{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig3ldcyqtslp3n4efi4sry5ltukc43ik3zlfourhqn5ohklf6bp2a",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmlibhte6l72"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreigknp4lzi4isqdrgcjfhjl3vljjfaafuwpvqo33em45xpqxflwf2y"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 85600
  },
  "path": "/node/186031",
  "publishedAt": "2026-05-24T06:00:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "بگ بیش",
    "ٹی 20",
    "اے ایف پی",
    "کرکٹ",
    "news"
  ],
  "textContent": "**آسٹریلیا کرکٹ کی بگ بیش لیگ (بی بی ایل) اپنی فرنچائزز کی نجکاری کے منصوبے میں تعطل کے بعد مستقبل کے حوالے سے مشکلات کا شکار ہے۔**\n\nکرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ ٹوڈ گرینبرگ بضد ہیں کہ بی بی ایل کے مالی مستقبل کو محفوظ بنانے اور اسی دورانیے (ٹائم سلاٹ) میں کھیلے جانے والی دیگر خطیر سرمائے کی لیگز کے عروج کے ساتھ قدم ملا کر چلنے کے لیے بیرونی سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔\n\nان لیگز میں متحدہ عرب امارات کی ILT20، جنوبی افریقہ کی SA20 اور نیوزی لینڈ کی نجی تعاون سے دسمبر 2027 سے شروع ہونے والی NZ20 شامل ہیں۔\n\nیہ تمام لیگز بہترین مقامی اور غیر ملکی کھلاڑیوں کو اپنے ساتھ جوڑنے کی دوڑ میں شامل ہیں۔\n\nگرینبرگ نے مقامی میڈیا کو بتایا ’اگر آنے والے برسوں میں (دیگر لیگز کے) سیلری کیپ (کھلاڑیوں کے معاوضوں کی حد) ہمارے مقابلے میں زیادہ ہوں گے اور کھلاڑی وہاں زیادہ کما سکیں گے تو ظاہر ہے کھلاڑی اسی طرف جائیں گے۔ یہ ہمارے لیے ایک حقیقی خطرہ ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا ’آسٹریلوی کرکٹ کے لیے ہمارا عزم ایک ایسی لیگ کا انعقاد ہے جو سال کے اہم ترین حصے، یعنی دسمبر اور جنوری کے دوران کھیلی جائے، اور اس مخصوص وقت میں وہ دنیا کی بہترین T20 لیگ ہو۔\n\n’ایسا کرنے کے لیے ہمیں اپنے سیلری کیپس میں خطیر رقم رکھنا ہوگی تاکہ نہ صرف دنیا بھر سے بہترین کھلاڑیوں کو راغب کیا جا سکے بلکہ اپنے بہترین کھلاڑیوں کو بھی برقرار رکھا جا سکے۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا ’کرکٹ میں نجی سرمائے کو لانے کا تصور کسی نہ کسی موڑ پر ناگزیر ہے۔‘\n\nاگرچہ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) ایک مختلف دورانیے میں منعقد ہونے کی وجہ سے بی بی ایل کی براہ راست مدمقابل نہیں، تاہم اس نے فرنچائزز کے امیر مالکان کی بدولت بڑے پیمانے پر کامیابی حاصل کی ہے۔\n\nانگلینڈ کی ’دی ہنڈریڈ‘ بھی نجی سرمائے کی آمد کے بعد کامیابی کی راہ پر گامزن ہے۔\n\nلیکن آسٹریلیا میں یہ ایک انتہائی حساس اور پیچیدہ مسئلہ بن چکا ہے، جہاں بگ بیش لیگ کی آٹھ ٹیموں میں سے ہر ایک کے حصص (سٹیکس) بیچنے کی ابتدائی تجویز پچھلے مہینے اس تشویش کے باعث رک گئی کہ کھیل کے مقامی حکام کا کنٹرول ختم ہو جائے گا۔\n\nجہاں وکٹوریہ، ویسٹرن آسٹریلیا اور تسمانیا کی کرکٹ ایسوسی ایشنز نے اس اقدام کی حمایت کی اور ساؤتھ آسٹریلیا نے کہا کہ وہ اس خیال پر غور کے لیے تیار ہے، وہیں نیو ساؤتھ ویلز اور کوئینزلینڈ نے اس اقدام کو یکسر مسترد کر دیا۔\n\nکوئینزلینڈ کرکٹ نے، جو برسبین ہیٹ کا انتظام سنبھالتی ہے، تشویش ظاہر کی کہ اس سے کھلاڑیوں کے معاوضے ناقابل برداشت حد تک بڑھ جائیں گے اور ممکن ہے نجی مالکان نچلی سطح پر کھیل کی ترقی میں اتنی دلچسپی نہ لیں۔\n\nسڈنی سکسرز اور سڈنی تھنڈر کو چلانے والی کرکٹ نیو ساؤتھ ویلز کو بھی اسی طرح کی تشویش ہے کہ یہ اقدام کھیل کی گورننس اور مقامی کھلاڑیوں کو تیار کرنے کے عمل کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔\n\n**’عارضی فائدہ‘**\n\nاس حوالے سے بی بی ایل کے انڈین سرمایہ کاروں کے قبضے میں جانے کا خوف بھی پایا جاتا ہے کیونکہ سب سے زیادہ ممکنہ خریداروں کے طور پر آئی پی ایل کے امیر ترین مالکان کو دیکھا جا رہا ہے، جنہوں نے دنیا بھر میں دیگر مختصر فارمیٹ کے مقابلوں میں سرمایہ کاری کر رکھی ہے۔\n\nآسٹریلیا کے سابق کپتان گریگ چیپل اس اقدام کے مخالفین میں شامل ہیں۔\n\nان کا استدلال ہے کہ بی بی ایل ان ریاستوں اور کمیونٹیز کی ملکیت ہے جنہوں نے اسے ایک کامیاب اور مقبول ترین برانڈ بنایا۔\n\nتجارتی حقائق کو تسلیم کرتے ہوئے بھی انہوں نے کہا کہ لیگ کو بیچ دینا اس کا حل نہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے سڈنی مارننگ ہیرالڈ میں لکھا ’جس لمحے آپ بڑے پیمانے پر نجی ملکیت متعارف کرواتے ہیں تو آپ ایسی ترجیحات کو شامل کر دیتے ہیں جو کھیل کی طویل مدتی بہتری کے ساتھ مطابقت نہیں رکھتیں۔\n\n’نجی سرمایہ کار، چاہے وہ کتنی ہی اچھی نیت کیوں نہ رکھتے ہوں، آسٹریلوی کرکٹ کی بجائے اپنے شیئر ہولڈرز کو جواب دہ ہوتے ہیں۔‘\n\nکرکٹ آسٹریلیا میں حکمت عملی کے سابق سربراہ اینڈریو جونز، جنہوں نے بی بی ایل کے آغاز میں اہم کردار ادا کیا، وہ بھی اس سے مطمئن نظر نہیں آتے۔\n\nانہوں نے ’دی آسٹریلین‘ اخبار کو بتایا ’ایک بار کی یہ فروخت صرف عارضی فائدہ (شوگر ہٹ) ہے، کوئی مستقل حل نہیں۔‘\n\nانہوں نے دلیل دی کہ سپانسرشپ، بیٹنگ (شرط بازی)، ٹکٹنگ اور خواتین کے کھیل کو کمرشل بنانے پر زیادہ توجہ دے کر آمدنی کو بہتر طریقے سے بڑھایا جا سکتا ہے۔\n\nان شکوک و شبہات کے باوجود گرینبرگ پرامید ہیں اور اب وہ ایک ’ملا جلا ملکیتی ماڈل‘ (ہائبرڈ اونرشپ ماڈل) لانے پر غور کر رہے ہیں۔\n\nیہ ماڈل ان بی بی ایل فرنچائزز کو اپنے حصص بیچنے کی اجازت دے گا جو ایسا کرنے کی خواہش مند ہیں جبکہ مخالفت کرنے والی فرنچائزز کو مکمل ملکیت برقرار رکھنے کا حق حاصل رہے گا۔\n\nانہوں نے کہا ’اگر ہم سب ایک ہی وقت میں ایک ساتھ آگے نہیں بڑھتے تو کیا ہم اب بھی اسی سطح کی آمدنی اور مالیت حاصل کر سکتے ہیں؟\n\n’میرا خیال ہے ہم ایسا کر سکتے ہیں لیکن مجھے ایک ایسی تجویز تیار کرنے کے لیے کام کرنا ہوگا جو بالآخر ممبران اور ہمارے بورڈ کے سامنے پیش کی جا سکے۔‘\n\nبگ بیش\n\nٹی 20\n\nکرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ فرنچائزز کی نیلامی کے حق میں ہیں لیکن بعض فرنچائزز کو اس حوالے سے تشویش لاحق ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nاتوار, مئی 24, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p style=\"direction:rtl\">پرتھ میں چار فروری، 2023 کو پرتھ سکورچرز اور برسبین ہیٹ کے درمیان فائنل میں جاش انگلس شاٹ کھیل رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nکرکٹ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآسٹریلیا میں بگ بیش لیگ اور ایشز میچوں کے لیے اضافی سکیورٹی\n\nکیا کوہلی واقعی بگ بیش لیگ کھیلنے جا رہے ہیں؟\n\nسٹار کرکٹرز کو لانے کے لیے ٹی ٹوئنٹی بگ بیش قوانین میں تبدیلی\n\nبگ بیش لیگ: ’خفیہ معاملے‘ پر افغان کرکٹر برطرف\n\nSEO Title:\n\nبگ بیش کی ٹیمیں نیلام کریں یا نہیں؟ کرکٹ آسٹریلیا بند گلی میں\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "بگ بیش کی ٹیمیں نیلام کریں یا نہیں؟ کرکٹ آسٹریلیا بند گلی میں"
}