{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigytfsij7nc36wi56t746oylwo77ydpthcva3cvxm254ajgjeyefm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmlweikmdhv2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreih3p6uuscdsamhulifig5g3xw6z4uhzb5wfuhmdrw7mszpwcof3mu"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 112553
  },
  "path": "/node/186032",
  "publishedAt": "2026-05-24T11:32:10.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "عید الاضحیٰ",
    "مویشی",
    "قیمتیں",
    "کاروبار",
    "پاک افغان سرحد",
    "طورخم",
    "پشاور",
    "لائبہ حُسن",
    "معیشت",
    "video"
  ],
  "textContent": "**طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس سال خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں کی روایتی رونق اور کاروباری توازن کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔**\n\nبڑے جانوروں کی تعداد بڑھنے اور افغانستان منتقلی رکنے کے باعث منڈیوں میں جانور تو زیادہ ہیں، لیکن خریدار کم دکھائی دے رہے ہیں، جبکہ دوسری جانب افغانستان سے آنے والے چھوٹے جانوروں کی سپلائی متاثر ہونے سے ان کی قیمتوں میں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے۔\n\nپشاور شہر کی مختلف مویشی منڈیوں سمیت رنگ روڈ منڈی میں اس بار بڑے جانور تو وافر مقدار میں موجود ہیں، لیکن منڈیوں میں خریداروں کی تعداد ماضی کے مقابلے میں کم دکھائی دے رہی ہے۔ دوسری جانب چھوٹے جانوروں کی محدود دستیابی اور بڑھتی قیمتوں نے کئی شہریوں کو پریشان کر رکھا ہے۔\n\nبیوپاریوں کے مطابق اس صورتحال کی ایک بڑی وجہ پاک افغان سرحد طورخم کی بندش ہے، جس کے باعث خیبر پختونخوا سے بڑے جانور افغانستان منتقل نہیں ہو پا رہے جبکہ افغانستان سے آنے والے چھوٹے جانوروں کی سپلائی بھی متاثر ہوئی ہے۔\n\nبڑے جانوروں کے بیوپاری مولانا توقیر مغل نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ طورخم بارڈر بند ہونے کے باوجود انہوں نے اس سال قیمتیں گذشتہ برس کے مطابق رکھی ہیں کیونکہ بیوپاری پہلے ہی چارے اور ٹرانسپورٹ کے بڑھتے اخراجات برداشت کر رہے ہیں۔\n\nطورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس سال خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں کی روایتی رونق اور کاروباری توازن کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے (لائبہ/انڈپینڈنٹ اردو)\n\n\n\n\nان کے مطابق اگر بارڈر مسلسل بند رہا تو عید کے آخری دنوں میں بڑے جانوروں کی قیمتوں میں کمی آ سکتی ہے کیونکہ منڈی میں جانوروں کی تعداد زیادہ ہے۔\n\nمولانا توقیر مغل نے بتایا کہ اس وقت تین من وزنی بڑے جانور کی قیمت تقریباً تین لاکھ 20 ہزار روپے سے شروع ہو رہی ہے۔\n\nدوسری جانب منڈی میں آنے والے خریدار عابد احمد کے مطابق جانور زیادہ ہونے کے باوجود قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی۔\n\nانہوں نے بتایا کہ گذشتہ سال انہوں نے تین لاکھ روپے میں قربانی کے لیے بیل خریدا تھا، لیکن اس سال ان کا بجٹ کم ہے جبکہ قیمتیں اب بھی زیادہ محسوس ہو رہی ہیں۔\n\nعابد احمد کے مطابق بہت سے خریدار اب اجتماعی قربانی یا نسبتاً کم قیمت جانور خریدنے کو ترجیح دے رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلائیو سٹاک ڈیپارٹمنٹ نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ سال 2024 میں خیبر پختونخوا کی مختلف منڈیوں میں تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ جانور موجود تھے، تاہم سال 2025 اور 2026 کے حوالے سے تازہ اعدادوشمار تاحال جاری نہیں کیے گئے۔\n\nمحکمے کے مطابق سرحدی نقل و حرکت متاثر ہونے سے منڈیوں کے رجحانات اور سپلائی کے نظام پر اثر پڑا ہے۔\n\nادھر چھوٹے جانوروں کی منڈی میں ڈیرہ غازی خان سے آئے بیوپاری تنویر عباس نے بتایا کہ دمبے بڑی مقدار میں افغانستان سے آتے تھے، لیکن اس سال سپلائی متاثر ہونے سے صورتحال مختلف ہو گئی ہے۔\n\nانہوں نے بتایا کہ اس عید پر ان کے پاس فروخت کے لیے صرف 50 دمبے موجود ہیں، جن کی قیمت ایک لاکھ 80 ہزار روپے سے دو لاکھ روپے سے زائد تک ہے۔\n\nتنویر عباس کے مطابق انہوں نے دمبے مہنگے داموں خریدے تھے، تاہم بارڈر کی غیر یقینی صورتحال اور کم خریداروں کے باعث اس بار منافع کے بجائے نقصان کا خدشہ بڑھ گیا ہے۔\n\nعیدالاضحیٰ سے قبل خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں میں اس سال بارڈر بندش، مہنگائی اور کمزور قوتِ خرید کے اثرات ایک ساتھ دکھائی دے رہے ہیں، جہاں خریدار اور بیوپاری دونوں بدلتی صورتحال کے مطابق فیصلے کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔\n\nعید الاضحیٰ\n\nمویشی\n\nقیمتیں\n\nکاروبار\n\nپاک افغان سرحد\n\nطورخم\n\nپشاور\n\nطورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس سال خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں کی روایتی رونق اور کاروباری توازن کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے۔\n\nلائبہ حُسن\n\nاتوار, مئی 24, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p>طورخم بارڈر کی مسلسل بندش نے اس سال خیبر پختونخوا کی مویشی منڈیوں کی روایتی رونق اور کاروباری توازن کو نمایاں طور پر متاثر کیا ہے (لائبہ/انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nمعیشت\n\njw id:\n\ngy09OCLG\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nقربانی کے بکرے خریدتے وقت کن باتوں کا خیال رکھنا چاہیے؟\n\nپاکستان، افغانستان سرحد بندش 100 دن، کن شعبوں کو نقصان پہنچا؟\n\nاسلام آباد: مویشی منڈی میں آن لائن ادائیگی کا رجحان محدود، نقد رقم کو ترجیح\n\nقربانی کے جانوروں کی کھالیں، اعضا، کوئٹہ میں عارضی ذریعہ معاش\n\nSEO Title:\n\nعید الاضحیٰ: افغان بارڈر کی بندش سے مویشیوں کی قیمتوں پر کیا اثر ہوا؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "عید الاضحیٰ: افغان بارڈر کی بندش سے مویشیوں کی قیمتوں پر کیا اثر ہوا؟"
}