{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreid6y5ya36gd7urpbgi6sl37z4bxlee6k2ynrtcxrpfqeaqtlcnmiu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmksz4y4aiv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidtn5fqzr7miqd47r7hhaxzdwknxcrp4znt5vockfuqkpzej4wgkq"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 106203
},
"path": "/node/186018",
"publishedAt": "2026-05-23T02:30:40.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"ایران",
"تجارت",
"امریکہ",
"میاں عمران احمد",
"بلاگ",
"news"
],
"textContent": "**دنیا کے نقشے پر کچھ سرحدیں صرف لکیریں نہیں ہوتیں، وہ قوموں کی قسمت کا فیصلہ بھی کرتی ہیں۔**\n\nپاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی ایسی ہی ایک سرحد ہے، جو آج صرف جغرافیہ نہیں بلکہ سیاست، معیشت، توانائی اور خطے کے مستقبل کی کہانی بن چکی ہے۔\n\nآبنائے ہرمز میں کشیدگی کے دوران ہزاروں کنٹینرز پھنسنے کے بعد پاکستان نے ایران کے لیے چھ زمینی راہداری راستے فعال کیے ہیں، جن کے ذریعے کراچی، گوادر اور پورٹ قاسم سے سامان ٹرکوں کے ذریعے ایران پہنچ سکتا ہے۔\n\nبظاہر یہ فیصلہ صرف ایران کو سہولت دینے کے لیے دکھائی دیتا ہے، لیکن حقیقت میں اس کے پیچھے پاکستان کے اپنے بڑے معاشی، تجارتی اور سٹریٹیجک مفادات بھی ہو سکتے ہیں۔\n\nپاکستان اور ایران کے درمیان دوطرفہ تجارت کا حجم تقریباً 2.8 سے 3 ارب ڈالر کے درمیان ہے۔ تجارت کا توازن زیادہ تر ایران کے حق میں ہے، اور دونوں ممالک کے درمیان طویل مدتی تجارتی حجم کو بڑھا کر 10 ارب ڈالر تک لے جانے کا ہدف مقرر کیا گیا جا چکا ہے۔\n\nایران کو راہداری دینے سے پاکستان کو سب سے بڑا فائدہ ٹرانزٹ فیس اور لاجسٹکس انڈسٹری کی صورت میں ہوسکتا ہے اور برآمدات میں اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nدنیا میں وہ ممالک تیزی سے ترقی کرتے ہیں جو تجارت کے راستے بن جاتے ہیں۔ دبئی، سنگاپور اور ترکی اس کی بڑی مثالیں ہیں۔\n\nپاکستان اگر خطے کی تجارت کا گیٹ وے بن جاتا ہے تو صرف ٹرانسپورٹ، ویئر ہاؤسنگ، کسٹمز، فیول، انشورنس اور پورٹ سروسز سے سالانہ اربوں ڈالر کمائے جا سکتے ہیں۔\n\nگوادر بندرگاہ اس پوری حکمتِ عملی کا مرکزی حصہ بن سکتی ہے۔ گوادر سے ایران کے گبد بارڈر تک فاصلہ نسبتاً کم ہے اور بعض اندازوں کے مطابق گوادر سے ایرانی سرحد تک سامان کی ترسیل کراچی کے مقابلے میں 45 سے 55 فیصد کم لاگت پر ممکن ہو سکتی ہے۔\n\nاس سے گوادر کی معاشی اہمیت بڑھ سکتی ہے، جس پر چین پہلے ہی اربوں ڈالر کی سرمایہ کاری کر چکا ہے۔\n\nپاکستان کافی عرصے سے گوادر کو دبئی اور عمان کی بندرگاہوں کا متبادل بنانا چاہتا ہے، اس کا راستہ ہموار ہو سکتا ہے۔\n\nسرکار کا دعویٰ ہے کہ ان راہداریوں سے ایران، پاکستان اور وسطی ایشیا کے درمیان تجارت کا حجم مستقبل میں 15 ارب ڈالر سالانہ تک پہنچنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔\n\nبلوچستان میں ٹرانسپورٹ، ہوٹلنگ، مارکیٹس، بارڈر ٹریڈ اور چھوٹی صنعتوں کے ذریعے ہزاروں نئی ملازمتیں پیدا ہو سکتی ہیں۔\n\nبلوجستان کا ایران پر مالی انحصار بہت زیادہ ہے۔ گوادر ائیرپورٹ کو جو بجلی فراہم کی جاتی ہے وہ بھی ایران سے آتی ہے۔\n\nبارڈر علاقوں میں دودھ، انڈے، ڈبل روٹی، گوشت، پانی اور پیٹرول ڈیزل کئی سالوں سے ایران سے حاصل کیا جاتا ہے۔ اگر اسے قانونی شکل مل جائے تو سرکاری آمدن میں بھی اضافہ ہو سکتا ہے۔\n\nجنگ کے بعد افغانستان بارڈر بند ہونے سے تجارت متاثر ہوئی۔ اب پاکستان ایران کے راستے وسطی ایشیا تک رسائی حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے تاکہ متبادل تجارتی راستہ موجود رہے۔\n\n25 فروری، 2020 کو تفتان مین پاکستان ایران بارڈر پر پاکستانی فوجی اہلکار پہرہ دے رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\nایران دنیا کے تیسرے بڑے گیس اور تیل ذخائر رکھنے والا ملک ہے۔ پاکستان کے ساتھ بہتر راہداری اور زمینی روابط مستقبل میں ایران پاکستان گیس پائپ لائن اور توانائی تجارت کو دوبارہ فعال کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔\n\nایران کو راہدریاں دے کر پاکستان نے خطے میں ایک نیا مضبوط دوست بنالیا ہے۔ پہلے بنگلہ دیش اور اب ایران کی پاکستان سے بڑھتی قربتوں کو بھارت کے لیے ایک سفارتی شکست کے طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔\n\nیہ سوال بھی کیا جا رہا ہے کہ امریکی پابندیوں کے باوجود راہداری کی اجازت کیسے مل گئی؟\n\nدراصل امریکی وزارت خزانہ کے ادارے آفس آف فارن ایسٹ کنٹرول کے مطابق امریکہ کی ایران پر پابندیاں بنیادی طور پرتیل، بینکاری، شپنگ، دفاعی شعبے اور ایران کے بعض سرکاری اداروں پر مرکوز ہیں۔\n\nامریکی قوانین میں بھی ہیومینیٹیرین ایکسیپشن یعنی انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تجارت کے لیے گنجائش موجود ہے۔\n\nجنگ زدہ علاقوں میں بنیادی انسانی ضروریات پوری کرنے کے لیے تجارت کرنا اقوام متحدہ کے قوانین کے عین مطابق ہے۔ پاکستان بظاہر کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کر رہا ہے۔\n\nلیکن اس فیصلے کے کچھ نقصانات بھی سامنے آسکتے ہیں۔\n\nسب سے بڑا خطرہ امریکی پابندیاں ہیں۔ ایران پر مختلف امریکی اور مغربی پابندیاں موجود ہیں۔ اگر پاکستان کی سرگرمیاں پابندیوں کی زد میں آئیں تو بینکاری، انشورنس اور عالمی مالیاتی نظام میں مشکلات پیدا ہو سکتی ہیں۔\n\nاس کے علاوہ بلوچستان میں شورش، سمگلنگ اور سرحدی حملے اس راہداری کے لیے خطرہ بن سکتے ہیں۔\n\nکمزور انفراسٹرکچر صلاحیت بھی ایک بڑا مسئلہ بن سکتاہے۔ سڑکیں، ریلوے، کسٹمز نظام اور بارڈر مینجمنٹ ابھی عالمی معیار کے مطابق نہیں ہیں۔ ان میں بہتری لانے کے لیے مزید سرمایہ کاری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔\n\nایران کو بھی ان راہداریوں کے بہت زیادہ فوائد ہیں۔\n\nسب سے بڑا فائدہ ایران کو متبادل تجارتی راستے کی صورت میں ملے گا۔ ایران کی معیشت طویل عرصے سے امریکی پابندیوں کے باعث دباؤ میں ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے بینکنگ، شپنگ اور تیل کے شعبے متاثر ہوئے ہیں۔ ایسے میں پاکستان کے زمینی راستے ایران کو یہ موقع دیتے ہیں کہ وہ سمندری دباؤ کے بغیر تجارت جاری رکھ سکے۔\n\nامریکی پابندیوں کے باعث کئی عالمی شپنگ کمپنیاں ایران جانے سے ہچکچاتی ہیں، مگر زمینی تجارت نسبتاً کم نگرانی میں ہوتی ہے۔\n\nاس وجہ سے ایران پاکستان کے ذریعے مشینری، خوراک، صنعتی سامان اور دیگر اشیا حاصل کر سکتا ہے۔ یہ راستے ایران کے لیے جزوی طور پر امریکی دباؤ کو کم کر سکتے ہیں۔\n\nاگر ایران صرف خلیج فارس کے راستے تجارت پر انحصار کرے تو کسی بھی جنگ، پابندی یا بحری ناکہ بندی سے اس کی معیشت شدید متاثر ہو سکتی ہے۔\n\nپاکستان کے زمینی راستے ایران کو جنوبی ایشیا اور وسطی ایشیا سے متبادل رابطہ دیتے ہیں۔\n\nمختصراً، پاکستان کی راہداری ایران کے لیے معاشی آکسیجن کی حیثیت رکھ سکتی ہے۔یہ ایران کو متبادل تجارتی راستہ، پابندیوں کے دباؤ میں کمی، وسطی ایشیا تک رسائی، توانائی تجارت کے مواقع اور علاقائی اثرورسوخ بڑھانے کا موقع فراہم کر سکتی ہے۔\n\nنوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔\n\nپاکستان\n\nایران\n\nتجارت\n\nامریکہ\n\nپاکستان اور ایران کی تقریباً 900 کلومیٹر طویل سرحد بھی ایسی ہی ایک سرحد ہے، جو آج صرف جغرافیہ نہیں بلکہ سیاست، معیشت، توانائی اور خطے کے مستقبل کی کہانی بن چکی ہے۔\n\nمیاں عمران احمد\n\nہفتہ, مئی 23, 2026 - 07:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">25 فروری 2020 کو تفتان میں پاکستان اور ایران کی سرحد پر پاکستانی اور ایرانی پرچم لہرا رہے ہیں (بنارس خان / اے ایف پی)</p>\n\nبلاگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nوزیر داخلہ محسن نقوی کی تہران میں ایرانی صدر سے ملاقات\n\nایران جنگ کے باعث بجلی کی قلت: بنگلہ دیشی گارمنٹس کارخانوں میں پنکھے، کولر بند\n\nپاکستان کی کوششوں سے 47 سال بعد امریکہ، ایران میں براہ راست مذاکرات ہوئے: شہباز شریف\n\nامریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nپاکستان ایران کو راہداری کیوں دے رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پاکستان ایران کو راہداری کیوں دے رہا ہے؟"
}