{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidxajm4wxaq2itmlgcxop77dt5strdi5tsr33rqh3ujs3dpjpjjgu",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdoiynq332"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidazit63zgd6lqpoeyvlnh2ykv3hzg3uiv63ke7jf33smdkpb7zrq"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 93204
  },
  "path": "/node/186036",
  "publishedAt": "2026-05-25T12:09:16.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "ایران",
    "ایران جنگ",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس"
  ],
  "textContent": "**ہمارے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں، ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں: خواجہ آصف**\n\nپاکستان کے وزیر دفاع نے پیر کو کہا ہے کہ صدر ٹرمپ کی جانب سے پیش کیا گیا ابراہم معاہدہ قابل قبول نہیں کیوں کہ یہ ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہے۔\n\nنجی چینل سماء سے بات کرتے ہوئے خواجہ آصف نے کہا کہ ’میرا نہیں خیال کہ ہمیں کسی ایسے معاہدے میں شامل ہوں جو ہمارے بنیادی نظریات سے متصادم ہوں۔ اس وقت ہم نے کوئی اقدام لیا ہے نہ کسی نے ہمیں (باضابطہ اس میں شامل ہونے کو) کہا ہے۔ اس وقت بھی غزہ (فائر بندی) معاہدے کی خلاف ورزی ہو رہی ہے، تو ان لوگوں کے ساتھ کیسے بیٹھا جا سکتا ہے جن پر ایک دن کا بھی اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’ہمارا واضح موقف ہے کہ یہ (ابراہم معاہدہ) ہمارے لیے قابل قبول نہیں ہے اور ہم واحد ملک ہیں جس کے پاسپورٹ پر اسرائیل کا نام ہی شامل نہیں ہے۔‘\n\nخواجہ آصف کا یہ بیان صدر ٹرمپ کی سوشل میڈٰیا پوسٹ کے بعد سامنے آیا جس میں انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان، سعودی عرب، قطر، ترکی، مصر، اردن سمت دیگر مسلم ممالک ایران کے ساتھ معاہدے کے بعد ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔\n\n* * *\n\n**باقر قالیباف، عباس عراقچی، ایرانی مرکزی بینک کے صدر سمیت دوحہ پہنچ گئے: ایرانی میڈیا**\n\nایران کے پارلیمنٹ سپیکر محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی امریکہ اور ایران کے درمیان ممکنہ معاہدے اور جنگ بندی سے متعلق مذاکرات کے لیے پیر کو قطر کے دارالحکومت دوحہ پہنچ گئے۔\n\nایرانی خبررساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس دورے کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔\n\nیہ دورہ اُن سفارتی رابطوں کا تسلسل ہے جو گذشتہ ہفتوں میں پاکستان کی ثالثی کے تحت شروع ہوئے تھے تاکہ خطے میں کشیدگی کم کی جا سکے اور جنگ کے خاتمے کی راہ ہموار ہو۔\n\nایرانی وفد دوحہ میں قطری حکام کے ساتھ جنگ بندی اور ممکنہ حتمی معاہدے سے متعلق مختلف امور پر اعلیٰ سطح مشاورت کرے گا۔\n\nایرانی خبر رساں ادارے مہر نیوز نے رپورٹ کیا ہے کہ وفد میں ایران کے مرکزی بینک کے گورنر عبدالناصر ہمتی بھی شامل ہیں، جو ممکنہ معاہدے کے تحت ایران کے منجمد فنڈز کی رہائی سے متعلق معاملات پر بات چیت کریں گے۔\n\n* * *\n\n**پاکستان سمیت مسلم ممالک کم از کم بیک وقت ابراہم معاہدے میں شامل ہوں: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پیر کو ایران کے ساتھ جاری مذاکرات اور مشرق وسطیٰ میں امن کے امکانات کے تناظر میں ابراہم معاہدے کو مزید وسعت دینے کی تجویز دیتے ہوئے پاکستان اور سعودی عرب سمیت خطے کے متعدد مسلم ممالک پر اس میں شامل ہونے پر زور دیا ہے۔\n\nٹروتھ سوشل پر جاری بیان میں ٹرمپ نے لکھا: ’ایران کے ساتھ مذاکرات نہایت اچھے انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں، یہ صرف ایک عظیم معاہدہ ہوگا جو سب کے لیے فائدہ مند ہوگا، یا پھر کوئی معاہدہ نہیں ہوگا اور اس صورت میں دوبارہ جنگی محاذ اور لڑائی کی طرف جانا پڑے گا، جو پہلے سے کہیں زیادہ بڑی اور سخت ہوگی اور کوئی بھی ایسا نہیں چاہتا۔‘\n\nانہوں نے مزید لکھا: ’میں نے ہفتے کے روز سعودی عرب کے ولی عہد محمد بن سلمان آل سعود، متحدہ عرب امارات کے محمد بن زید آل نہیان، قطر کے امیر تمیم بن حمد بن خلیفہ آل ثانی، وزیر اعظم محمد بن عبدالرحمن بن جاسم بن جابر آل ثانی اور وزیر علی الثوادی، پاکستان کے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان، مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی، اردن کے شاہ عبداللہ دوم اور بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ آل خلیفہ کے ساتھ گفتگو کے دوران کہا کہ امریکہ کی جانب سے اس انتہائی پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کی کوششوں کے بعد یہ لازمی ہونا چاہیے کہ یہ تمام ممالک کم از کم بیک وقت ابراہم معاہدے میں شامل ہوں۔‘\n\nصدر ٹرمپ نے لکھا: ’جن ممالک کا ذکر ہوا ان میں سعودی عرب، قطر، پاکستان، ترکی، مصر، اردن اور متحدہ عرب امارات اور بحرین (دونوں ملک جو پہلے ہی رکن ہے) شامل ہیں۔ ممکن ہے کہ ایک یا دو ممالک کے پاس اس میں شامل نہ ہونے کی کوئی وجہ ہو، اور اسے قبول کیا جا سکتا ہے، لیکن زیادہ تر ممالک کو اس معاہدے کے لیے تیار ہونا چاہیے تاکہ ایران کے ساتھ یہ معاملہ ایک تاریخی موقع بن جائے۔‘\n\n’یہ عمل سعودی عرب اور قطر کی فوری شمولیت سے شروع ہونا چاہیے، اور باقی سب کو بھی اس کی پیروی کرنی چاہیے۔‘\n\nانہوں نے دعویٰ کیا کہ ان معاہدوں میں شامل ممالک کو معاشی، سماجی اور مالی فوائد حاصل ہوئے ہیں اور ان کی توسیع سے مشرق وسطیٰ میں ’امن، طاقت اور استحکام‘ کو فروغ مل سکتا ہے۔\n\nٹرمپ نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ اگر ایران امریکہ کے ساتھ کسی معاہدے پر پہنچتا ہے تو اسے بھی اس وسیع تر علاقائی فریم ورک کا حصہ بنایا جا سکتا ہے، جس سے خطے میں ایک ’غیر معمولی اتحاد‘ قائم ہو سکتا ہے۔\n\n* * *\n\n**امریکہ ایران بحران میں پاکستان کی ثالثی کی حمایت پر چین کے شکر گزار ہیں: شہباز شریف**\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو امریکہ ایران بحران میں پاکستان کی ثالثی کی کوششوں کی حمایت پر چینی صدر شی جن پنگ اور بیجنگ کی قیادت کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ سفارت کاری کے نتیجے میں خطے میں امن کی بحالی کی جانب نمایاں پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nپاکستان نے حالیہ مہینوں میں اپنی سفارتی کوششوں کو چین کے ساتھ مزید ہم آہنگ کیا ہے، جو فروری میں امریکہ اور اسرائیل کے ایران پر حملوں کے بعد تہران اور واشنگٹن کے درمیان کشیدگی کے تناظر میں اسلام آباد کی ثالثی کوششوں کا ایک اہم حامی بن کر سامنے آیا ہے۔\n\nاس بحران نے آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کو متاثر کیا ہے، جو ایک اہم بحری گزرگاہ ہے جہاں سے دنیا کی تقریباً پانچویں حصے کے برابر تیل اور گیس کی ترسیل ہوتی ہے اور چین یہاں سے ایندھن خریدنے والا سب سے بڑا ملک ہے۔\n\nپاکستان اور چین نے جنگ کے خاتمے کے لیے مشترکہ طور پر پانچ نکاتی امن تجویز پیش کی ہے جس میں جنگ بندی، مذاکرات، شہری اور جوہری تنصیبات کا تحفظ، آبنائے ہرمز میں محفوظ جہاز رانی اور اقوام متحدہ کے چارٹر کی پاسداری شامل ہے۔\n\nوزیر اعظم شہباز شریف نے بیجنگ میں چینی ہم منصب لی چیانگ کے ساتھ ملاقات میں کہا کہ ’دنیا اس وقت ایک نہایت نازک مرحلے سے گزر رہی ہے۔ خلیج میں بحران ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے نہایت مخلصانہ کردار ادا کیا ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’میں صدر شی جن پنگ اور چینی قیادت کا امن کے فروغ کے لیے پاکستان کی بھرپور حمایت پر شکریہ ادا کرتا ہوں۔\n\n* * *\n\n**امریکہ - ایران معاہدے پر معاملات آگے بڑھ رہے ہیں: پاکستان**\n\nوزیراعظم شہباز شریف نے پیر کو امید ظاہر کی کہ ’امریکہ اور ایران کی جنگ کے خاتمے کے لیے معاملات درست سمت میں آگے بڑھ رہے ہیں۔‘\n\nچین کے گریٹ ہال آف دی پیپل میں خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم نے کہا کہ خلیجی خطہ اس جنگ کے باعث بحران کا شکار ہے اور پاکستان نے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی کے لیے ’مخلصانہ کردار‘ ادا کیا ہے۔\n\nانہوں نے اس حوالے سے فیلڈ مارشل عاصم منیر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ وہ دونوں جانب کی قیادت سے مسلسل رابطے میں رہے ہیں۔\n\nوزیراعظم نے کہا ’ہم امید اور دعا کرتے ہیں کہ امن بحال ہو گا اور اس سلسلے میں کافی پیش رفت ہو چکی ہے؛ معاملات درست سمت میں جا رہے ہیں۔‘\n\nانہوں نے پاکستان کی ثالثی کی کوششوں پر چین کی قیادت کا شکریہ بھی ادا کیا۔\n\n’ہمیں واقعی ایک ساتھ ہونا ہوگا تاکہ دنیا میں امن قائم ہو اور معمول کی سرگرمیاں بحال ہوں کیونکہ یہ بحران نہ صرف خطے کی معیشت بلکہ عالمی برادری کو بھی متاثر کر رہا ہے۔‘\n\n**’فوری معاہدے کی توقع نہیں کرنی چاہیے‘**\n\nایران نے کہا ہے کہ ممکنہ معاہدے پر تہران اور واشنگٹن کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق رائے ہو چکا ہے، تاہم کسی فوری معاہدے کی توقع نہیں کی جانی چاہیے۔\n\nایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا ’یہ کہنا درست ہے کہ زیر بحث کئی اہم امور پر ہم ایک نتیجے تک پہنچ چکے ہیں۔‘\n\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق انہوں نے واضح کیا ’یہ کہنا کہ معاہدے پر دستخط قریب ہیں، ایسی بات کا اس وقت کوئی دعویٰ نہیں کیا جا سکتا۔‘\n\n\nاسماعیل بقائی نے امریکہ پر مؤقف تبدیل کرنے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا کہ واشنگٹن مذاکرات کے دوران اپنی پوزیشن بار بار بدل رہا ہے، جس سے پیش رفت متاثر ہو رہی ہے۔\n\n**معاہدہ آج ہو سکتا ہے: روبیو**\n\nاس سے قبل امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے کے لیے معاہدہ ’آج‘ طے پا سکتا ہے۔\n\nخبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق ممکنہ معاہدے کے حوالے سے نئی دہلی میں گفتگو کرتے ہوئے روبیو نے کہا ’ہمیں لگا تھا شاید گذشتہ رات کچھ خبر مل جائے، ممکن ہے آج مل جائے لیکن میں اس پر زیادہ کچھ نہیں کہوں گا۔‘\n\nانہوں نے انڈین دارالحکومت سے روانگی کے موقعے پر صحافیوں سے گفتگو میں کہا ’آبنائے ہرمز کو کھلوانے اور اسے دوبارہ بحال کرنے کے حوالے سے ہمارے پاس ایک کافی مضبوط تجویز موجود ہے۔‘\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 25 مئی، 2026 کو نئی دہلی میں ایئرپورٹ پر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nروبیو نے کہا ’اسے (تجویز) خلیجی ممالک کی بھرپور حمایت حاصل ہے۔ ہم نے جس بھی ملک کے ساتھ اس پر بات کی، سب سمجھتے ہیں کہ یہ نہ صرف بہت معقول ہے بلکہ دنیا کے لیے درست قدم بھی ہے۔‘\n\nانہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ ایران جوہری معاملے پر ’حقیقی، اہم اور وقت کی حد کے ساتھ مذاکرات‘ میں شامل ہو گا۔\n\nانہوں نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے بارے میں کہا ’وہ جلدی میں نہیں ہیں، وہ کوئی برا معاہدہ نہیں کریں گے اور صدر بھی کوئی خراب معاہدہ نہیں کریں گے۔‘\n\n**معاہدے کے بارے میں ’نہ کوئی جانتا ہے، نہ کسی نے دیکھا‘**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا کہنا ہے کہ ایران سے ممکنہ معاہدے کے بارے میں ’نہ کوئی جانتا ہے نہ کسی نے دیکھا ہے۔‘\n\nاپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر ایک بیان میں انہوں نے کہا ’اگر میں ایران کے ساتھ کوئی معاہدہ کرتا ہوں تو وہ ایک اچھا اور مناسب معاہدہ ہو گا۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ ’اوباما کے کیے گئے معاہدے جیسا نہیں، جس نے ایران کو بھاری مقدار میں نقد رقم دی اور اسے جوہری ہتھیار تک پہنچنے کے لیے ایک واضح اور کھلا راستہ فراہم کیا۔‘\n\nامریکی صدر نے انکشاف کیا کہ ’ہمارا معاہدہ اس کے بالکل برعکس ہے لیکن کسی نے اسے دیکھا نہیں اور نہ ہی کوئی جانتا ہے کہ وہ کیا ہے۔ یہ ابھی مکمل طور پر طے بھی نہیں پایا۔\n\n’لہٰذا ان ہارنے والوں کی بات نہ سنیں جو ایک ایسی چیز پر تنقید کر رہے ہیں جس کے بارے میں وہ کچھ نہیں جانتے۔‘\n\nٹرمپ نے گذشتہ امریکی صدور اور انتظامیہ کا حوالہ دیتا ہوئے کہا کہ ’مجھ سے پہلے جو لوگ تھے، انہیں یہ مسئلہ کئی سال پہلے حل کر لینا چاہیے تھا، لیکن میں خراب معاہدے نہیں کرتا۔‘\n\nامریکہ\n\nایران\n\nایران جنگ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایرانی خبررساں ادارے ارنا نے رپورٹ کیا ہے کہ اس دورے کا مقصد امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے ایران پر مسلط کی گئی جنگ کے خاتمے کے لیے جاری سفارتی کوششوں کو آگے بڑھانا ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 17:00\n\nMain image:\n\n> <p>ایرانی پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف اور ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی 23 فروری 2026 کو بیروت پہنچ تھے (فائل فوٹو: مہر نیوز)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nمذاکرات منظم اور تعمیری انداز میں آگے بڑھ رہے ہیں: صدر ٹرمپ\n\nامید ہے پاکستان جلد امریکہ – ایران مذاکرات کی میزبانی کرے گا: شہباز شریف\n\nایران امریکہ مذاکرات یا ’تاروف‘\n\nSEO Title:\n\nباقر قالیباف، عباس عراقچی، ایرانی مرکزی بینک کے صدر سمیت دوحہ پہنچ گئے: ایرانی میڈیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "باقر قالیباف، عباس عراقچی، ایرانی مرکزی بینک کے صدر سمیت دوحہ پہنچ گئے: ایرانی میڈیا"
}