{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreih4zmv45j3mrmefuqz7oknhkwtta66scoafzcumtm5c2nw6jr57bu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdoor6ieb2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreicxim5exipfcugxb5rz7dwkiel3wmthtt2knznts2caqvoaidxxuq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 176353
},
"path": "/node/186042",
"publishedAt": "2026-05-25T11:47:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"کوئٹہ",
"خودکش دھماکہ",
"دہشت گردی",
"متاثرین",
"بی ایل اے",
"محمد عیسیٰ",
"میری کہانی",
"video"
],
"textContent": "**کوئٹہ میں اتوار کو ہونے والے دھماکے سے جہاں جان سے جانے والے افراد کی تعداد 47 ہو گئی اور درجنوں زخمی ہیں، وہیں جائے وقوع کے قریب بڑی تعداد میں رہائشی مکانات بھی شدید متاثر ہوئے۔**\n\nمتاثرین کا کہنا ہے اکثر مکانات اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود متاثرین سکتے میں ہیں۔\n\nمتاثرین کے مطابق یہ ’قیامتِ صغریٰ کا منظر تھا، جو گزر تو گیا لیکن تباہی اور خوف کے باعث وہ اب تک ذہنی صدمے میں ہیں۔‘\n\nایسی ہی ایک کہانی عمران قریشی اور ان کے خاندان کی ہے، جن کا گھر دھماکے کی جگہ سے چند گز کے فاصلے پر واقع ہے۔\n\nانہوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو اتوار کے دھماکے کی صورت حال بتاتے ہوئے کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم ہیں اور اتوار کی چھٹی ہونے کے باعث گھر کے کچھ افراد سو رہے تھے جبکہ کچھ جاگ کر ناشتہ بنانے کی تیاری میں مصروف تھے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ شام کو بچوں کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے جانے کا وعدہ کیا تھا، جس پر بچے بہت خوش تھے۔\n\n24 مئی، 2026 کو بم حملے کی زد میں آنے والی ٹرین کے قریب سکیورٹی اہلکار کھڑا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nعمران قریشی کے بقول: ’لیکن اللہ کو کچھ اور منظور تھا۔ صبح آٹھ بجے کے قریب ایک خوفناک دھماکہ ہوا جس سے ہمارے اوسان خطا ہو گئے۔ گھر میں اندھیرا چھا گیا اور گرد و غبار کے باعث کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔ بچوں اور خواتین کی چیخ و پکار نے ہمیں مزید پریشان کر دیا۔ ہر طرف خوف و ہراس پھیلا ہوا تھا۔‘\n\n’ہوش سنبھالتے ہی میں نے اپنے بزرگ والدین، بیوی، بچوں اور بھائیوں کا حال احوال پوچھا۔ اللہ کا شکر ہے کہ کسی کو جانی نقصان نہیں پہنچا۔‘\n\nعمران قریشی نے مزید بتایا کہ ’دھماکے سے گھر کی صرف دیواریں باقی رہ گئیں، باقی تمام اشیا ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو گئیں۔ کوئی چیز سلامت نہیں رہی۔ دروازے، کھڑکیاں، شیشے، دو گاڑیاں اور موٹر سائیکلیں مکمل طور پر تباہ ہو گئیں۔\n\nگھر کی حالت دیکھ کر تمام افراد شدید صدمے کا شکار ہیں۔ صدمہ اتنا شدید ہے کہ سمجھ نہیں آ رہی کہ گھر کو کیسے ٹھیک کریں اور کہاں سے آغاز کریں۔‘\n\nکوئٹہ میں اتوار کو ہونے والے دھماکے سے قریب میں واقع اکثر مکانات اب رہائش کے قابل نہیں رہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nعمران قریشی نے حکومتی بے حسی پر افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اب تک کوئی عہدیدار مدد کے لیے نہیں آیا۔ اگر حکومت ذمہ داری کا مظاہرہ کرے تو فوری طور پر ہماری مدد کرنی چاہیے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ خواتین اور بچوں کو رشتہ داروں کے گھروں میں بھیج دیا گیا ہے اور عید کی قربانی کا ارادہ ترک کر دیا گیا ہے۔ گھر میں 22 افراد رہتے ہیں اور گھریلو معاملات بحال کرنے کے لیے کم از کم 36 لاکھ روپے درکار ہیں۔\n\nمتاثرہ گھر میں موجود نوجوان محمد عثمان نے بتایا کہ ’یہ بہت خوفناک لمحہ تھا، جس کی آواز اور خوف اب تک ذہن میں تازہ ہے۔ ہماری عید خراب ہو گئی۔ اتوار کو والد کے ساتھ قربانی کے جانور خریدنے منڈی جانا تھا، بہن بھائی بہت خوش تھے، لیکن اب سب کچھ ختم ہو گیا۔ رہنے کو گھر نہیں رہا اور پہننے کو کپڑے تک نہیں بچے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ اللہ کا شکر ہے کہ اس واقعے میں کوئی زخمی نہیں ہوا، تاہم گھر کی کوئی بھی چیز استعمال کے قابل نہیں رہی۔\n\nگھر کے بزرگ حاجی عیسیٰ خان نے بتایا کہ وہ شدید پریشان ہیں۔ سب کچھ تباہ ہو گیا۔ ان کی ایک بیٹی بیوہ ہے جس کے چھوٹے چھوٹے بچے ہیں اور ان کی کفالت ان کے ذمہ ہے۔ ایک ہی گھر تھا، وہ بھی تباہ ہو گیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ وہ حکومتی امداد کے منتظر ہیں۔\n\nکوئٹہ\n\nخودکش دھماکہ\n\nدہشت گردی\n\nمتاثرین\n\nبی ایل اے\n\nمتاثرین کا کہنا ہے اکثر مکانات اب رہائش کے قابل نہیں رہے۔ دھماکہ اتنا زور دار تھا کہ 48 گھنٹے گزرنے کے باوجود متاثرین سکتے میں ہیں۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p>کوئٹہ میں اتوار کو ہونے والے دھماکے سے قریب میں واقع اکثر مکانات اب رہائش کے قابل نہیں رہے (اے ایف پی)</p>\n\nمیری کہانی\n\njw id:\n\nPMfcYvLH\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nکوئٹہ ٹرین بم حملے میں 30 اموات، کم از کم 50 زخمی: سرکاری عہدے دار\n\nکوئٹہ، بارکھان میں کارروائیاں، 8 عسکریت پسند مارے گئے\n\n’کسی دہشت گرد کو نہیں بخشا جائے گا‘: فیلڈ مارشل کا دورہ کوئٹہ\n\nاپیکس کمیٹی کا بلوچستان میں سرمایہ کاری کے تحفظ کے لیے ایف سی تعینات کرنے کا فیصلہ\n\nSEO Title:\n\nاب تک صدمے میں ہیں، حکومت مدد کرے: کوئٹہ دھماکے سے متاثرہ شہری\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "اب تک صدمے میں ہیں، حکومت مدد کرے: کوئٹہ دھماکے سے متاثرہ شہری"
}