{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreicj6largd6nq3u3h33mtfofm3xqlcalileg4vgkclkvach3erad6e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmksysknr662"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihrt4qkphannlsy7w5uz3jvupnxxdahrzbrn2cxtu7jcwfwv432re"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 77213
},
"path": "/node/186022",
"publishedAt": "2026-05-23T09:52:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکہ",
"ٹرمپ انتظامیہ",
"گرین کارڈ",
"تارکین وطن",
"ایسوسی ایٹڈ پریس",
"news"
],
"textContent": "**ٹرمپ انتظامیہ نے جمعے کو اعلان کیا ہے کہ امریکہ میں گرین کارڈ حاصل کرنے کے خواہش مند غیر ملکیوں کو ملک چھوڑ کر اپنے آبائی ملک میں درخواست دینا ہوگی۔**\n\nایسوسی ایٹڈ پریس کے مطابق اس ’حیران کن‘ فیصلے نے کئی دہائیوں پرانی پالیسی کو بدل دیا ہے اور امدادی تنظیموں، امیگریشن وکلا اور تارکین وطن میں الجھن اور تشویش پیدا کر دی ہے۔\n\nنصف صدی سے زائد عرصے سے، قانونی حیثیت رکھنے والے غیرملکی شہری امریکہ میں مستقل رہائش کے لیے درخواست دینے اور پورا عمل مکمل کرنے کے اہل رہے ہیں، جن میں امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے افراد، ملازمت اور تعلیمی ویزا رکھنے والے، پناہ گزین اور سیاسی پناہ کے متلاشی شامل ہیں۔\n\nامریکی شہریت و امیگریشن سروسز کی جانب سے اعلان میں کہا گیا ہے کہ امریکہ میں عارضی طور پر موجود وہ غیرملکی جو قانونی مستقل رہائشی یا گرین کارڈ ہولڈر بننے کے لیے درخواست دینا چاہتے ہیں، انہیں واپس اپنے ملک جا کر درخواست دینا ہوگی، سوائے ’غیرمعمولی حالات‘ کے۔\n\nیہ فیصلہ امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے افسران کریں گے کہ آیا درخواست گزار ان شرائط پر پورا اترتے ہیں یا نہیں۔\n\nادارے نے ایک بیان میں کہا: ’نان امیگرینٹس جیسے طلبہ، عارضی کارکن یا سیاحتی ویزا رکھنے والے افراد، مختصر مدت اور ایک مخصوص مقصد کے لیے امریکہ آتے ہیں۔ ہمارا نظام اس بنیاد پر بنایا گیا ہے کہ ان کے دورے کے اختتام پر وہ واپس چلے جائیں۔ ان کا قیام گرین کارڈ کے عمل کا پہلا مرحلہ نہیں ہونا چاہیے۔‘\n\nیہ ٹرمپ انتظامیہ کا تازہ ترین اقدام ہے جس کے ذریعے امریکہ میں پہلے سے موجود غیر ملکیوں اور یہاں آنے کے خواہش مند افراد کے لیے قانونی امیگریشن کو مزید مشکل بنایا جا رہا ہے۔\n\n30 مئی 2013 کو ایک چینی تارکِ وطن کو امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے نیویارک شہر کے کوئنز بورو آفس میں گرین کارڈ درخواست کے عمل کے دوران بایومیٹرکس اپوائنٹمنٹ کے دوران دیکھا جا سکتا ہے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nہر سال لاکھوں افراد امریکہ میں گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔\n\nبائیڈن انتظامیہ کے دوران امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے سابق سینیئر مشیر ڈوگ رینڈ نے کہا: ’اس پالیسی کا مقصد بالکل واضح ہے۔ اس انتظامیہ کے سینیئر حکام بارہا کہہ چکے ہیں کہ وہ چاہتے ہیں کہ کم لوگ مستقل رہائش حاصل کریں کیونکہ مستقل رہائش شہریت کی طرف ایک راستہ ہے اور وہ زیادہ سے زیادہ لوگوں کے لیے اس راستے کو بند کرنا چاہتے ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید بتایا کہ امریکہ میں پہلے سے موجود تقریباً چھ لاکھ افراد ہر سال گرین کارڈ کے لیے درخواست دیتے ہیں۔\n\nامریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے یہ نہیں بتایا کہ یہ تبدیلی کب نافذ ہوگی، آیا افراد کو پورے عمل کے دوران دوسرے ملک میں ہی رہنا ہوگا، یا یہ پالیسی ان غیر ملکیوں پر بھی لاگو ہوگی جن کی گرین کارڈ درخواستیں پہلے سے زیرِ عمل ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nایسوسی ایٹڈ پریس کو ای میل کے ذریعے جاری بیان میں ادارے نے کہا کہ جو لوگ ’معاشی فائدہ ‘ یا ’قومی مفاد‘ فراہم کرتے ہیں، وہ غالباً امریکہ میں رہ سکیں گے جبکہ دیگر کو درخواست دینے کے لیے بیرونِ ملک جانا ہوگا۔\n\nیہ تبدیلیاں ان اقدامات کے علاوہ ہیں جو انتظامیہ پہلے ہی درجنوں ممالک کے افراد کے داخلے کو محدود یا روکنے کے لیے کر چکی ہے۔\n\nبعض صورتوں میں ان ممالک سے سفر پر مکمل پابندی ہے جبکہ کچھ دیگر ممالک کے شہریوں کے ویزا عمل کو روک دیا گیا ہے۔\n\nماہرین اور وکلا نے خبردار کیا ہے کہ ان ممالک کے افراد کو گرین کارڈ کے لیے درخواست دینے کی غرض سے واپس بھیجنے کا مطلب یہ ہوگا کہ وہ دوبارہ امریکہ نہیں آ سکیں گے۔\n\nانسانی امداد اور پناہ گزینوں کی آبادکاری کے ادارے ورلڈ ریلیف نے لکھا: ’اگر خاندانوں کو بتایا جائے کہ غیر شہری خاندان کے فرد کو تارکِ وطن ویزا کے عمل کے لیے اپنے آبائی ملک واپس جانا ہوگا، لیکن وہاں تارکِ وطن ویزے جاری ہی نہ ہو رہے ہوں، تو یہ ایک پیچیدہ صورت حال بن جاتی ہے۔ یہ پالیسیاں درحقیقت خاندانوں کی غیر معینہ مدت تک علیحدگی کا باعث بنیں گی۔‘\n\n**یہ تبدیلی کن لوگوں پر لاگو ہوگی، الجھن برقرار**\n\nامریکی شہریت و امیگریشن سروسز نے اس تبدیلی کو ’قانون کے اصل مقصد‘ کی طرف واپسی اور ایک ’خاموش راستہ بند کرنے‘کے طور پر بیان کیا۔\n\nلیکن امیگریشن وکلا اور امدادی گروپوں نے اس مؤقف کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ کئی گروہوں کے لیے امریکہ میں رہتے ہوئے اپنی حیثیت تبدیل کرنا ایک طویل عرصے سے رائج عمل رہا ہے اور بہت سے لوگ اپنے ملک واپس نہیں جا سکتے کیونکہ وہاں جانا محفوظ نہیں یا وہاں درخواست دینے کے لیے سفارت خانہ موجود نہیں۔\n\nمثال کے طور پر افغانستان میں امریکی سفارت خانہ اگست 2021 میں امریکی انخلا کے بعد سے بند ہے۔\n\nامریکن امیگریشن لائرز ایسوسی ایشن میں حکومتی تعلقات کی سینیئر ڈائریکٹر شیو دلار-دھینی نے کہا: ’امریکی شہریت و امیگریشن سروسز حیثیت کی تبدیلی کے کئی دہائیوں پر محیط عمل کو یکسر بدلنے کی کوشش کر رہی ہے۔ یہ بہت وسیع پیمانے پر ہر اس شخص پر لاگو ہو سکتا ہے جو گرین کارڈ حاصل کرنا چاہتا ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ان افراد میں امریکی شہریوں سے شادی کرنے والے لوگ، انسانی ہمدردی کی بنیاد پر تحفظ حاصل کرنے والے تارکین وطن جو گرین کارڈ کے لیے درخواست دے رہے ہیں، ملازمت کے ویزا رکھنے والے ڈاکٹرز اور دیگر پیشہ ور افراد، نیز تعلیمی اور مذہبی ویزا رکھنے والے شامل ہو سکتے ہیں۔\n\nدلار-دھینی کے مطابق بیرونِ ملک بعض امریکی قونصل خانوں میں ویزا ملاقات کے انتظار کا دورانیہ ایک سال سے بھی زیادہ ہو سکتا ہے۔\n\nامیگریشن وکلا جمعے کی سہ پہر پالیسی یادداشت اور اعلان کا جائزہ لیتے رہے تاکہ یہ سمجھ سکیں کہ یہ کن افراد پر لاگو ہوگا۔\n\nتارکین وطن کو قانونی اور دیگر معاونت فراہم کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ انہیں اپنے مؤکلوں کی جانب سے مسلسل سوالات موصول ہو رہے ہیں کہ اس نئی ہدایت کا ان پر کیا اثر پڑے گا۔\n\nکم آمدنی والے تارکین وطن کو قانونی خدمات فراہم کرنے والی غیر منافع بخش تنظیم کیلیفورنیا امیگریشن پروجیکٹ کی سینیئر وکیل جیسی ڈی ہیون نے کہا: ’یہ سمجھنا واقعی مشکل ہے کہ اس کا اطلاق کس طرح کیا جائے گا، لیکن میرا خیال ہے کہ اس سے لوگوں میں درخواست دینے سے متعلق خوف اور ہچکچاہٹ پیدا ہو سکتی ہے۔‘\n\nامریکہ\n\nٹرمپ انتظامیہ\n\nگرین کارڈ\n\nتارکین وطن\n\nٹرمپ انتظامیہ کے اس ’حیران کن‘ فیصلے نے کئی دہائیوں پرانی پالیسی کو بدل دیا ہے اور امدادی تنظیموں، امیگریشن وکلا اور تارکین وطن میں الجھن اور تشویش پیدا کر دی ہے۔\n\nایسوسی ایٹڈ پریس\n\nہفتہ, مئی 23, 2026 - 14:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">تارکین وطن 30 مئی 2013 کو امریکی شہریت و امیگریشن سروسز کے کوئنز دفتر میں گرین کارڈ اور شہریت کے انٹرویوز کے لیے اپنی باری کا انتظار کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکہ نے گرین کارڈ لاٹری پروگرام معطل کر دیا\n\n’امریکی گرین کارڈ کا کوٹہ بھارتی لے جائیں گے، افواہ ہے‘\n\nامریکی شہری ملک چھوڑ کر کہاں جانا چاہتے ہیں اور کیوں؟\n\n50 لاکھ ڈالر میں ’گولڈ کارڈ‘ خریدیں اور امریکی شہریت پائیں: ٹرمپ\n\nSEO Title:\n\nگرین کارڈ کے درخواست گزار غیر ملکیوں کو اب امریکہ چھوڑنا ہو گا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "گرین کارڈ کے درخواست گزار غیر ملکیوں کو اب امریکہ چھوڑنا ہو گا"
}