{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreignrynqcaxngvnexoaki2hfdorndketooi3egs3p7l26lrlcudca4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmm7hg6twu72"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig2ikrpowgmibwise5afrcemh5ddc7z5c3nxxyqmq5r4ykajkuxbq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 114150
},
"path": "/node/186033",
"publishedAt": "2026-05-24T13:23:14.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"یران جنگ",
"امریکہ",
"پاکستان",
"ثالثی",
"انڈیا",
"جے شنکر",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر نے اتوار کو پاکستان کے ابھرتے ہوئے ثالثی کردار پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ امریکہ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے شراکت دار خود منتخب کرے۔**\n\nنئی دہلی میں امریکی وزیر خارجہ مارک روبیو کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں جب ایک صحافی نے انڈین وزیر خارجہ سے امریکہ اور ایران کے درمیان ثالثی پر پاکستانی کردار کے بارے انڈیا کو اعتراض ہے؟ تو انہوں نے کہا کہ ’شراکت داری پر یہ امریکہ کا فیصلہ ہے‘، لیکن اس معاملے سمیت دیگر امور پر انڈیا اور امریکہ کے درمیان اختلافات ہو سکتے ہیں۔\n\nاے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق جے شنکر نے کہا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنی خارجہ پالیسی میں واضح طور پر ’امریکہ فرسٹ‘ کا مؤقف اپنایا تھا، جبکہ انڈیا بھی ’انڈیا فرسٹ‘ کے اصول پر عمل کرتا ہے۔\n\nانڈین وزیر خارجہ کا یہ بیان اس وقت سامنے آیا جب پاکستان ایران اور امریکہ کے درمیان مستقل جنگ بندی کے لیے ثالثی کی کوششوں میں مصروف ہے اور امریکی اور ایرانی قیادت بارہا پاکستان کے اس کردار کی تعریف کر چکے ہیں۔\n\nپاکستان کے وزیراعظم شہباز شریف نے اتوار کو ایکس پر جاری ایک بیان میں امید ظاہر کی ہے کہ پاکستان جلد امریکہ اور ایران کے درمیان مذکرات کے اگلے دور کی میزبانی کرے گا۔\n\nپاکستان کے وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی اتوار کو کہا کہ مذاکرات میں ’بامعنی پیش رفت‘ ہوئی ہے، جس سے اس امید کو تقویت ملتی ہے کہ ایک مثبت اور پائیدار نتیجہ جلد حاصل کر لیا جائے گا۔\n\n**ایران کے ساتھ ’نمایاں‘ پیش رفت ہوئی ہے: روبیو**\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے اتوار کو کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو بغیر ٹول کے کھولنے کے لیے ایک ’خاکے‘ پر پیش رفت ہوئی ہے، تاہم اس کے لیے ایران کی مکمل منظوری اور پھر عمل درآمد ضروری ہوگا۔\n\nکواڈ اجلاس میں شرکت کرنے والے روبیو نے انڈیا کے دارالحکومت نئی دہلی میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان جاری بالواسطہ مذاکرات، جن میں پاکستان ثالث کا کردار ادا کر رہا ہے، میں پیش رفت ہوئی ہے جو نمایاں ہے مگر حتمی نہیں۔\n\nروبیو نے آبنائے ہرمز کے حوالے سے کہا کہ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے اور کسی ایک ملک کی ملکیت نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے سفارتی حل پر زور دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ نے خلیجی خطے کے شراکت داروں کے ساتھ گزشتہ 48 گھنٹوں میں ایک خاکے پر پیش رفت کی ہے۔ ان کے مطابق اگر یہ منصوبہ کامیاب ہوا تو نہ صرف آبنائے ہرمز مکمل طور پر کھل سکتی ہے بلکہ اس پر کسی قسم کا ٹول بھی نہیں ہوگا، اور ساتھ ہی ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق بنیادی خدشات کو بھی حل کیا جا سکے گا۔\n\nروبیو نے واضح کیا کہ اس کے لیے ایران کی مکمل منظوری اور عملی اقدامات ضروری ہوں گے، جبکہ تفصیلات طے کرنے کے لیے مزید مذاکرات بھی درکار ہوں گے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ہفتے کی رات پاکستان سمیت خطے کے رہنماؤں سے ٹیلیفون پر بات چیت کی، جس میں ایران کے ساتھ جاری مذاکرات پر تبادلہ خیال کیا گیا۔ ٹرمپ کے مطابق معاہدہ بڑی حد تک طے پا چکا ہے اور اب حتمی شکل دیے جانے کا منتظر ہے۔\n\nروبیو نے کہا کہ امریکہ کا بنیادی مقصد یہ ہے کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار حاصل نہ کر سکے۔ ان کے مطابق ایران کا جوہری پروگرام ایک پیچیدہ اور تکنیکی معاملہ ہے، جسے حل کرنے میں وقت لگ سکتا ہے۔\n\nانہوں نے کہا کہ امریکہ کی ترجیح اس مسئلے کو سفارتی طریقے سے حل کرنا ہے اور اسی پر کام جاری ہے۔\n\nروبیو نے امید ظاہر کی کہ آئندہ چند گھنٹوں میں دنیا کو خاص طور پر آبنائے ہرمز کے حوالے سے اچھی خبر مل سکتی ہے، تاہم انہوں نے دوبارہ واضح کیا کہ اب تک پیش رفت اہم ہے مگر حتمی نہیں۔\n\nیران جنگ\n\nامریکہ\n\nپاکستان\n\nثالثی\n\nانڈیا\n\nجے شنکر\n\nجب کہ مارک روبیو نے کہا امریکہ اور ایران کے درمیان پاکستان کی ثالثی میں جاری بالواسطہ مذاکرات میں ’نمایاں‘ پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nاتوار, مئی 24, 2026 - 18:15\n\nMain image:\n\n> <p>انڈیا کے وزیر خارجہ سبرامنیم جے شنکر اور امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 24 مئی 2026 کو نئی دہلی میں حیدرآباد ہاؤس میں ملاقات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس سے خطاب کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nسعودی عرب کا ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم، پاکستانی ثالثی کی تعریف\n\nامریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششیں جاری: فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے\n\n’پاکستانی ثالثی میں امریکہ سے 14 نکاتی متن پر مذاکرات جاری‘\n\nپاکستان نے بطور ثالث شاندار کردار ادا کیا: صدر ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nشراکت دار چننا امریکہ کا فیصلہ ہے: پاکستانی ثالثی کے سوال پر جے شنکر کا جواب\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "شراکت دار چننا امریکہ کا فیصلہ ہے: پاکستانی ثالثی کے سوال پر جے شنکر کا جواب"
}