{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihvejq4yh2w6tysd26xtc26nsxrq63h6ca4cw4vjroapk6qlme45y",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3tgvdn7z2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiae76i45t2o2r36bttcdjs5pyltqydlzgqqcrg3ik7vxbhnseqpuu"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 134463
},
"path": "/node/186006",
"publishedAt": "2026-05-22T05:45:25.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ماحول",
"ماحول دوست",
"سیلاب",
"ماحولیات",
"سجاد اظہر",
"بلاگ",
"news"
],
"textContent": "**پاکستان دنیا کے ان 10 ممالک میں شامل ہے جو موسمیاتی تبدیلیوں کے سب سے زیادہ متاثرہ ہیں۔ ایشیائی ترقیاتی بینک کی ایک رپورٹ کے مطابق پاکستان کو موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے سالانہ 14 ارب ڈالر کا نقصان ہو رہا ہے۔**\n\nاس پس منظر میں جب عالمی ماہرین یہ پیشن گوئیاں کرتے ہیں کہ اس سال دنیا میں سپر ایل نینیو آ رہا ہے جس سے عالمی معیشت کو کھربوں ڈالر کا نقصان ہو گا۔\n\nیہ خبر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پاکستان پہلے ہی موسموں کے تغیروتبدل سے خاصا نقصان اٹھا رہا ہے۔\n\nبحرالکاہل دنیا کا سب سے بڑا سمندر ہے جودنیا کے ایک تہائی حصے پر پھیلا ہوا ہے۔ اسے دنیا کے موسموں کا انجن بھی کہا جاتا ہے۔\n\nیہاں کا درجہ حرارت ہی یہ فیصلہ کرتا ہے کہ دنیا میں بارشیں معمول کے مطابق ہوں گی یا کم ہوں گی۔ دنیا میں گرمی پڑے گی یا سردی ہوگی۔ سیلاب آئیں گے یا خشک سالی ہو گی۔\n\nزرعی پیداوار کس حد تک متاثر ہو گی۔ انسانی زندگی پر یہ اثرات کتنے تباہ کن ہوں گے۔\n\n**سپر ایل نینیو کیا ہے؟**\n\nدنیا میں 1850 کے بعد سے درجہ حرارت کا ریکارڈ رکھنا شروع کیا گیا تھا تب سے اب تک جو 11 گرم ترین سال قرار دیے گئے ہیں۔\n\nوہ سارے کے سارے موجودہ صدی کے 25 سال میں سے ہیں جن میں سے 2024 سب سے گرم ترین سال تھا اور اس کا درجہ حرارت معمول سے 1.29 درجے زیادہ تھا۔ اس سال اپریل میں بحرالکاہل کا درجۂ حرارت تاریخی بلندیوں پر دیکھا گیا ہے۔\n\nاگرچہ سمندر کے درجہ حرارت میں یہ رد وبدل معمول کی بات ہے اور ایسا ہر سات سال بعد ہوتا ہے لیکن اس بار موسمیاتی ماہرین بحرالکاہل کی سطح پر کسی حیران کن تبدیلی کا مشاہدہ کر رہے ہیں جو اس سے پہلے نہیں دیکھی گئی۔\n\nبحرالکاہل کی سطح پر ہر چند سال بعد وہ ہوائیں جو عام طور پر گرم پانی کو مغرب کی جانب دھکیلتی ہیں ان کی شدت کم ہو جاتی ہے جس سے پانی کی سطح گرم ہونا شروع ہو جاتی ہے یہ گرمی خطِ استوا سے مشرق کی جانب پھیلنا شروع ہو جاتی ہے۔\n\nہر سال اس میں تھوڑا بہت رد و بدل ہوتا رہتا ہے جس پر ماہرین گہری نظر رکھتے ہیں لیکن اس سال یہ درجہ حرارت معمول سے کہیں زیادہ بڑھ رہا ہے۔\n\nماہرین اس وقت خطرے کی گھنٹی بجا دیتے ہیں جب بحرالکاہل کے مرکزی حصے کی سطح کا درجہ حرارت معمول سے دو سینٹی گریڈ زیادہ ہو جائے۔\n\nریکارڈ شدہ تاریخ میں ایسا صرف تین بار ہوا ہے پہلی بار 1982-83، دوسری بار 1997-98 اور تیسری بار 2015-16 میں، لیکن ماہرین کا ماننا ہے کہ 1876 میں بھی ایک سپر ایل نینیو تشکیل پایا تھا جس سے عالمی سطح پر قحط شروع ہوا تھا جس کے نتیجے میں دنیا میں تقریباً پانچ کروڑ لوگ جان سے گئے تھے۔\n\nبحر الکاہل کی سطح پر اس سال اپریل میں جو درجہ حرارت ریکارڈ ہوا ہے وہ پہلے کسی بھی سال کے اپریل کے درجہ حرارت سے آدھا سینٹی گریڈ زیادہ تھا۔\n\nجس میں ہر گزرتے دن کے ساتھ اضافہ ہو رہا ہے جس سے ماہرین یہ استدلال کر رہے ہیں کہ یہ اس سال کے موسم ِ خزاں تک ڈھائی سے تین سینٹی گریڈ تک بڑھ سکتا ہے جو صرف ال نینو نہیں بلکہ سپر ال نینو بن جائے گا۔\n\nانڈونیشیا کے صوبہ آچے کے ضلع بیرُوئن میں 2 دسمبر 2025 کو سیلابی ریلے سے پل تباہ ہونے کے بعد لوگ عارضی کیبل کار کے ذریعے دریا پار کر رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**سپر ایل نینیو کرے گا کیا؟**\n\nایل نینیو کے اثرات دنیا بھر میں پڑتے ہیں۔ سمندروں سے نکلنے والی خوراک سے لے کر زمین سے اگنے والی فصلوں تک ہر پیداوار متاثر ہوتی ہے۔\n\nجہاں نمی زیادہ ہوتی ہے وہاں اس کی جگہ خشکی لے لیتی ہے۔ جنگلات خشک ہو کر آگ پکڑ لیتے ہیں اور جو علاقے خشک ہوتے ہیں وہاں نمی آ جاتی ہے۔ یعنی جن علاقوں سے دنیا کی فوڈ سیکورٹی وابستہ ہوتی ہے وہاں پیداوار خاصی کم ہوجاتی ہے۔\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ 2026 کوئی عام سال نہیں ہے عالمی درجہ حرات جو صنعتی دور سے پہلے کے مقابلے میں 1.4 درجے زیادہ ہے اور ان حالات میں اگر ایک سپر ایل نینیو تشکیل پاتا ہے تو یہ ایسی ہولناک تبدیلیوں کا پیش خیمہ ہو سکتا ہے جس کا مشاہدہ اس سے پہلے کی انسانی تاریخ میں کبھی نہیں ہوا ہو گا۔\n\nاس سے پہلے 1982-83 میں جو ایل نینیو آیا تھا اس سے عالمی معیشت کو4.1 کھرب ڈالر کا نقصان ہوا تھا 1997-98 میں یہ نقصان 5.7 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا تھا۔\n\nلیکن اس سال اگر یہ اندازوں کے مطابق سپر ایل نینیو تک پہنچتا ہے تو پھر اندازہ کیا جا سکتا ہے کہ دنیا کو یہ کتنا بھاری پڑے گا۔ دنیا پہلے ہی آبنائے ہرمز بند ہونے کی وجہ سے بحرانی کیفیت میں ہے ان حالات میں ایک قدرتی آفت اسے ایک اور خطرے سے دوچار کر سکتی ہے۔\n\n**پاکستان کو کس قدر خطرہ ہے؟**\n\nایل نینیو جب بھی ظاہر ہوا ہے اس نے پاکستان اور ہندوستان میں مون سون کی بارشوں کے نظام پر شدید اثرات مرتب کیے ہیں۔ کبھی مون سون کم بارشیں دیتا ہے اور کبھی شدید بارشیں سیلاب کا باعث بن جاتی ہیں۔\n\nماہرین قیاس کرتے ہیں کہ 1876-78 میں بنگال کا قحط جس سے ہندوستان کی کل آبادی کے پانچ فیصد لوگ مر گئے تھے یہ بھی سپر ال نینو کا شاخسانہ ہی تھا۔\n\nاُس وقت ہندوستان کی کل آبادی 25 کروڑ کے لگ بھگ تھی جس میں سے ایک کروڑ لوگ اس قحط کا نشانہ بن گئے تھے۔\n\nڈاکٹر محمد افضال جو پاکستان کے محکمہ موسمیات کے ڈائریکٹر جنرل ہیں انہوں نے انڈپینڈنٹ اردو سے بات کرتے ہوئے کہا کہ ’اس علاقے میں سپر ایل نینیو کے اثرات 1877 میں سامنے آئے تھے۔\n\n2026 کے حوالے سے موسمیاتی ماہرین یہ دعویٰ کر رہے ہیں کہ 90 فیصد امکانات ہیں کہ سپر ال نینو تشکیل پائے گا۔ جس کی وجہ سے مون سون کی بارشیں کم ہو سکتی ہیں اور ہیٹ ویوز زیادہ ہو سکتی ہیں۔\n\n’درجہ حرات بڑھنے کا براہ راست اثر ہمارے پانی کے ذرائع اور فصلوں کی پیداوار پر پڑتا ہے۔ اس کا سب سے زیادہ اثر موسمِ خزاں اور سردیوں میں پڑے گا ہو سکتا ہے کہ آنے والے سالوں میں ہم معمول سے زیادہ درجہ حرارت کو دیکھیں۔‘\n\nپاکستان کے نامور ماہرِ موسمیات ڈاکٹر محمد حنیف کہتے ہیں کہ اسے سپر ایل نینیو کہہ کر بہت زیادہ خوف و ہراس پھیلایا جا رہا ہے اس کی بجائے اسے طاقتور ایل نینیو کہنا زیادہ مناسب ہو گا.\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے بتایا کہ ’پاکستان میں1997 میں جب ایل نینیو آیا تھا تو مون سون پر تو اس کا کوئی خاص اثر نہیں ہوا تھا لیکن سردیوں کی بارشوں میں کمی ہو گئی تھی۔\n\n’پاکستان میں مون سون کے تین حصے ہوتے ہیں لیکن اس کا زیادہ اثر مون سون کے تیسرے حصے، سردیوں اور اس کے بعد آنے والے موسم بہارپر زیادہ ہو گا کیونکہ تب ال نینو اپنے جوبن پر ہو گا۔ اگر اس کا دورانیہ بڑھ گیا تو پاکستان قحط کا شکار ہو جائے گا لیکن اس سے پہلے اس کے پیٹرن پر مسلسل نظر رکھنی ہو گی۔‘\n\nپاکستان کا زرعی شعبہ اس کی مجموعی قومی پیداوار میں 23 فیصد حصہ ڈالتا ہے جبکہ 37 فیصد لوگوں کا روزگار اس شعبے سے وابستہ ہے۔\n\nپاکستان میں موسمیاتی تبدیلیوں کی وجہ سے پہلے ہی یہ شعبہ زبوں حالی کا شکار ہے اور اس کی اہم فصلوں کی پیداوار 13.5 فیصد تک گر چکی ہے۔\n\nسب سے زیادہ کمی کپاس کی فصل میں دیکھی گئی ہے جس کی پیداوار30 فیصد کم ہو چکی ہے۔ اس سال گندم کی پیداوار بھی مقررہ ہدف سے1.24 فیصد کم ہوئی ہے۔\n\n2015 میں شدید ایل نینو تشکیل پایا تھا جب بحرالکاہل کی سطح کا درجہ حرارت ڈھائی درجے تک بڑھ گیا تھا۔ اس سے کراچی میں گرم ہوا کی لہر آئی تھی جس سے سینکڑوں اموات ہوئی تھیں۔\n\nپاکستان کے پہاڑی علاقوں میں اس سال معمول سے زیادہ گرمی ریکارڈ کی جا رہی ہے جس سے گلیشیئرز کے پھٹنے اور سیلابوں کے خطرے کو نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔\n\nماحول\n\nماحول دوست\n\nسیلاب\n\nماحولیات\n\nیہ خبر پاکستان کے لیے خطرے کی گھنٹی ہے کیوں کہ پاکستان پہلے ہی موسموں کے تغیر و تبدل سے خاصا نقصان اٹھا رہا ہے۔\n\nسجاد اظہر\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">28 اگست، 2025 کو وزیر آباد کے گاؤں چک علی شیر میں سیلابی پانی میں کھڑی فصلیں اور مکان ڈوبے نظر آ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nبلاگ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nراجن پور اور ڈی جی خان میں بارشوں، سیلاب کا ہائی الرٹ\n\nایشیا کے چار ملکوں میں طوفان، سیلاب سے 1300 اموات، ہزار سے زائد لاپتہ\n\nانڈیا سیلاب زدہ سری لنکا کے لیے امدادی سامان روک رہا ہے: پاکستان\n\nایشیا میں سیلاب اور سمندری طوفانوں سے 700 سے زیادہ اموات\n\nSEO Title:\n\nسپر ایل نینیو: پاکستان کے لیے خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "سپر ایل نینیو: پاکستان کے لیے خطرہ کیوں بڑھ رہا ہے؟"
}