{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreifzz634pa6jfruat64dhcdqfztjzucca222y3qwm7d63mt4kp2wsq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmkzoqvohdp2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifgobx5ux3gx3xj4wwrrxp56v52lrg7zxcpfixc62tqapm44gb5ze"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 81714
},
"path": "/node/185980",
"publishedAt": "2026-05-24T01:44:45.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"شی جن پنگ",
"ولادی میر پوتن",
"بیجنگ",
"ماسکو",
"مارک آمنڈ",
"نقطۂ نظر",
"news"
],
"textContent": "**ڈونلڈ ٹرمپ کے دورے کے اتنی جلدی بعد ولادی میر پوتن کی بیجنگ آمد بین الاقوامی تعلقات میں ایک فیصلہ کن موڑ ہے۔**\n\n20 ویں صدی کے نصف آخر کی غالب سپر پاورز کے رہنما واضح طور پر عالمی برتری کی باگ ڈور چین کے حوالے کر رہے ہیں۔ آج کل روسی اور امریکی، دونوں صدور بیجنگ کا دورہ ایسے سائلین کے طور پر کرتے ہیں جو ممنوعہ شہر کے مکین سے حمایت اور توثیق کے طلب گار ہوں۔\n\nایسا لگتا ہے کہ بیجنگ چینی سلطنت کے دارالحکومت کے اپنے روایتی کردار کی جانب لوٹ رہا ہے۔ یہ وہ سورج ہے جس کے گرد دیگر تمام سیارے گردش کرتے ہیں۔ چین کی خواہش ہے کہ یوکرین اور ایران میں جنگیں ختم ہوں۔\n\nوہ روس اور یوکرین کے راستے یورپ تک زمینی ریلوے روابط کو دوبارہ کھولنا چاہتا ہے۔\n\nاس صورت کے پیشِ نظر کہ کہیں ٹرمپ کے بعد امریکہ کے ساتھ تعلقات خراب نہ ہو جائیں۔ شی، کریملن اور کیئف کے درمیان اس تصفیے میں ثالثی کر سکتے ہیں جہاں ٹرمپ بری طرح ناکام رہے تھے۔\n\nیہی وجہ ہے کہ بیجنگ سے آنے والے ہر اشارے کا بغور جائزہ لیا جاتا ہے۔ آج صبح فنانشل ٹائمز نے شی کی جانب سے ٹرمپ سے بے احتیاطی میں کہی گئی اس بات پر رپورٹ دی کہ ولادی میر پوتن کو یوکرین پر اپنے حملے پر ’پچھتانا پڑ سکتا ہے‘، جس نے واقعی صورت حال میں نمایاں تبدیلی پیدا کی ہے، تاہم چین نے اب اس کی تردید کر دی ہے۔\n\nیہ بات تو طے ہے کہ روس یوکرین کی جنگ میں بری طرح پھنس چکا ہے، اور ماسکو کے مشرق میں بھی یوکرین کے بڑھتے ہوئے ڈرون حملے پوتن کے لیے شرمندگی کا باعث بن رہے ہیں۔ امریکہ ایران کے معاملے میں ایک تعطل کا شکار دکھائی دیتا ہے۔\n\nچین میں پوتن کی آمد سے عین قبل ڈونلڈ ٹرمپ کا یہ اعلان کہ وہ خلیجی عرب رہنماؤں کی ’درخواست‘ پر ایران پر دوبارہ بمباری شروع کرنے کو ٹال رہے ہیں۔\n\nشاید محض پردہ پوشی کا ایک بہانہ تھا تاکہ شی اور پوتن کو فوری طور پر اپنا مشترکہ ردعمل دینے پر مجبور ہونے سے بچایا جا سکے۔\n\nشاید ٹرمپ کو امید ہے کہ ایران کے دو بڑے حامی تہران پر اپنا اثر و رسوخ استعمال کریں گے تاکہ وہ نئے تنازعے سے بچنے کے لیے رعایتیں دے۔\n\nاس سے بھی اہم بات یہ ہے کہ صدر شی دو دیگر ایٹمی طاقتوں کی عالمی تعاون کی جانب رہنمائی کر رہے ہیں، جس میں وہ نہ صرف عوامی جمہوریہ چین کے سربراہ کے طور پر بلکہ مشرق وسطیٰ کے لیے ڈونلڈ ٹرمپ کے ’بورڈ آف پیس‘ کی ایک زیادہ مضبوط شکل کے سربراہ کے طور پر بھی صدارت کر رہے ہیں۔\n\nچین نام نہاد ’تھوسیڈائڈز ٹریپ‘ سے بچنا چاہتا ہے۔ شی جن پنگ نے ایک ابھرتی ہوئی طاقت اور ایک مسلّمہ طاقت کے درمیان بڑی جنگ کے بدنام زمانہ قدیم یونانی ماڈل کا حوالہ دیا ہے۔\n\nایتھنز اور سپارٹا کے درمیان جنگ کو اینگلو جرمن رقابتوں کی ایک تشبیہ کے طور پر دیکھا جاتا ہے، جس کی وجہ سے گذشتہ صدی میں دو عالمی جنگیں ہوئیں۔\n\nامریکہ کے اپنے ارادے ہیں۔ ٹرمپ کا مشاہدہ کرنے والے کچھ تجزیہ کاروں نے تو یہ قیاس بھی کیا ہے کہ امریکی صدر یوکرین پر روس کے حملے پر’نرم‘ رہے ہیں کیوں کہ وہ ولادی میر پوتن کو شی کی قربت سے دور کرنے کی امید رکھتے تھے۔\n\nدرحقیقت، ٹرمپ ماسکو اور بیجنگ کے درمیان کشیدگی کا فائدہ اٹھانے کے لیے 1971 کے بعد ماؤ کے چین سے نکسن اور کسنجر کی قربت کے بالکل برعکس کھیل کھیل رہے تھے۔\n\nاس بات کا کہیں زیادہ امکان ہے کہ امریکہ اثر و رسوخ کے دائروں کو تسلیم کر لے۔ روس مشرقی یورپ میں واشنگٹن کی عدم مداخلت کے بدلے براعظم امریکہ میں وینزویلا اور کیوبا جیسے اپنے اتحادیوں سے دستبردار ہو جائے۔ اسی طرح چین کے معاشی مفادات کا بھی احترام کیا جائے۔\n\nاگر ’بگ تھری‘ آپس میں تعاون کرتے ہیں تو نقصان کس کا ہو گا؟\n\nچھوٹے پڑوسیوں کو یقینی طور پر ایک تاریک مستقبل کا سامنا ہے لیکن سب سے بڑا نقصان یورپ کا ہوتا دکھائی دے رہا ہے۔\n\nبیجنگ کی اہمیت کی درجہ بندی میں یورپ کا مقام بہت نیچے ہے۔ ذرا سوچیں کہ الیکٹرک گاڑیوں پر چین کی بڑی سرمایہ کاری نے کس طرح عالمی کاروں کی پیداوار میں جرمن آٹوموبائل انڈسٹری کا حصہ ڈرامائی طور پر کم کر دیا ہے۔\n\nروس اور امریکہ ایسا خام مال پیدا کرتے ہیں جس کے بغیر چین کا گزارہ نہیں۔ دونوں ممالک اشیائے خورونوش فراہم کرتے ہیں اور روس چینی صنعت کو چلانے کے لیے توانائی اور دھاتیں فروخت کرتا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nیورپ چینی صنعت کا مقابلہ کرتا ہے لیکن روس پر پابندیوں، اور اب ایران پر ٹرمپ کے حملے کے ساتھ ساتھ اپنی حکومتوں کے ماحول دوست توانائی کے عزم کی وجہ سے، اس کے روایتی صنعت کاروں کو توانائی کی بہت زیادہ قیمتوں کا سامنا ہے۔\n\nچینی درآمدات کے ایک ذریعے کے طور پر یورپ کی اہمیت کم ہو رہی ہے اور چین، روس اور امریکہ کے مقابلے میں بیک وقت اپنی معاشی اور املاک دانش کی خودمختاری منوانے کی اس کی کوششیں ناکام ہوتی دکھائی دیتی ہیں۔\n\nزیادہ سے زیادہ، یورپی ممالک مزید چند دہائیوں تک ایک ریگولیٹری ’گریٹ فائر وال‘ کے پیچھے پناہ لے سکتے ہیں، لیکن چین کی اپنی تاریخ بتاتی ہے کہ تیز رفتار تکنیکی تبدیلی کے اس دور میں ایسے دفاع کس قدر کمزور ہوتے ہیں۔\n\nایک وقت تھا جب ’اقدار‘ مغرب کو باقی دنیا کے مقابلے میں متحد کرتی تھیں۔\n\nلیکن ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے انہیں پامال کیے جانے کی بڑھتی ہوئی سخت مذمتوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ یورپ جتنا ناراض ہے، اتنا ہی بے بس بھی ہے۔\n\nمثال کے طور پر، چین، روس اور امریکہ میں یہ بات مشترک ہے کہ ان میں سے کوئی بھی بین الاقوامی فوجداری عدالت کا رکن نہیں ہے۔\n\nاگرچہ اس کے استغاثہ یوکرین پر حملے کے نتائج پر ولادی میر پوتن اور ساتھ ہی غزہ جنگ کے انسانی نقصان پر ٹرمپ کے قریبی ترین اتحادی، اسرائیل کے بنجمن نیتن یاہو کے خلاف تحقیقات کر رہے ہیں۔\n\nاطلاعات کے مطابق ٹرمپ نے تجویز دی ہے کہ چین اور روس بین الاقوامی فوجداری عدالت کے خلاف امریکہ کا ساتھ دیں جو کہ یورپ کی ایک اہم قدر یعنی سیاسی رہنماؤں کے احتساب کی نمائندگی کرتی ہے۔\n\nلیکن اہم بڑی طاقتوں کی حمایت کے بغیر، آئی سی سی بے بس ہو کر رہ گئی ہے، یا زیادہ سے زیادہ یہ چھوٹے موٹے سیاسی لوگوں کے لیے انصاف کا سامنا کرنے کی جگہ بن گئی ہے، جس سے عالمی انصاف کا تصور مجروح ہوتا ہے۔\n\nبیجنگ میں شی جن پنگ کے یکے بعد دیگرے ہونے والے سربراہی اجلاسوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ چین اب ایک ابھرتے ہوئے بدترین عالمی نظام کا محور بن چکا ہے۔\n\nدنیا کو چلانے کے انداز پر اثر انداز ہونے کی اپنی صلاحیت پر انحصار کرنے کے بجائے، یورپی ممالک ماسکو یا واشنگٹن میں تبدیلی سے امیدیں وابستہ کیے ہوئے ہیں۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nشی جن پنگ\n\nولادی میر پوتن\n\nبیجنگ\n\nماسکو\n\n20 ویں صدی کے نصف آخر کی غالب سپر پاورز امریکہ اور روس واضح طور پر عالمی برتری کی باگ ڈور چین کے حوالے کر رہے ہیں۔\n\nمارک آمنڈ\n\nاتوار, مئی 24, 2026 - 06:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">روس کے صدر ولادی میر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ 20 مئی، 2026 کو بیجنگ میں مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟\n\nیوکرین جنگ کے چار برس بعد پوتن کہاں کھڑے ہیں؟\n\nپوتن کی رہائش گاہ پر ’حملے‘ کی اطلاعات، شہباز شریف کی مذمت\n\nتیل کی ’بلاتعطل فراہمی‘ کے لیے تیار: پوتن کی مودی کو یقین دہانی\n\nSEO Title:\n\nکیا چین طاقت کا محور بن رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/voices/china-war-ukraine-iran-war-peace-b2979476.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "کیا چین طاقت کا محور بن رہا ہے؟"
}