{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihylpzkaaeihyhf2semjwgvvqlr4o2wlxnedt3bthjzd4tmodmf3m",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmpdogbddlo2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreienqovxvnkqzfhcyjzb7xcvey6yugctygsytiblkpuyspsmrsxm6m"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 96942
  },
  "path": "/node/186043",
  "publishedAt": "2026-05-25T16:33:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "تھائی لینڈ",
    "ایبولا وبا",
    "عالمی ادارہ صحت",
    "کانگو",
    "یوگنڈا",
    "نمیتا سنگھ",
    "صحت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**تھائی لینڈ نے ڈیموکریٹک ریپبلک آف کانگو اور یوگنڈا سے آنے والے افراد کے لیے ایبولا کی سخت سکریننگ کے اقدامات نافذ کر دیے ہیں اور اعلان کیا ہے کہ علامات ظاہر نہ ہونے والے مسافروں کو بھی 21 دن کے لازمی قرنطینہ میں رکھا جائے گا۔**\n\nیہ اقدامات عالمی ادارہ صحت کی جانب سے 17 مئی کو اس اعلان کے بعد کیے گئے ہیں جس میں کہا گیا تھا کہ ایبولا کا ’بنڈی بُگیو‘ نامی سٹرین، جس کے لیے ابھی تک کوئی منظور شدہ ویکسین یا علاج موجود نہیں، عالمی سطح پر صحت کے لیے ایک ہنگامی خطرہ ہے۔\n\nاس کے بعد تھائی لینڈ نے کانگو اور یوگنڈا کو ایبولا سے متاثرہ علاقوں کے طور پر درجہ بند کر دیا ہے اور بیماریوں کے کنٹرول کے محکمے کو مشورہ دینے والی ایک تکنیکی کمیٹی نے ان دونوں افریقی ممالک سے آنے والے غیر علامتی افراد کے لیے بھی قرنطینہ کی سفارش کی ہے۔\n\nدی نیشن کی رپورٹ کے مطابق محکمے کے ڈائریکٹر ڈاکٹر مونٹین کناسوادسے نے کہا کہ کانگو میں پھیلنے والا یہ مرض مزید شدت اختیار کر رہا ہے، جس کے باعث کئی ممالک نے اپنی نگرانی کے نظام کو سخت کر دیا ہے، خاص طور پر زیادہ خطرے والے علاقوں سے آنے والے مسافروں کے لیے۔\n\nعالمی ادارہ صحت کے سربراہ ڈاکٹر ٹیڈروس ادھانوم گیبرییسس کے مطابق کانگو میں اب تک 900 سے زائد مشتبہ کیسز سامنے آ چکے ہیں جبکہ 101 کیسز کی تصدیق ہو چکی ہے۔\n\n22 مئی تک تھائی لینڈ میں یوگنڈا سے آٹھ اور کانگو سے دو افراد کی آمد ریکارڈ کی گئی۔ یہ تمام افراد کسی علامت کے بغیر تھے، تاہم احتیاطی تدابیر کے طور پر انہیں 21 دن کے قرنطینہ میں رکھا گیا۔\n\nدوسری جانب کانگو میں ریڈ کراس کے تین رضاکار ایبولا وائرس کا شکار ہو جان سے گئے، غالباً یہ انفیکشن متاثرہ لاشوں کو سنبھالنے کے دوران ہوا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیہ افراد اس وبا کے ابتدائی معلوم متاثرین میں شامل ہیں۔ ان کی شناخت اجیکو چندیرو ویوین، سیزابو کتانابو اور الیکانا اڈوموسی آگسٹین کے ناموں سے ہوئی ہے۔\n\nانٹرنیشنل فیڈریشن آف ریڈ کراس اینڈ ریڈ کریسنٹ سوسائٹیز کے مطابق یہ رضاکار مارچ میں ایک انسانی ہمدردی مشن کے دوران، جو ایبولا سے متعلق نہیں تھا، لاشوں کے انتظام کے دوران وائرس سے متاثر ہوئے۔ اس وقت وائرس کا یہ نیا پھیلاؤ ابھی تک شناخت نہیں ہوا تھا۔\n\nیہ رضاکار شمال مشرقی کانگو کے ایتوری صوبے میں کام کر رہے تھے اور بالترتیب پانچ، 15 اور 16 مئی کو موت کے منہ میں چلے گئے۔\n\nتنظیم نے کہا: ’یہ رضاکار اپنی کمیونٹیز کی خدمت کرتے ہوئے جرات اور انسانیت کے جذبے کے ساتھ اپنی جانیں گنوا بیٹھے۔‘\n\nایبولا سے موت کا شکار ہونے والے متاثرین کی لاشیں بھی انتہائی پھیلاؤ کا باعث بنتی ہیں اور غیر محفوظ تدفین، جہاں اہل خانہ بغیر حفاظتی انتظامات کے لاش کو سنبھالتے ہیں، اس بیماری کے پھیلاؤ کی ایک بڑی وجہ ہے۔\n\nریڈ کراس کے مطابق اس کے اہلکار عملی سطح پر اس عمل کو روکنے کے لیے کام کر رہے ہیں اور رضاکار اب گھر گھر جا کر لوگوں کو ایبولا سے متعلق غلط معلومات سے آگاہ کر رہے ہیں تاکہ وبا کے پھیلاؤ کو روکا جا سکے۔\n\nتھائی لینڈ\n\nایبولا وبا\n\nعالمی ادارہ صحت\n\nکانگو\n\nیوگنڈا\n\nیہ اقدام عالمی ادارہ صحت کی جانب سے ایبولا کے خطرناک سٹرین کو عالمی ہنگامی خطرہ قرار دینے کے بعد کیا گیا۔\n\nنمیتا سنگھ\n\nسوموار, مئی 25, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p>تھائی لینڈ کے دارالحکومت بنکاک کے ایئرپورٹ پر 22 اگست کو مسافروں کی سکریننگ کی جا رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nافریقہ میں ایبولا کی وبا: ڈبلیو ایچ او نے عالمی ایمرجنسی کا اعلان کر دیا\n\nتاریخ کی دوسری بدترین ایبولا وبا میں ایک ہزار سے زائد افراد ہلاک\n\nامریکہ میں ہانتا وائرس سے ایک شخص کی موت: حکام\n\nہانتا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہے؟\n\nSEO Title:\n\nتھائی لینڈ: ایبولا کے خدشے پر بغیر علامات والے مسافروں کے لیے بھی قرنطینہ لازمی\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/asia/southeast-asia/thailand-ebola-outbreak-congo-uganda-b2982963.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "تھائی لینڈ: ایبولا کے خدشے پر بغیر علامات والے مسافروں کے لیے بھی قرنطینہ لازمی"
}