{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreia5qvh4hdhxddjovwkudp3tnp7r4wkokgtc7es2tnispdrklvdsnu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdowuajje2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreih6blcjfdfdtip3sujglghehwstlol4xvbqgadtpc3cy53gmojnk4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 57826
},
"path": "/node/186040",
"publishedAt": "2026-05-25T06:07:28.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"آئی ٹی",
"روئٹرز",
"ٹیکنالوجی",
"news"
],
"textContent": "**جب ہی ٹنگبو کو 2003 میں ہواوے کی چپ ڈیولپمنٹ کی ذمہ داری دی گئی تو اس نوجوان انجینیئر کو سالانہ 400 ملین ڈالر کا بجٹ اور ایک ایسا مشن سونپا گیا جو بعد میں انہیں چین کی سب سے اہم ٹیکنالوجی کوششوں کے مرکز میں لے آیا۔**\n\nدو دہائیوں سے زائد عرصے بعد ہی ٹنگبو، جنہیں چینی ٹیکنالوجی حلقوں میں اکثر ہواوے کی ’چپ کوئین‘ کہا جاتا ہے، کمپنی کی سب سے اہم ایگزیکیٹوز میں شامل ہیں اور امریکی پابندیوں کے باوجود چین کی خود کفالت پر مبنی سیمی کنڈکٹر صنعت کی علامت بن چکی ہیں۔\n\nوہ ہواوے کے سیمی کنڈکٹر بزنس کی صدر اور سائنس دان کمیٹی کی ڈائریکٹر ہیں۔\n\nوہ ہواوے کے 17 رکنی بورڈ کی صرف دو خواتین میں سے ایک ہیں۔ دوسری منگ وانژو ہیں جو کمپنی کے بانی رن ژینگفی کی بیٹی اور ہواوے کی روٹیشنل چیئر وومن ہیں۔\n\nان کی تازہ ترین عوامی شرکت پیر کو ہوئی، جب انہوں نے شنگھائی میں IEEE انٹرنیشنل سمپوزیم آن سرکٹس اینڈ سسٹمز میں ’نیا سیمی کنڈکٹر راستہ: عملی تجربہ‘ کے عنوان سے اہم خطاب کیا۔\n\nخطاب نے انہیں اس عالمی بحث کے مرکز میں لا کھڑا کیا ہے جو ’مورز لا‘ کے بعد کے دور سے متعلق ہے۔\n\nدہائیوں تک چِپ ٹیکنالوجی کی ترقی اس اصول پر چلتی رہی کہ ایک ہی چِپ پر زیادہ سے زیادہ ٹرانزسٹرز کو چھوٹا کر کے سمایا جائے، جس سے کمپیوٹرز تیز، سستے اور زیادہ توانائی مؤثر بنتے رہے۔ اسے ’مورز لا‘ کہا جاتا ہے۔\n\nلیکن اب جب یہ حدیں اپنی طبیعی اور لیثوگرافک حدود کے قریب پہنچ رہی ہیں تو صنعت کو نئی راہیں تلاش کرنا پڑ رہی ہیں۔\n\nہواوے کے لیے یہ چیلنج بہت پہلے اور زیادہ سخت انداز میں سامنے آیا۔ 2019 میں امریکی پابندیوں نے کمپنی کو اہم غیر ملکی چِپ ٹیکنالوجی اور جدید ترین مینوفیکچرنگ سے محروم کر دیا، جس سے اس کے سمارٹ فونز سے لے کر ٹیلی کمیونیکیشن آلات تک خطرے میں پڑ گئے۔\n\nبعد میں امریکی پابندیوں نے ہواوے کے کئی مقامی شراکت داروں اور حریفوں کو بھی اسی مشکل میں ڈال دیا، جس سے ’مورز لا کے بعد‘ والی ٹیکنالوجیز کی اہمیت مزید بڑھ گئی۔\n\nٹنگبو نے پیر کو ’ٹاﺅ سکیلنگ لا‘ متعارف کروایا، جو ہواوے کے مطابق چِپ ڈیولپمنٹ کے لیے ایک ایسا اصول ہے جو مورز لا کی کمزوری کے بعد رہنمائی فراہم کرے گا۔\n\nہواوے کے مطابق ان کی ٹیم گذشتہ چھ سال سے اس اصول پر کام کر رہی ہے اور اس طریقہ کار پر مبنی 381 چِپس بڑے پیمانے پر تیار کی جا چکی ہیں۔\n\nیہ اصول اس بات پر زور دیتا ہے کہ سیمی کنڈکٹر انڈسٹری کو ٹرانزسٹرز کو مزید چھوٹا کرنے کی بجائے مختلف ڈیوائسز، سرکٹس، چِپس اور کمپیوٹنگ سسٹمز کے درمیان ٹرانسمیشن سپیڈ بہتر بنانے پر توجہ دینی چاہیے۔\n\n**30 سالہ ہواوے کیریئر**\n\nہی ٹنگبو کا کیریئر بڑی حد تک ہواوے کے عالمی عروج، امریکی پابندیوں کے بعد مشکلات اور پھر چین کی ٹیکنالوجی میں خود کفالت کی کوششوں سے جڑا ہوا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n1969 میں جنوبی صوبے ہنان کے شہر چانگشا میں پیدا ہونے والی ٹنگبو نے 1996 میں ہواوے میں بطور انجینیئر شمولیت اختیار کی۔\n\nانہوں نے سیمی کنڈکٹر فزکس اور کمیونیکیشن انجینیئرنگ میں بیچلرز کی ڈگری اور بیجنگ یونیورسٹی آف پوسٹس اینڈ ٹیلی کمیونیکیشنز سے ماسٹرز کیا۔\n\n2004 میں کمپنی نے باقاعدہ طور پر HiSilicon قائم کیا، جو اس کا چِپ ڈیزائن یونٹ تھا اور جس کی تعمیر میں ہی ٹنگبو نے ایک چھوٹے اندرونی شعبے سے اسے دنیا کی بڑی سیمی کنڈکٹر تنظیموں میں تبدیل کرنے تک اہم کردار ادا کیا۔\n\nان کی قیادت میں ہواوے نے سسٹم آن چِپ ڈیزائن، آپٹو الیکٹرانکس اور ایڈوانسڈ پیکیجنگ جیسے شعبوں میں مہارت حاصل کی۔\n\nیہ پورٹ فولیو بعد میں سمارٹ فونز، مصنوعی ذہانت، جنرل پرپز پروسیسرز، ٹیلی کمیونیکیشن، نیٹ ورکنگ اور کنزیومر الیکٹرانکس تک پھیل گیا، جس نے 2025 میں ہواوے کی 880.9 ارب یوآن (تقریباً 130 ارب ڈالر) آمدنی میں اہم کردار ادا کیا۔\n\nپابندیوں کے بعد ٹنگبو ہواوے کی اندرونی بقا کی کوششوں سے گہری طور پر منسلک ہو گئیں۔\n\n2019 میں HiSilicon کے ملازمین کے نام ایک مشہور خط میں انہوں نے لکھا تھا کہ یہ یونٹ ’ہواوے اور پورے ملک کے لیے ایک بیک اپ لائف لائن بنا رہا ہے۔‘\n\nآئی ٹی\n\nہی ٹنگبو نے 400 ملین ڈالر کے ابتدائی بجٹ سے ہواوے کے چِپ پروگرام کو ایک عالمی طاقت میں بدلنے میں کلیدی کردار ادا کر دیا۔\n\nروئٹرز\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p>ہواوے کے سیمی کنڈکٹر بزنس کی صدر اور سائنس دان کمیٹی کی ڈائریکٹر ہی ٹنگبو (ہواوے ویب سائٹ)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسام سنگ ٹیسلا کے لیے جدید چپس بنائے گی: مسک\n\nچین: ملازم کی جگہ اے آئی سسٹم لگانے پر کمپنی کو جرمانہ\n\nہیکرز کو جرائم میں اے آئی استعمال کرنے میں مشکلات کا سامنا: تحقیق\n\nپشاور: چھوٹے بچوں کے لیے آرٹیفیشل انٹیلیجنس اور روبوٹکس کی تعلیم\n\nSEO Title:\n\nچین کی تاریخ میں نام بنانے والی ہواوے کی ’چپ کوئین‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "چین کی تاریخ میں نام بنانے والی ہواوے کی ’چپ کوئین‘"
}