{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreigp4ufh7dsrvtv2yypcjz6nhfwstpo6canacezio4f64kjbsmu7ue",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3tm6kvxx2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreicpgmq27uc6szjh33jl3dmfyihcutjqjgrskezl2s25a6inrdqcbe"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 50368
  },
  "path": "/node/186003",
  "publishedAt": "2026-05-22T05:00:27.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "آزادی اظہار",
    "آصف محمود",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**آزادی رائے کیا ہے؟ کیا آزادی رائے کا مطلب یہ ہے کہ جس کی چاہے عزت اچھال دو، کردار کشی کر دو، گالم گلوچ اور غیر اخلاقی مہم برپا کردو اور جواب میں قانون دستک دے اور کوئی نوٹس موصول ہو تو رونا دھونا شروع کر دو کہ میں نے کون سا غلط کام کیا ہے کہ مجھے نوٹس بھیج دیا؟**\n\nالزام تراشی، کردار کشی، غلیظ مہم، اتنے کچھ کے بعد کمال سادگی سے کہنا کہ میں نے کیا ہی کیا ہے کہ مجھے اسلام آباد بلا لیا، یہ رویہ غور طلب ہے۔\n\nمعلوم نہیں اب یہ سادگی ہے، قانون سے لاعلمی ہے یا سوشل میڈیا مینجمنٹ سکل ہے کہ روتے ہوئے ایک ویڈیو ڈال کر عوامی جذبات کو ایک خاص سمت دے دی جائے، تاہم یہ جو کچھ بھی ہے اس کا آزادی رائے سے دور دور تک کوئی واسطہ نہیں ہے۔\n\nہمارے ہاں بعض چیزیں سمجھے اور جانے بغیر تواتر سے دہرائی جاتی ہیں۔ ان میں سے ایک یہ ہے کہ آزادی رائے ہمارا آئینی حق ہے۔\n\nیہاں لوگ اپنی تلخی، الزام، دشنام اور غیر شائستگی کو اپنا بنیادی انسانی حق سمجھتے ہیں اور ان کے خیال میں انہیں یہ حق آئینِ پاکستان نے دے رکھا ہے۔\n\nحقیقت اس سے بالکل مختلف ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جس روز لوگوں کو آئین اور قانون کے عین مطابق آزادی رائے کا حق دیا گیا، اس روز ایک تہائی آبادی اڈیالہ کی طرف جا رہی ہو گی۔\n\nآئین کے آرٹیکل 19 کو ہمارے ہاں آزادی رائے کی ضمانت سمجھا جاتا ہے لیکن اس میں دو بنیادی باتیں بھلا دی جاتی ہیں۔\n\nپہلی بات یہ کہ آرٹیکل 19 میں دی گئی آزادی رائے غیر مشروط نہیں، یہ مشروط ہے۔ دوسری بات یہ کہ اس پر منطقی پابندیاں عائد کی جا سکتی ہیں۔ یعنی یہ حتمی نہیں ہے۔\n\nآرٹیکل 19 جہاں آزادی رائے کا حق دیتا ہے، وہیں وہ اس کی حدود و قیود بھی بتا دیتا ہے۔\n\nاس آرٹیکل میں واضح طور پر لکھا ہے کہ جہاں اسلام کی عظمت، پاکستان کی سالمیت، سلامتی یا دفاع، غیر ملکی ریاستوں کے ساتھ دوستانہ تعلقات، امنِ عامہ، شائستگی، اخلاقیات، عدالت کی توہین، کسی جرم کے ارتکاب یا کسی جرم پر اکسانے کا معاملہ ہو گا، وہاں آزادی رائے پر پابندیاں عائد کی جا سکیں گی۔\n\nاب ہمارے ہاں کیا ہو رہا ہے؟ پاکستان کی سلامتی اور دفاع کے حوالے سے کیا کچھ لکھا جا رہا ہے۔ شائستگی ا ور اخلاقیات کا کیا حشر کر دیا گیا ہے، سوشل میڈیا پر قانون کی پامالی پر کیسے کیسے اکسایا جاتا ہے، کیا اس سب کو آزادی رائے کہا جا سکتا ہے؟ یہ آزادی رائے نہیں ہے، یہ آرٹیکل 19 کی پامالی ہے۔\n\nلوگ تو اپنی آزادی رائے کے زعم میں، یہاں قیامِ پاکستان تک پر سوال اٹھا دیتے ہیں، نظریہ پاکستان کا تو باقاعدہ تمسخر اڑایا جاتا ہے۔\n\nکیا انہیں معلوم ہے کہ قیامِ پاکستان کے بارے میں اس طرح کی بات کرنے پر قانون کیا کہتا ہے؟ تعزیراتِ پاکستان کی دفعہ 123 اے کے تحت اس جرم کی سزا 10 سال تک قیدِ بامشقت ہے اور ساتھ جرمانہ بھی عائد کیا جائے گا۔ جس دن قانون کے مطابق معاملہ ہونا شروع ہوا، لگ پتہ جائے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nخواجہ سعد رفیق کے بارے میں جو جھوٹی مہم چلائی گئی، وہ طوفانِ بدتمیزی کا صرف ایک پہلو ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ یہاں آزادی رائے روز دوسروں کی پگڑیاں اچھالتی ہے۔\n\nکسی کی عزت محفوظ نہیں۔ جس پر جو الزام جی میں آئے لگا دیجیے۔\n\nکردار کشی ایک فن بن چکا ہے۔ معتبر وہی ہے، جس کے شر سے لوگ پناہ مانگتے ہوں۔ لوگ اس کردار کشی کو اپنی آزادی رائے سمجھتے ہیں لیکن یہ بھی ایک جرم ہے اور کسی کی تذلیل اور توہین کی سزا دو سال قید ہے۔\n\nدیوانی کارروائی الگ ہے۔ چنانچہ جب نوٹس پہنچتے ہیں تو دہائی دی جانے لگتی ہے، ہم نے کیا غلط کیا تھا کہ نوٹس بھیج دیا، اب ہم سیالکوٹ سے اسلام آباد کیسے جائیں۔\n\nیہاں فیشن کے طور پر پاکستان کے قومی بیانیے کی نفی کی جاتی ہے۔ ہمیں معلوم ہونا چاہیے کہ اس قسم کی آزادی رائے کے لیے پریونشن آف اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز ایکٹ 1974 اور اینٹی نیشنل ایکٹویٹیز رولزز 1974 موجود ہیں ۔ایکٹ کی دفعہ 13 کے مطابق نہ صرف ایسی سرگرمی میں حصہ لینے والوں کے لیے سات سال قید ہے ۔\n\nہمارے ہاں آزادی رائے کا مطلب یہ سمجھ لیا گیا ہے کہ ریاست کے ہر موقف کی نفی کرنی چاہیے۔\n\nیہاں کوئی ڈیورنڈ لائن پر افغانستان کے ناجائز موقف کی تائید فرما رہا ہوتا ہے اور کسی کے نزدیک کشمیر کے معاملے کی خرابی کی ذمہ داری پاکستان پر عائد ہوتی ہے۔\n\nکوئی پاکستان میں علیحدگی کے کسی ایک عنوان کو پرچم بنا لیتا ہے اور کوئی کسی دوسرے علیحدگی پسند مسلح گروہ کی فکری حمایت میں مضامین باندھتا ہے۔\n\nانہیں نظر انداز کیا گیا تو یہ ایک الگ معاملہ ہے، ورنہ یہ تمام سرگرمیاں پاکستان کی سلامتی کے خلاف ہمہ جہت مہم کا ایک حصہ ہیں اور اس کی سزا بھی 10 سال قید ہے۔\n\nیہاں ہماری خود ساختہ آزادی رائے نے پاکستان کے ہر دوست ملک کے خلاف بیانیہ بنایا ہے۔\n\nآزادی رائے کا یہ روپ آئین کے آرٹیکل 19 کے تحت بھی ناجائز ہے اور سکیورٹی آف پاکستان ایکٹ 1952 کی دفعہ 11 اس قماش کی آزادی رائے سے نمٹنے کے لیے ریاست کو کافی اختیارات دیتی ہے۔\n\nدرست یا غلط کی بحث الگ ہے، لیکن قانون کے تحت آزادی رائے کی بات کرنے والوں کو معلوم ہونا چاہیے کہ تعزیرات پاکستان کی دفعہ 124 اے کے تحت اگر آپ حکومت کے بارے میں نفرت پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں تو اس کی سزا عمر قید ہو سکتی ہے۔\n\nتینوں بڑی سیاسی جماعتیں اقتدار میں رہ چکیں اور کسی نے اس قانون کو تبدیل نہیں کیا حالانکہ یہ سادہ اکثریت سے بدل سکتا تھا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ تینوں جماعتیں اسے درست سمجھتی ہیں۔\n\nفوج کے خلاف بات کرنا فیشن بنا لیا گیا ہے۔ یاد پڑتا ہے کہ ماضی قریب میں جناب امجد علی خان صاحب نے ایک پرائیویٹ کرمنل لا امینڈمنٹ بل کے ذریعے اس کے لیے دو سال قید اور پانچ لاکھ جرمانے کی سزا تجویز کی تھی۔\n\nجو پارلیمان نے قبول کر کے قانون بنا دیا۔ ویسے کیا خیال ہے کہ اگر یہی قانون نافذ ہونا شروع جائے تو آزادی رائے کو افاقہ ہو جائے گا؟\n\nبات وہی ہے کہ ہمارے سماج میں آزادی رائے کے تصور کو درست تناظر میں سمجھا ہی نہیں گیا۔\n\nاس کے نتائج ہمارے سامنے ہیں، چنانچہ اگر کوئی گرفت میں آ بھی جائے تو وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ میں نے ایسا کر دیا کہ سعد رفیق نے مجھے نوٹس بھجوا دیا۔\n\n_نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔_\n\nآزادی اظہار\n\nہمارے سماج میں آزادی رائے کے تصور کو درست تناظر میں سمجھا ہی نہیں گیا۔ چنانچہ اگر کوئی گرفت میں آ بھی جائے تو وہ حیران ہو کر پوچھتا ہے کہ میں نے ایسا کر دیا کہ سعد رفیق نے مجھے نوٹس بھجوا دیا۔\n\nآصف محمود\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">21 دسمبر، 2025 کو خواجہ سعد رفیق کے فیس بک پیج پر شائع کی گئی ایک تصویر(سعد رفیق فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nحکومت آزادی اظہار کے غیراخلاقی استعمال کے خلاف قوانین لائے: فوج\n\n’ٹرک آرٹ آزادی اظہار رائے کی مثال ہے‘\n\nافواج پاکستان سے متعلق اشتعال انگیز بیان آزادی اظہار رائے نہیں: عدالت\n\nآزادی رائے بہترین غلط فہمی ہے\n\nSEO Title:\n\nآزادی رائے یا آزادی کردار کشی؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "آزادی رائے یا آزادی کردار کشی؟"
}