{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreie72qeulik3efunrl7xinn2ciex4pndpedehlh525cln6dnkmmuza",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmmirtrfewd2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihqeppeg2eyh3qcbpq2eytdmakgb7eaauvgikseqkh5ygkk4nk3ke"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 76534
},
"path": "/node/186035",
"publishedAt": "2026-05-24T16:29:39.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"بلوچستان",
"گوادر",
"اغوا",
"بازیابی",
"مستونگ",
"محمد عیسیٰ",
"پاکستان",
"news"
],
"textContent": "**دس روز قبل کوئٹہ کراچی قومی شاہراہ پر مستونگ کے مقام سے مبینہ طور پر اغوا ہونے والے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرووائس چانسلر سمیت چاروں اہلکار اتوار کو بازیاب ہو کر گھر پہنچ گئے۔**\n\nحکومت بلوچستان کے محکمہ داخلہ بلوچستان کے معاون بابر یوسفزئی نے مغویوں کی بازیابی کی تصدیق کر دی اور انڈیپنڈنٹ اردو کو بتایا کہ وائس چانسلر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر اور پرووائس چانسلر ڈاکٹر سید منظور احمد اور دیگر اہلکار گوادر سے کوئٹہ آتے ہوئے لاپتہ ہوئے تھے۔ شبہ ظاہر کیا جا رہا تھا کہ چاروں افراد کو اغوا کیا گیا تھا۔\n\nلاپتہ ہونے والے دیگر اہلکاروں میں پرسنل سٹاف آفیسر ڈاکٹر ارشاد بلیدی اور ڈرائیور حاتم بدل شامل تھے۔ مستونگ پولیس کے مطابق چاروں اہلکار ضلع مستونگ سے ہی بازیاب ہو گئے۔\n\nوائس چانسلر اتوار کی شام اپنے گھر پہنچ گئے۔ خاندانی ذرائع نے بھی تصدیق کرتے ہوئے بتایا کہ بازیاب ہونے والے افراد صحت مند ہیں تاہم ان کا کہنا تھا کہ فی الحال وہ کسی قسم کی گفتگو کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہیں۔\n\nاس سے قبل 14 مئی کو صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان نے جمعرات کو بتایا تھا کہ ساحلی شہر گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرووائس چانسلر سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے بدھ کی رات دیر گئے مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ سے اغوا کر لیا تھا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپروفیسر ڈاکٹر عبدالرزاق صابر کو حکومت بلوچستان نے 25 اکتوبر 2021 کو یونیورسٹی آف گوادر کا پہلا وائس چانسلر مقرر کیا تھا۔\n\nانہوں نے 29 اکتوبر 2021 کو عہدے کا چارج سنبھالا تھا اور وہ چار سال سے وائس چانسلر کے عہدے پر تعینات ہیں۔\n\nگوادر میں جنوری 2017 میں یونیورسٹی آف تربت کے سب کیمپس کے طور پر تعلیمی سرگرمیاں شروع ہوئیں اور 25 اکتوبر 2021 کو یہ مکمل خودمختار یونیورسٹی بن گئی۔\n\nاس وقت یونیورسٹی میں 2000 طلبا زیر تعلیم ہیں اور یونیورسٹی آف گوادر میں دو فیکلٹیز کام کر رہی ہیں جن میں فیکلٹی آف مینیجمنٹ سائنسز، کامرس اینڈ سوشل سائنسز اور فیکلٹی آف سائنسز، انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی شامل ہیں۔\n\nبلوچستان\n\nگوادر\n\nاغوا\n\nبازیابی\n\nمستونگ\n\nدس روز قبل مبینہ طور پر اغوا ہونے والے گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر، پرووائس چانسلر اور دیگر دو اہلکار مستونگ سے بازیاب ہو کر اپنے گھروں کو پہنچ گئے ہیں۔ حکام نے بازیابی کی تصدیق کر دی ہے۔\n\nمحمد عیسیٰ\n\nاتوار, مئی 24, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p>صوبائی وزارت داخلہ کے ترجمان کے مطابق گوادر کی یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور پرو وائس چانسلر سمیت چار افراد کو مسلح افراد نے جمعرات کو مستونگ کے قریب کھڈ کوچہ سے اغوا کر لیا تھا (تصویر: یونیورسٹی آف گوادر)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر سمیت چار افراد اغوا: ترجمان صوبائی وزارت داخلہ\n\nمستونگ میں حملہ، میجر سمیت تین اہلکار جان سے گئے: فوج\n\nخضدار میں نامعلوم مسلح افراد نے 18 مزدور اغوا کر لیے: پولیس\n\nبس سے اغوا کیے گئے بیشتر مسافر بازیاب: گھوٹکی پولیس\n\nSEO Title:\n\nگوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر چار اہلکار مستونگ سے بازیاب: محکمہ داخلہ بلوچستان\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "گوادر یونیورسٹی کے وائس چانسلر اور دیگر چار اہلکار مستونگ سے بازیاب: محکمہ داخلہ بلوچستان"
}