{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigc7p33hfsl6pp27cqxd6uvlgup7uxrualbmrt3ud2nglf5v3lfwi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdp56xtj32"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreiffbg7qothxmic4bhskhszp6p5yl4eavy5y7wg5bse2n5a5bgssda"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 112549
  },
  "path": "/node/186039",
  "publishedAt": "2026-05-25T04:28:29.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "لیاری",
    "کراچی",
    "ممتاز جمالی",
    "فٹ بال",
    "video"
  ],
  "textContent": "**کراچی کے علاقے لیاری کی گنجان آبادی اور تنگ گلیوں کے درمیان تپتی دوپہر میں جب زیادہ تر لوگ سایہ ڈھونڈ رہے ہوتے ہیں، وہاں کچھ لڑکیاں فٹ بال کے پیچھے دوڑ رہی ہیں۔**\n\nان کے لیے فٹ بال محض ایک کھیل نہیں بلکہ زندگی کا حصہ اور ایک ایسا جنون ہے جس نے انہیں خواب دیکھنا اور ان خوابوں کے لیے لڑنا سکھایا ہے۔\n\nیہ لیاری کی وہ باہمت لڑکیاں ہیں جو سماجی رویوں اور حوصلہ شکن باتوں کی پروا کیے بغیر اپنے شوق کے تعاقب میں مصروف ہیں۔\n\nانہی لڑکیوں میں مہر بھی شامل ہیں، جن کے لیے فٹ بال روزمرہ زندگی کا لازمی حصہ بن چکا ہے۔\n\nوہ روزانہ تقریباً 10 کلومیٹر سفر کر کے عماد فٹ بال اکیڈمی‘ پہنچتی ہیں۔ شدید گرمی، طویل سفر اور تھکن ان کے لیے اہم نہیں کیونکہ فٹ بال سے ان کی وابستگی ہر مشکل پر بھاری ہے۔\n\nمہر کہتی ہیں ’ہم یہاں آٹھ، 10 سال سے کھیل رہے ہیں، اُس وقت اس گراؤنڈ میں کچھ بھی نہیں تھا۔\n\n’لیاری میں فٹ بال کا ایسا جنون ہے کہ اگر میچ ہو جائے تو لوگ گلیوں میں نکل آتے ہیں۔‘\n\nوہ بتاتی ہیں کہ آج اگرچہ ماحول پہلے سے بہتر ہو چکا ہے لیکن ابتدا آسان نہیں تھی۔\n\n’اب فٹ بال کھیلتے ہوئے آزادی محسوس ہوتی ہے، مگر جب آغاز کیا تو نہ کسی کی سپورٹ تھی اور نہ حوصلہ افزائی۔ محلے والے باتیں کرتے تھے، لیکن اب حالات بدل گئے ہیں۔‘\n\nلیاری کے علاقے کمہار واڑا کی لڑکی خاتون بھی اسی میدان میں موجود تھیں۔ چہرے پر پسینہ اور نظریں گیند پر مرکوز، جیسے اگلا لمحہ گول میں بدلنے والا ہو۔\n\nخاتون بین الاقوامی سطح پر بھی کھیل چکی ہیں، اسی لیے ان کی موجودگی دیگر لڑکیوں کے لیے حوصلے اور امید کی علامت سمجھی جاتی ہے۔\n\nخاتون نے بتایا ’میں نے ناروے میں سیمی فائنل تک کھیلا ہے۔ مجھے نہ صرف گھر والوں بلکہ محلے والوں کی بھی بہت سپورٹ ہے۔‘\n\nان کے پسندیدہ کھلاڑی برازیل کے ’نیمار جی آر‘ ہیں اور وہ خود کو ان ہی کی طرح کھیلتے دیکھنا چاہتی ہیں۔\n\n’مجھے نیمار جونیئر بہت پسند ہیں۔ میں بھی ان کی طرح بننا چاہتی ہوں اور پاکستان کی بین الاقوامی فٹ بال ٹیم میں کھیل کر اپنے والدین کا نام روشن کرنا چاہتی ہوں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nخاتون کے مطابق لیاری کی شناخت بھی بدل رہی ہے۔\n\n’اب لیاری میں گولیوں کی نہیں بلکہ کھیل کی آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ لیاری بہت اچھی جگہ ہے، یہاں لڑکے اور لڑکیاں دونوں فٹ بال کھیلتے ہیں۔ یہ سب غلط ہے کہ یہاں صرف بندوقوں کی کہانیاں ہیں۔‘\n\nان لڑکیوں کے کوچ زبیر فیض گذشتہ ایک دہائی سے مفت فٹبال سکھا رہے ہیں۔ ان کے مطابق لیاری میں ٹیلنٹ کی کمی کبھی نہیں رہی، فرق صرف مواقع اور سہولیات کا تھا۔\n\n’یہاں سیکھنے والی کئی لڑکیاں قومی اور بین الاقوامی سطح پر کھیل چکی ہیں۔ روزانہ کبھی 15، کبھی 20 اور کبھی 25 لڑکیاں بھی ٹریننگ کے لیے آ جاتی ہیں۔\n\n’پہلے لیاری میں صرف دو فٹ بال اکیڈمیاں تھیں، ایک جافا اور ایک سیپا، لیکن اب کئی اکیڈمیاں قائم ہو چکی ہیں، اسی لیے لڑکیاں گھروں سے نکل رہی ہیں اور فٹ بال کھیل رہی ہیں۔‘\n\nوہ کہتے ہیں کہ اس اکیڈمی سے نکلنے والی کئی لڑکیاں بیرون ملک تک کھیل چکی ہیں۔\n\n’خاتون، عمرہ اور ستائش جیسی لڑکیاں یہیں سے سیکھیں اور بعد میں بین الاقوامی فٹبال کھیلنے تک پہنچیں، حتیٰ کہ ناروے میں بھی کھیل چکی ہیں۔‘\n\nزبیر کے مطابق لیاری میں والدین کا اعتماد بھی بڑھا ہے۔ ’دیگر علاقوں کے مقابلے یہاں لڑکیوں کی عزت اور تحفظ زیادہ ہے۔ والدین خود اعتماد کے ساتھ اپنی بچیوں کو یہاں فٹ بال کھیلنے بھیجتے ہیں۔‘\n\nلیاری کی یہ دھوپ میں لڑکیاں صرف گیند کے پیچھے نہیں بھاگ رہیں، بلکہ وہ اپنے لیے ایک نئی شناخت، نئے امکانات اور اس شہر کے بارے میں قائم پرانی سوچ کو بدلنے کی کوشش بھی کر رہی ہیں۔\n\nلیاری\n\nکراچی\n\nکراچی کے علاقے لیاری میں تنگ گلیوں اور شدید گرمی کے باوجود لڑکیاں فٹ بال کے شوق میں روزانہ میدان کا رخ کرتی ہیں۔\n\nممتاز جمالی\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 09:15\n\nMain image:\n\nفٹ بال\n\njw id:\n\n5yQmiyA8\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nلیاری کے ریپرز: اگر موسیقی نہ ہوتی تو آج کسی جرم میں ملوث ہوتا\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nپاکستان فٹ بال ٹیم اپریل میں فیفا سیریز میں حصہ لے گی\n\nپرتگال کے لیے ٹانگ بھی تڑوانا پڑتی تو کر ڈالتا: رونالڈو\n\nSEO Title:\n\n’اب گولیوں کی نہیں بلکہ گیند کی آوازیں ہیں:‘ لیاری کی لڑکیوں کا فٹ بال جنون\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "’اب گولیوں کی نہیں بلکہ گیند کی آوازیں ہیں:‘ لیاری کی لڑکیوں کا فٹ بال جنون"
}