{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidufiitmzevfdcfn4jkhhamdmkprgf7qq6khdz6x4o4qgcaj76rz4",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmksyosggib2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreig3thfvtqke64o6e5amuyiun6tiedcbaa4yv7yhtakfktxx54r57e"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 86055
},
"path": "/node/186024",
"publishedAt": "2026-05-23T11:08:34.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/8k5POI7gyV",
"May 23, 2026",
"بنوں",
"خیبر پختونخوا",
"عسکریت پسندی",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"پاکستان",
"news",
"@KP_Police1"
],
"textContent": "**خیبرپختونخوا کے ضلع بنوں میں پولیس کے مطابق ہفتے کو ایک انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن کے دوران 8 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور متعدد زخمی ہوئے جبکہ دو اہلکار جان سے چلے گئے۔**\n\nسینٹرل پولیس آفس کے مطابق پولیس اور سی ٹی ڈی کی مشترکہ ٹیموں نے بنوں کی تحصیل میریان کے علاقے برک زئی اخوند خیل میں اس آپریشن میں حصہ لیا۔\n\nپولیس کے مطابق اس دوران 10 کلو دیسی ساختہ بم بھی برآمد کر کے ناکارہ بنا دیا گیا۔\n\n> Bannu Police foil major terror plot in PS Merian area.\n>\n> 8 terrorists killed in operation.\n>\n> 1 official martyred, 1 injured.\n>\n> IGP Zulfiqar Hameed praises Bannu Police courage. pic.twitter.com/8k5POI7gyV\n>\n> — KP Police (@KP_Police1) May 23, 2026\n\nآئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن تاحال جاری ہے۔\n\nنجی ٹی وی سے گفتگو میں انہوں نے بتایا کہ جدید آلات کی مدد سے عسکریت پسندوں کی نقل و حرکت پر نظر رکھی جا رہی ہے اور مربوط انٹیلی جنس کی بنیاد پر ان کے خلاف کارروائیاں کی جارہی ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبنوں عمومی طور پر خیبر پختونخوا کے شدت پسندی سے متاثرہ اضلاع میں شامل ہے جہاں ماضی میں کئی بڑے حملے ہوئے ہیں جس میں عسکری تنصیبات پر حملے بھی شامل ہیں۔\n\nرواں ماہ نو مئی کی شب بھی فتح خیل چوکی پر ایک حملے میں 1200 سے 1500 کلوگرام بارودی مواد استعمال کیا گیا تھا جس کے نتیجے میں 15 پولیس اہلکاروں کی موت ہوئی تھی۔\n\nپولیس کی ابتدائی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فتح خیل نامی چوکی کے قریب ایک لوڈر رکشے سے دھماکہ کیا گیا اور بعد میں بھاری ہتھیاروں سے فائرنگ بھی کی گئی۔\n\nاس سے قبل 2022 میں بنوں کے کینٹ علاقے کے اندر واقع انسداد دہشت گردی کے مرکز میں قید عسکریت پسندوں نے پولیس کو تقریباً 48 گھنٹے یرغمال بنا لیا تھا، جس کے بعد حکومت کے مطابق تمام عسکریت پسندوں کو آپریشن کے دوران مار دیا گیا تھا۔\n\nبنوں\n\nخیبر پختونخوا\n\nعسکریت پسندی\n\nآئی جی خیبرپختونخوا ذوالفقار حمید کے مطابق عسکریت پسندوں کے خلاف آپریشن تاحال جاری ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nہفتہ, مئی 23, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\"> ایک پولیس اہلکار (دائیں) اور فوجی جوان (بائیں) 21 دسمبر 2022 کو بنوں میں ایک سڑک پر پہرہ دے رہے ہیں(اے ایف پی)</p>\n\nپاکستان\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nبنوں: فتح خیل پولیس چوکی کو بار بار حملوں کا نشانہ کیوں بنایا گیا؟\n\nبنوں پولیس پر حملہ، افغان ناظم الامور کی پاکستانی دفتر خارجہ طلبی\n\nبنوں میں دو مرتبہ بم حملوں کا ہدف بننے والے گھر کی کہانی\n\nبنوں میں امن کمیٹی کے دفتر پر عسکریت پسندوں کا حملہ، 7 اموات\n\nSEO Title:\n\nبنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 8 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: پولیس\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "بنوں میں انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن، 8 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے: پولیس"
}