{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibl54ji5izrdxjoglwgdjoqt3jp5xtf6xr6mt7hdljuwc4gzlq75e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmksxzn25nl2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiabklrsytusgrfn4wvr7dzidelgeztzjxp4embw723mdgsnr4tksu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 80107
},
"path": "/node/186027",
"publishedAt": "2026-05-23T14:38:31.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"امریکہ",
"انڈیا",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"نریندر مودی",
"ٹیرف",
"روئٹرز",
"دنیا",
"news"
],
"textContent": "**امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے ہفتے کو انڈیا کے وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ تجارت اور توانائی کے موضوع پر بات چیت کی۔**\n\nیہ دورہ اس مقصد کے لیے کیا گیا تھا کہ دونوں ممالک کے تعلقات کو دوبارہ مضبوط کیا جا سکے، جو واشنگٹن کے ٹیرف اور پاکستان و چین کے ساتھ اس کے روابط کی وجہ سے متاثر ہوئے تھے۔\n\nملاقات کے بعد امریکہ کی جانب سے جاری بیان میں بتایا گیا کہ مارکو روبیو، جنہوں نے دورے سے قبل کہا تھا کہ امریکہ انڈیا کو توانائی فروخت کرنا چاہتا ہے، نے اپنی بات پر زور دیتے ہوئے مودی سے کہا کہ ’امریکی توانائی مصنوعات انڈیا کی توانائی سپلائی کو متنوع بنانے کی صلاحیت رکھتی ہیں۔‘\n\nمارکو روبیو کے دفتر کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ ایران کو عالمی توانائی مارکیٹ کو یرغمال نہیں بنانے دے گا۔‘\n\nایران جنگ سے پیدا ہونے والے توانائی بحران نے انڈیا کو روسی تیل سے دور کرنے کی امریکی کوششوں کو متاثر کیا ہے۔\n\nامریکی صدور، بشمول ٹرمپ اپنے پہلے دور میں، طویل عرصے سے کوشش کرتے رہے ہیں کہ تاریخی طور پر غیر جانبدار انڈیا کو روس اور ابھرتے ہوئے چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک توازن کے طور پر قریب لایا جائے۔\n\nتاہم پچھلے سال یہ کوششیں اس وقت متاثر ہوئیں جب ٹرمپ نے انڈیا پر سب سے زیادہ امریکی ٹیرف عائد کیے۔\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 23 مئی 2026 کو کولکتہ کے نیتاجی سبھاش چندر بوس بین الاقوامی ہوائی اڈے پر اپنی اہلیہ جینیٹ کے ہمراہ طیارے سے اتر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**ٹیرف سے متاثرہ تعلقات بحال کرنے کی کوشش**\n\nان میں سے کئی ٹیرف بعد میں عارضی معاہدے میں واپس لے لیے گئے، لیکن دونوں ممالک ابھی تک مکمل تجارتی معاہدہ طے نہیں کر سکے۔\n\nاسی دوران امریکہ انڈیا کے حریف اور پڑوسی پاکستان کے قریب بھی ہوا ہے اور اسلام آباد ایران جنگ کے خاتمے کی کوششوں میں ایک اہم رابطہ کار کے طور پر سامنے آیا ہے، جو امریکہ-انڈیا تعلقات میں ایک نئی کشیدگی کا باعث بنا ہے۔\n\nاگرچہ مودی نے ہفتے کو ہونے والی ملاقات میں ایران کا براہ راست ذکر نہیں کیا، تاہم انڈین حکومت کی جانب سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے امن کوششوں کی حمایت اور مذاکرات و سفارت کاری کے ذریعے تنازعات کے پرامن حل پر زور دیا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانڈیا میں امریکی سفیر سیرجیو گور نے بتایا کہ مارکو روبیو نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مودی کو مستقبل قریب میں وائٹ ہاؤس کے دورے کی دعوت بھی دی۔\n\nامریکی محکمہ خارجہ کے جنوبی ایشیا کے لیے سابق پالیسی ماہر اور دی ایشیا گروپ کنسلٹنسی سے وابستہ باسنت سنگھیرا کے مطابق رواں ماہ ٹرمپ کے دورہ بیجنگ نے امریکہ کے ساتھ انڈیا کے تعلقات پر مزید خدشات پیدا کیے، یہ بات\n\nسنگھیرا کے مطابق ٹرمپ کا انداز انڈیا میں امریکہ کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے ’تشویش کا ایک مکمل طوفان‘ پیدا کر چکا ہے، لیکن تعلقات اب مستحکم ہو رہے ہیں اور دونوں طرف تعاون کے شعبوں میں پیش رفت کی کوششیں ہو رہی ہیں۔\n\nبائیڈن انتظامیہ نے انڈیا کو ایک اہم اسٹریٹجک شراکت دار کے طور پر خاص توجہ دی اور 2023 کے ریاستی دورے میں مودی کی میزبانی کی۔\n\nٹرمپ نے بھی اپنے دوسرے دور کے آغاز میں مودی کو وائٹ ہاؤس میں خوش آمدید کہا تھا، مگر بعد میں بھاری ٹیرف عائد کر کے تعلقات کو متاثر کیا۔\n\n**بااثر سفیر**\n\nامریکی سفیر سیرجیو گور، جنہیں اٹلانٹک کونسل کے مائیکل کوگل مین نے ’انڈیا وسپرر‘ کہا ہے، جنوری میں نئی دہلی پہنچے اور تعلقات کی بحالی کی کوششیں شروع کیں۔\n\nسیرجیو گور ٹرمپ کے قریبی دوست اور پہلے وائٹ ہاؤس کے مشیر بھی رہ چکے ہیں۔\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو (بائیں) اور انڈیا میں امریکی سفیر سیرجیو گور 23 مئی 2026 کو نئی دہلی میں امریکی سفارت خانے کی نئی عمارت کی افتتاحی تقریب میں شریک ہیں (جولیا ڈیماری نکھنسن / پول / اے ایف پی)\n\n\n\n\nفروری میں دونوں ممالک نے تجارتی معاملات پر ’عارضی معاہدے کے فریم ورک‘ پر اتفاق کیا تھا، جس کے تحت انڈین مصنوعات پر ٹرمپ کے ٹیرف 50 فیصد سے کم کر کے 18 فیصد کرنے کی بات ہوئی، جن میں سے نصف روسی تیل کی خریداری سے متعلق تھا۔\n\nتاہم معاہدے کو حتمی شکل دینے کی باتیں اس وقت سست ہو گئیں جب فروری کے آخر میں امریکی سپریم کورٹ نے ٹرمپ کے ٹیرف کو کالعدم قرار دیا۔\n\nاس کے نتیجے میں انڈین مصنوعات پر ڈیوٹی 10 فیصد تک آ گئی، لیکن نئی دہلی اپنی حکمت عملی پر غور کر رہا ہے کیونکہ ٹرمپ انتظامیہ غیر منصفانہ تجارتی طریقوں کے تحت تحقیقات کر رہی ہے، جن سے دوبارہ زیادہ ٹیرف لگنے کا امکان ہے۔\n\nنئی دہلی نے ٹرمپ کے انڈیا کے دورے پر اصرار کیا ہے، جو کواڈ سربراہی اجلاس سے منسلک تھا (جس میں امریکہ، انڈیا، جاپان اور آسٹریلیا شامل ہیں)، لیکن ماہرین کے مطابق تجارتی کشیدگی اور دیگر عالمی مسائل کی وجہ سے یہ معاملہ آگے نہیں بڑھ سکا۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ تعلقات کی موجودہ سمت کو بدلنے میں مارکو روبیو کا زیادہ اثر نہیں ہوگا۔\n\nروبیو آئندہ ہفتے انڈیا میں ہونے والے کواڈ اجلاس میں بھی شرکت کریں گے، جو تیسرا ایسا اجلاس ہے جس میں سربراہانِ مملکت کی سطح پر شرکت نہیں ہو رہی اور یہ گروپ کی حیثیت میں ایک غیر رسمی کمی تصور کی جا رہی ہے۔\n\nہفتے کو امریکی دفتر نے کہا کہ روبیو نے انڈیا کی جانب سے آئندہ کواڈ وزرائے خارجہ اجلاس کی میزبانی کو سراہا، تاہم ٹرمپ کے ممکنہ دورے کے حوالے سے کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔\n\nامریکہ\n\nانڈیا\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nنریندر مودی\n\nٹیرف\n\nامریکہ تاریخی طور پر روس اور ابھرتے ہوئے چین کے اثر و رسوخ کے مقابلے میں ایک توازن کے لیے انڈیا سے قریب رہا ہے، تاہم پچھلے سال یہ کوششیں اس وقت متاثر ہوئیں جب ٹرمپ نے نئی دہلی پر سب سے زیادہ ٹیرف عائد کیے۔\n\nروئٹرز\n\nہفتہ, مئی 23, 2026 - 19:30\n\nMain image:\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nانڈیا سے ٹیرف تنازع چند ہفتوں میں حل ہو جائے گا: امریکی ایلچی پرامید\n\nمتحدہ عرب امارات اور انڈیا میں دفاع اور توانائی کے شعبوں میں اہم معاہدے\n\n’مودی نے ملک بیچ دیا:‘ امریکی ٹیرف معاہدے پر انڈیا میں کڑی تنقید\n\nامریکہ کا انڈیا پر ٹیرف میں نمایاں کمی کا اعلان\n\nSEO Title:\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورہ انڈیا، تعلقات میں بہتری کی کوشش؟\n\ncopyright:\n\ninner media:\n\n> <p class=\"rteright\">امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو 23 مئی 2023 کو کولکتہ میں مشنریز آف چیریٹی کے بین الاقوامی ہیڈکوارٹر، جو ’مدر ہاؤس‘ کے نام سے معروف ہے، سے باہر نکلتے ہوئے اشارہ کر رہے ہیں۔ (دیبیانگشو سرکار / اے ایف پی)</p>\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کا دورہ انڈیا، تعلقات میں بہتری کی کوشش؟"
}