھیل کو اپنے معیار کے بارے میں سنجیدگی سے سوچنا ہوگا۔\n\nانہوں نے کہا ’ہم چین، امریکہ، انڈیا کو ٹارگٹ کرتے ہیں۔ میرے خیال میں ہمیں ’کمی کی قدر‘ پر غور کرنا ہوگا کیونکہ یہ ضروری نہیں کہ زیادہ میچ ہی زیادہ فائدہ دیں۔\n\n’ہمیں معیار کو دوبارہ اپنی منصوبہ بندی کا مرکز بنانا ہوگا۔‘\n\n**کھلاڑیوں کی صحت کے بارے میں بڑھتی تشویش**\n\nصرف کھیل کے معیار کی بات نہیں، کھلاڑیوں کی یونینز جسمانی اور ذہنی صحت کے بوجھ کے بارے میں بھی فکر مند ہیں کیونکہ ٹاپ کھلاڑیوں کو آرام کے لیے اب پہلے سے بھی کم وقت مل رہا ہے۔\n\nفیفا\n\nفٹ بال\n\nدنیا کے سب سے بڑے کھیلوں کے میلے فٹ بال ورلڈ کپ میں اس بار پہلے سے زیادہ ٹیمیں، زیادہ میچ اور زیادہ میزبان ممالک ہیں، لیکن اس صورت حال نے ایک بڑا سوال کھڑا کر دیا ہے۔\n\nاے پی\n\nمنگل, مئی 26, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p>11 مئی، 2026 کو میکسیکو سٹی میں ایک خاتون پرتگالی سٹار فٹ بالر کرسٹیانو رونالڈو کی تصویر کے ساتھ پوز دے رہی ہے (اے ایف پی)<br />\n>   </p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا انڈین فینز اس بار فٹ بال ورلڈ کپ نہیں دیکھ پائیں گے؟\n\n2035 خواتین فٹبال ورلڈ کپ کے لیے برطانیہ کے 22 سٹیڈیمز\n\nایڈیڈاس نے جرمن فٹبال ٹیم کی شرٹس پر ’نمبر 44‘ پر پابندی کیوں لگائی؟\n\nسپین: فٹبالرز کے گھروں میں چوری کرنے والا مبینہ گروہ گرفتار\n\nSEO Title:\n\nبڑا ورلڈ کپ، بڑا سوال: جوش بڑھے گا یا معیار گر جائے گا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بڑا ورلڈ کپ، بڑا سوال: جوش بڑھے گا یا معیار گر جائے گا؟"
}