{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiayvxd3amelwhkmpi4fe4yer5detqwjzoyuxvapp6qfigeletu3me",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdp7yu44v2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiglyuazrwdvs3en4lvoffr34wolicj7gt7o5bjhxubnqphw4yck5y"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 48279
},
"path": "/node/186023",
"publishedAt": "2026-05-25T03:01:24.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"زندگی",
"رشتے",
"انسانی دماغ",
"حسنین جمال",
"بلاگ",
"video"
],
"textContent": "**جو آپ سے پیار کرتے ہیں وہ چاہتے ہیں آپ کے دماغ کو بھی گود لے لیں، دماغ لیکن الٹا چلتا ہے، بس اسی الٹے پن کی قمیت آپ ساری زندگی ادا کرتے ہیں۔**\n\nاگر اپنا دماغ آپ بالکل ویسا کر لیں جیسا وہ چاہتے ہیں تو کیا مزا ہو۔ سوچیں، زندگی میں کون سا مسئلہ باقی رہ جائے گا؟\n\nایسا ہوتا اس لیے نہیں کہ ہر انسان اپنی سوچ کا بادشاہ ہے۔ اگر آج میں یہ سوچوں کہ بھائی مجھ سے بڑا رئیس آدمی کوئی نہیں، بہترین کپڑے، اچھا کھانا، رہنے کے لیے چھت، جسمانی صحت، ہر چیز خدا کا شکر میرے پاس ہے تو مجھے کیا ہی غم باقی رہ جائے گا؟\n\nاور اگر میں سوچنا شروع کر دوں کہ کل میرے پاس یہ سب کچھ نہیں ہو گا، میں ایک کارپوریٹ مزدور ہوں، آٹھ گھنٹے کی نوکری کے بعد میرے پاس کوئی وقت نہیں بچتا، آج مجھے نزلہ کیوں ہوا، پرسوں نیند کیوں نہیں آئی، اکرم اور بشیر نے اپنی لڑائی میں کہیں میری طرف اشارہ تو نہیں کیا؟\n\nساری دنیا ہمیشہ میرے خلاف کیوں ہوتی ہے؟ تو بس فیر سوچی پیا تے سب کجھ گیا۔\n\nدماغ ہمیں الجھاتا ہے، دماغ ہمیں سلجھاتا ہے، دماغ ہی تھک جاتا ہے تو سلا دیتا ہے کیوں کہ جسمانی محنت ہم لوگ کرتے ہی نہیں۔\n\nمجھے لگتا ہے میرے دادا دادی کے زمانے تک کیونکہ زیادہ تر کام آٹومیٹڈ نہیں ہوتے تھے اس لیے وہ لوگ کم سوچتے تھے، خوش رہتے تھے اور رج کے نیند پوری کرتے تھے۔\n\nمیں نے سنا ہے جب میں پیدا ہوا تو میرے دادا نے ایک شاگرد کو ساتھ لیا، ان کے پاس بہت سے لڈو تھے، پورے محلے میں پیدل وزٹ کیا، ہر ایک گھر مٹھائی پہنچائی، مبارک باد وصول کی اور پھر واپس آئے۔\n\nاپنا مجھے یاد ہے، جب میری بہن پیدا ہوئی تو میں نے اپنے گھر کی چھت پہ ٹیپ ریکارڈ رکھ کے اونچی آواز میں گانے چلا دیے، سامنے کی چھت پہ شاید وسیم بھائی تھے، انہیں چیخ کر بتایا کہ ہماری بہن پیدا ہوئی ہے، بارہ سال کا تھا میں اس وقت، ایک دم نیچے سے دادی نے آواز دی، گیا، ان کا چہرہ غصے سے سرخ تھا، پھر بھی انہوں نے بہت سنبھل کے سمجھایا کہ بیٹا یہ شرم کی بات ہوتی ہے، اس طرح پیدائشوں کا اعلان چھت پہ نہیں کرتے۔\n\nجب میری بیٹی پیدا ہوئی تو میری خوشی کا ٹھکانہ کوئی نہیں تھا لیکن میرے پاس فون کرنے کے لیے صرف میرا گھر تھا اور دو دوست ۔۔۔ ایسا کیوں ہوا؟\n\nمٹھائی محلے میں تقسیم کیوں نہیں کی میں نے دادا کی طرح؟ اور اگر بیس سال بعد آج وہ پیدا ہوتی تو میں کیا کرتا؟ اب تو فون کرنے کا بھی رواج نہیں ۔۔۔ سوشل میڈیا پوسٹ لگا دیتا یا وٹس ایپ پہ ایک فارورڈ میسج گھما دیتا قریبی احباب کو۔\n\nیہ تین پیدائشیں گنوانے کا مقصد یہ تھا کہ دیکھیے سوشل لائف ہماری کس طرح سے بدلی ہے۔ کدھر ایک صاحب کوٹ پتلون پہنے پیدل گھوم رہے ہیں سارے محلے میں، سب سے مل رہے ہیں، مٹھائی تقسیم کر رہے ہیں، فروری کا مہینہ ہے، ملتان کی صبح ہے، جس سے بھی ملتے ہوں گے دس بارہ منٹ گپ شپ ہوتی ہو گی۔\n\nآس پاس کے پندرہ گھروں میں بھی گئے ہوں تو کم از کم دو ڈھائی گھنٹے کی ایکٹیویٹی بنتی ہے ۔۔۔ اب کیا ہوتا ہے؟ صرف فون اور آپ، صرف کمپیوٹر اور آپ، صرف سوشل میڈیا اور آپ۔\n\nاب ہمارے پاس سوچنے کے لیے بے تحاشا وقت ہے، دوسروں کی پوسٹیں دیکھ کے کڑھنے کی فرصت ہے لیکن آس پاس کے گھروں میں رہتا بھی کون ہے، یہ ہمیں شاید ہی پتہ ہو۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتو لانجھا شروع ہوا تھا کام آٹومیٹڈ ہونے سے، ہوا یہ کہ اس کے بعد زندگیاں غیر محسوس طریقے سے بدل گئی ہیں۔\n\nپہلے صرف چند دماغ سوچتے تھے، باقی سب کام کام اور بس کام کرتے تھے۔\n\nجس عورت یا مرد نے صبح اٹھنا ہے، پانی گرم کرنا ہے، ہانڈی چڑھا کے ناشتے کے لیے آٹا گوندھ کے روٹیاں اور چائے بنانی ہیں، پھر برتن دھونے ہیں، اس بیچ ہانڈی اور بچوں کو بھی دیکھتے رہنا ہے، سبزی والے کی آواز پہ سبزی لینے بھی دروازے پہ جانا ہے، دہی لانا ہے، اس کا دماغ کتنا سوچ لے گا؟ اور اس دماغ کی رفتار کیا ہو گی جس نے فوڈ پانڈے پہ سے آرڈر کرنا ہے؟\n\nتو اگر آپ کسی رشتے میں دماغ کے ہاتھوں خوار ہو رہے ہیں، چاہنے والے چاہتے ہیں کہ آپ کا دماغ بھی ان کی طرح ہو جائے تو اس کا آسان حل یہ ہے کہ بندہ نہ چھوڑیں سوچنا چھوڑ دیں اور فزیکل تھکن والے کام شروع کر دیں۔\n\nیہی حل آپ کو سائیکالوجسٹ نے دینا ہے، آپ کے پیر فقیر گرو دیں گے اور اس کی شکل یہ ہو گی کہ جم جائیں، یوگا کریں، ننگے پاؤں چلیں، گارڈننگ کریں، دوڑنا شروع کریں، گھر میں ورزش کریں یا ایک جانور ہی پال لیں ۔۔۔ جانور کیوں، کہ پھر آپ اس کی فکر میں غرق رہیں گے، غم نہ داری بز بخر۔\n\nتو الٹا دماغ دو وجہ سے ہوتا ہے، علم کی کثرت یا فراغت، پہلی وجہ کا علاج کوئی نئیں، وہ قدرتی ان بلٹ خرابی ہے، لیکن دوسری کے لیے جو اتنے سارے علاج بتائیں ہیں وہی فارمولا علم کی زیادتی پہ بھی اپلائے ہو سکتا ہے۔\n\nفزیکلی مصروفیت کے بہانے ڈھونڈیں، دماغ سکون میں رہے گا۔\n\nآسان ترین حل یہ ہے کہ جوتے پالش کرنے سے لے کر گاڑی سروس، صفائیوں اور برتن دھونے تک، ہر کام خود کریں، بیٹھیں لیٹیں گے نہیں تو سوچیں گے نہیں، سوچیں گے نہیں تو بھلے سے کوئی بھی آپ کا دماغ گود لے لے، زندگی تو آرام سے گزرے گی نا!\n\nزندگی\n\nرشتے\n\nانسانی دماغ\n\nپہلے صرف چند دماغ سوچتے تھے، باقی سب کام کام اور بس کام کرتے تھے۔\n\nحسنین جمال\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 08:00\n\nMain image:\n\nبلاگ\n\njw id:\n\nTTBJPmA9\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nبہن کا حصہ نہ دینے والے مرد اور آبائی قبرستان کی حسرت\n\nآپ ڈاکٹروں کے لیے منا بھائی والے سبجیکٹ کب بنے؟\n\nآشا بھوسلے، آر ڈی برمن اور ایک بے نام رشتے کی زندگی\n\nاوپر والا کمرہ یا نیچے والا؟\n\nSEO Title:\n\nدماغ کا الٹا پن جب رشتوں میں رکاوٹ بن جائے تو کیا کریں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "دماغ کا الٹا پن جب رشتوں میں رکاوٹ بن جائے تو کیا کریں؟"
}