{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiarmeqt2yk2ugnwzhuoiwqd3r2ybgglitlrt2fqmddmv6g3rbswlq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdpezg43y2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidcypafu3sm724fiphg3ihjzu356jv5yr2ryu54viiiuxbnhkmji4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 112939
},
"path": "/node/186037",
"publishedAt": "2026-05-25T02:58:52.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ناروے",
"صحافت",
"آزادی صحافت",
"عفت حسن رضوی",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**میں نے پاکستانی صحافت میں اپنا کریئر بنانے کے لیے سینکڑوں دیگر صحافیوں کی طرح ابلاغ عامہ کی تعلیم کا راستہ چُنا۔ صحافتی اقدار کو کسی رٹو طوطے کی طرح ازبر کرنے والے ہم جیسے صحافی جب میدان میں آتے ہیں تو صحافت کا کچھ اور ہی رنگ دیکھتے ہیں۔**\n\nپیشہ ورانہ صحافت کے وہ ان دیکھے چیلنجز کوئی یونیورسٹی نہیں پڑھا سکتی جن سے ہم صحافی آئے روز نمٹتے ہیں۔ یہ کوئی تکنیکی چیلنج نہیں جو ایک فارمولا سب ہی پہ چل جائے۔ ہر صحافی کو بقدرے جثہ صحافتی چیلنج کا حصہ مل ہی جاتا ہے۔ کسی کو دھمکی آمیز کال ہی کافی لگتی ہے اور کسی کو اٹھا لیا جاتا ہے وہ پھر بھی سچ بولنے سے نہیں چوکتا۔\n\nصحافیوں کے خلاف بے بنیاد مقدمات، انہیں اغوا کیا جانا، اداروں کی جانب سے خبر لگانے یا ہٹانے کے لیے دباؤ ملنا، نوکریاں چھین لیا جانا یہاں تک کے زندگی کے لالے پڑ جانا یہ سب ہی چیلنجز اس لمبی فہرست میں شامل ہیں جن کا سامنا پاکستانی صحافیوں کو ہے۔\n\nیہی وجہ ہے کہ آزادی اظہار و آزادی صحافت کے عالمی انڈیکس میں پاکستان 153 نمبر پہ آتا ہے۔ لیکن آج بات کرتے ہیں اس فہرست میں ٹاپ پہ آنے والے ملک یعنی ناروے کی۔\n\nمیں گذشتہ دو برس سے ناروے میں بطور متحرک صحافی کے کام کر رہی ہوں۔ ناروے کے ایک چھوٹے علاقے کے مقامی نارویجن اخبار میں کام کیا اور اب اوسلو کے ایک اخبار کلار تھالا کے لیے لکھ رہی ہوں۔ ناروے میں صحافت کا تجربہ ہی مختلف ہے۔\n\nسب سے اہم کہ ناروے میں اگر آپ پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں تو دماغ کے کسی کونے میں بھی اپنے انجام کا ڈر نہیں آئے گا۔\n\nتازہ مثال نارویجن صحافی ہیلا لینگ سوندسن کی ہے جنہوں نے انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے دورہ اوسلو کے دوران ایک سوال کیا۔\n\nہیلا یہاں اوسلو میں میری ساتھی صحافی ہیں۔ اگر آپ ہیلا کے حساب سے سوچیں تو یہ ایک معمول کا سوال تھا اور ناروے میں ہونے والی معمول کی صحافتی اسائنمنٹ تھی۔ لیکن بھلا ہو مودی بھکتوں کا کہ جنہوں نے آن لائن ٹرولنگ کر کے ہیلا لینگ کے سوال کو، اس کی ذات کو دنیا میں مشہور کروا دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنارویجن صحافت کے اعتبار سے مودی کا جواب نہ دینا اور انڈین ٹرولز کا ردعمل غیر معمولی ہے۔ کیونکہ یہاں عوامی نمائندوں کو میڈیا کے سامنے جوابدہ ہونا پڑتا ہے، اور جوابدہ ہونے کے لیے ضروری نہیں کہ اپنی میڈیا پہ موجودگی کو باقاعدہ ڈیزائن اور سٹیج کیا جائے۔\n\nیہاں ایسا نہیں ہوتا کہ لیڈر اپنی پسند کی جگہ پہ اپنی مرضی کے صحافیوں کو بٹھا کر انٹرویو دیں اور اسے کافی سمجھ لیا جائے۔ یہاں یہ معمول ہے کہ سوائے گھر میں گھسنے کے ہر عوامی مقام پہ صحافی اپنے عوامی لیڈر، وزیراعظم اور دیگر وزرا سے سوال کر سکتے ہیں۔\n\nہیلا لینگ کا مودی سے سوال سستی شہرت کے لیے کیا جانے والا کوئی اچھوتا کام ہے نہ ہی خلاف قاعدہ ہے۔ یہ سوال ہیلا لینگ نہ کرتی تو کوئی دوسرا نارویجن صحافی کر لیتا۔\n\nیہ دسمبر 2021 کی بات ہے۔ میں اوسلو میں ہونے والے نوبیل امن انعام کی تقریب کی کوریج کررہی تھی۔ تقریب کے طے شدہ پروگرام میں کہیں نہیں لکھا تھا کہ نارویجن وزیراعظم یونس گہار سٹورا میڈیا سے بات کریں گے۔ لیکن ہال کے باہر سڑک پہ صحافی مائیک اور کیمرہ لگائے کھڑے تھے۔\n\nکسی نے گھیرا ڈالا نہ کسی صحافی کو دھکم پیل کی ضرورت پڑی۔ میڈیا نے متوجہ کیا تو نارویجن وزیراعظم خود چل کر صحافیوں کے پاس آئے۔ ایک کے بعد ایک سب نے باری باری اپنے سوال پوچھے۔ میں نے بھی اپنا سوال پوچھا اسے موبائل پہ ریکارڈ کیا۔\n\nیہ نارویجن صحافتی کلچر کے اعتبار سے کوئی ایسا عظیم لمحہ نہیں تھا کہ وزیراعظم نے جیسے کوئی احسان کیا ہو۔ نہ ہی یہاں کوئی ایسی سرخی بنتی ہے کہ وزیر اعظم پروٹوکول کی پرواہ کیے بغیر عوام میں گھل مل گئے۔\n\nظاہر ہے عوامی نمائندہ عوام سے نہیں ملے گا تو کس سے ملے گا؟\n\nیہاں کوئی سٹار رپورٹر نہیں۔ کسی صحافی کو سیون سٹار سینیئر صحافی کہلانے کا خبط نہیں۔ بڑے سے بڑے، پرانے اور سینیئر ترین صحافی بھی اپنے نام کے ساتھ صرف صحافی لکھتے ہیں۔ چند ایک ٹی وی اینکرز کے کرنٹ افئیرز کے پروگرام مشہور ضرور ہیں لیکن ایسا نہیں کہ وہ کوئی بڑی سیلیبرٹی بن گئے۔\n\nایسا بھی نہیں کہ وزیراعظم یا ملک کی اہم شخصیات تک پہنچ صرف اور صرف بڑے بڑے نام والے صحافیوں کی ہے۔\n\nمیری ایک خبر میں ایک جرم کے دوران عینی شاہد کا بیان شامل تھا جسے میں نے ذرائع سے ملنے والی خبر کے طور پہ رپورٹ کیا۔ نارویجن پولیس کو عدالت میں اس عینی شاہد کی تصدیق کی ضرورت پڑ گئی۔\n\nپولیس نے پہلے مجھ سے رابطہ کیا، میں نے عینی شاہد سے رابطہ کیا۔ عینی شاہد خاتون ناروے میں یوکرینی مہاجر ہے جس نے اپنی سہولت نہ ہونے کے باعث پولیس سے رابطہ کرنے سے انکار کیا بلکہ اپنا نام بھی پولیس کو بتانے سے انکار کیا۔\n\nمیں نے پوری تفصیل پولیس کو لکھ بھیجی، جواب میں تفتیشی افسر کے شکریہ کی ای میل آئی اور معاملہ وہیں ختم ہوگیا۔\n\nکیا میں بطور صحافی یا وہ خاتون بطور گمنام عینی شاہد ایسے تحفظ کا پاکستان میں سوچ بھی سکتے ہیں؟\n\nاس کا جواب بڑے شہروں کی سڑکوں پہ مہنگی گاڑیوں میں گھومنے والے پاکستان کے سیون سٹار صحافی نہیں چھوٹے شہروں اور اضلاع میں رپورٹنگ کرنے والے گمنام صحافیوں سے ہے۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nناروے\n\nصحافت\n\nآزادی صحافت\n\nسب سے اہم کہ ناروے میں اگر آپ پیشہ ورانہ صحافتی اصولوں کے مطابق اپنا کام کر رہے ہیں تو دماغ کے کسی کونے میں بھی اپنے انجام کا ڈر نہیں آئے گا۔\n\nعفت حسن رضوی\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\n> <p>یہ نارویجن صحافی ہیلا لینگ سوندسن ہیں جنہوں نے حال ہی میں انڈین وزیراعظم نریندر مودی سے دورہ اوسلو کے دوران ایک سوال کیا اور بعد میں انہیں ٹرول کیا جانے لگا (عفت حسن رضوی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمنشیات اور معاشرتی ’گیپ‘\n\nآزادی رائے یا آزادی کردار کشی؟\n\nمزدوری سے ناروے کپ کے ٹاپ سکورر بننے والے پاکستانی فٹ بالر\n\nناروے آزاد فلسطین کی تحریک کا مرکز کیسے بنا؟\n\nSEO Title:\n\nدنیا کے ’سب سے آزاد‘ ملک میں صحافت کرنا کیسا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "دنیا کے ’سب سے آزاد‘ ملک میں صحافت کرنا کیسا ہے؟"
}