{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigptg3hfjss3bkoggukkimiy5sg4ovd77ksh5sadscqu4zs37phtm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3sznp2zz2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifxxvwvynx3x3tchwyy3nm6jhqsq4ypeldcgjecc7yzk5vhbuld3u"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 62365
},
"path": "/node/186009",
"publishedAt": "2026-05-22T08:55:21.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"انڈیا",
"سندھ طاس معاہدہ",
"دفتر خارجہ",
"قرۃ العین شیرازی",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی‘ کا اقدام اس کے خلاف ’اہم قانونی اور سیاسی فرد جرم ہے‘ اور پاکستان اس ضمن میں تمام قانونی راستے استمعال کرے گا۔**\n\nجمعے کو ترجمان وزارت خارجہ طاہر اندرابی نے ہفتہ وار بریفنگ میں کہا ہے کہ یہ انڈیا کے ’خلاف ایک اہم قانونی اور سیاسی فرد جرم ہے، جو مستقبل میں اس کی عالمی حیثیت کو متاثر کر سکتا ہے۔\n\n’پاکستان اس معاہدے، بین الاقوامی قانون اور بین الاقوامی تنازعات کے حل کے طریقہ کار کے تحت دستیاب تمام قانونی راستے مکمل طور پر استعمال کرے گا۔‘\n\nطاہر اندرابی بریفنگ کے بعد ایک سوال کے جواب میں کہا کہ ’معاہدے کی کسی بھی خلاف ورزی کو بین الاقوامی قانون کی سنگین خلاف ورزی تصور کیا جائے گا، جبکہ ایسا اقدام کرنے والے ملک کو نہ صرف قانونی بلکہ ساکھ کے نقصان کا بھی سامنا ہو سکتا ہے۔ ہم پاکستان کے حصے کے ایک قطرہ پانی پر بھی سمجھوتہ نہیں کریں گے۔‘\n\nترجمان وزارت خارجہ نے کہا ہے کہ بین الاقوامی قانون کے تحت تنازعات کے حل کے لیے باقاعدہ طریقہ کار موجود ہیں جن میں سہولت کاری، ثالثی اور مصالحت شامل ہیں۔ جو بھی فریق اس عمل میں شریک ہوتا ہے، اس سے ایک خاص سطح کی ساکھ برقرار رکھنے کی توقع کی جاتی ہے۔\n\nطاہر اندرابی نے کہا معاہدے میں کسی بھی فریق کے لیے علیحدگی اختیار کرنے کی کوئی شق موجود نہیں۔\n\nان کے مطابق ’جہاں تک معاہدے کا تعلق ہے، اس میں کوئی exit clause موجود نہیں۔‘\n\n’کوئی ایسی شق نہیں جو کسی بھی فریق کے معاہدے سے الگ ہونے، اسے معطل رکھنے یا اس کی خلاف ورزی کرنے کی اجازت دے۔ انڈیا جو کر رہا ہے، وہ نہ صرف معاہدے کی خلاف ورزی ہے بلکہ معاہدات کے وسیع تر قانون کی بھی خلاف ورزی ہے۔ یہ ایک سنگین قانونی فرد جرم ہے۔‘\n\nترجمان وزارت خارجہ نے کہا ’ثالثی کی عدالت، جس نے گذشتہ سال اگست میں اپنا بنیادی فیصلہ دیا تھا اور اس ہفتے ایک ضمنی فیصلہ جاری کیا، خود معاہدے کے فریم ورک کے تحت قائم کی گئی تھی۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’ثالثی کا عمل واضح طور پر معاہدے کے تنازع کے حل کے طریقہ کار میں شامل ہے۔ پاکستان نے معاہدے سے باہر جا کر ثالثی کا راستہ اختیار نہیں کیا بلکہ معاہدے کے تحت دستیاب ایک آپشن استعمال کیا۔‘\n\nطاہر اندرابی نے کہا انڈیا خود کو ایک بڑی عالمی طاقت کے طور پر پیش کرتا ہے، دنیا میں بڑا کردار ادا کرنا چاہتا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں مستقل نشست کا خواہاں ہے، ’لیکن دستخط شدہ معاہدوں کے حوالے سے اس کا طرز عمل سنگین سوالات اٹھاتا ہے کیونکہ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ انہیں اپنی مرضی سے violate کرنے کو تیار ہے۔‘\n\nحیدرآباد میں درائے سندھ کے سوکھے حصے پر 24 اپریل،2025 کو شہری چلتے ہوئے (روئٹرز)\n\n\n\n\nانڈیا نے 22 اپریل 2025 کو اپنے زیر انتظام کشمیر کے علاقے پہلگام میں 26 اموات کا الزام پاکستان پر عائد کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے سمیت دیگر یکطرفہ اقدامات کیے تھے، تاہم اسلام آباد پہلگام حملے میں ملوث ہونے کے انڈین الزام کی تردید کرتا ہے۔\n\nپاکستان نے انڈیا کی جانب سے سندھ طاس معاہدے کی یک طرفہ خلاف ورزی پر متعدد بار تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی اور ملک کے لیے ’سرخ لکیر‘ قرار دیا تھا۔\n\n**وزیراعظم شریف کا چین میں مشرق وسطی کے تنازع پر بات چیت کا امکان**\n\nطاہر اندرابی نے کہا ہے کہ ’پاکستان اور چین نے مشرق وسطی کے تنازع کے حوالے سے قریبی رابطہ اور ہم آہنگی برقرار رکھی ہوئی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا چین پاکستان کی کوششوں کی حمایت کرتا رہا ہے۔\n\nترجمان وزارت خارجہ نے کہا وزیر اعظم شہباز شریف ’23 سے 25 مئی کے دوران اپنے دورہ چین میں صدر شی جن پنگ اور وزیراعظم لی چیانگ سے ملاقات کریں گے، جس میں خطے کی صورت حال اور مشرق وسطی کا تنازع بھی زیر بحث آنے کا امکان ہے۔ ایران اور امریکا کے درمیان امن کا عمل پاکستان کے لیے انتہائی اہمیت رکھتا ہے۔‘\n\nانہوں نے پاکستان آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کے ایران کے ممکنہ دورے کے حوالے سے سوال پر کہا کہ وہ ’اس کی نہ ہی تصدیق کرتے ہیں اور نہ تردید کر سکتے ہیں۔‘\n\nترجمان نے کہا ’دونوں فریقین دو طرفہ تعلقات کا جائزہ لیں گے اور سیاسی، اقتصادی اور سٹریٹیجک شعبوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کریں گے۔ وزیر اعظم کا دورہ چین کے شہر ہانگژو (صوبہ ژی جیانگ) سے شروع ہوگا، جہاں وہ پاکستان چین بی ٹو بی سرمایہ کاری کانفرنس کی صدارت کریں گے۔ اس دورہ میں آئی ٹی، ٹیلی کمیونیکیشن، توانائی ذخیرہ اور زراعت کے شعبے شامل ہوں گے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانہوں نے دورہ کی مزید تفصیل بتاتے ہوئے کہا کہ بیجنگ میں وزیر اعظم چینی پیپلز ایسوسی ایشن فار فرینڈشپ ود فارن کنٹریز کی میزبانی میں منعقدہ استقبالیہ تقریب میں شرکت کریں گے، جو دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات کی 75ویں سالگرہ کے موقع پر منعقد کی جا رہی ہے۔\n\n**متحدہ عرب امارات سے ’پاکستانیوں کی بے دخلی‘ کے معاملے کو غیر ضروری بڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت نہیں: ترجمان دفتر خارجہ**\n\nطاہر اندرابی نے کہا پاکستانیوں کے ’متحدہ عرب امارات سے نکالے جانے‘ سے متعلق سوالات کے جواب میں کہا ہے کہ ’جن افراد کو ایمرجنسی ٹریول ڈاکومنٹس جاری کیے گئے، ان کی تعداد تقریبا دو سے تین ہزار کے درمیان ہے، اور یہ عمل واپسی کی ہنگامی نوعیت کو ظاہر کرتا ہے۔‘\n\nترجمان نے کہا اگر اس تعداد کا موازنہ یو اے ای میں موجود پاکستانی کمیونٹی سے کیا جائے جو کہ 20 لاکھ سے زائد افراد پر مشتمل ہے، ’تو یہ تعداد غیر اہم قرار دی جا سکتی ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ یہ صورت حال خاص طور پر اس تناظر میں دیکھی جانی چاہیے کہ بعض قیدیوں کو شاہی معافی دی گئی، جن کی سزائیں معاف یا کم کر دی گئیں اور بعد ازاں انہیں واپس بھیجا گیا۔\n\nترجمان نے کہا پاکستان کے یو اے سے تعلقات مثالی ہیں۔ ’میں نہیں سمجھتا کہ اس معاملے کو غیر ضروری طور پر بڑھا چڑھا کر پیش کرنے کی ضرورت ہے۔‘\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nسندھ طاس معاہدہ\n\nدفتر خارجہ\n\nپاکستان کے دفتر خارجہ نے کہا ہے کہ انڈیا کی جانب سے ’سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی‘ کا اقدام اس کے خلاف ’اہم قانونی اور سیاسی فرد جرم ہے۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 13:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی سات نومبر، 2025 کو اسلام آباد میں ہفتہ وار پریس کانفرنس کر رہے ہیں (دفتر خارجہ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nBkfwNE72\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nایران امریکہ مذاکرات، پاکستان پرامید انداز میں عمل میں شریک: دفتر خارجہ\n\nایرانی طیاروں کی پاکستانی اڈوں پر موجودگی کی خبریں گمراہ کن: وزارت خارجہ\n\nبنوں پولیس پر حملہ، افغان ناظم الامور کی پاکستانی دفتر خارجہ طلبی\n\nیو اے ای سے پاکستانیوں کی واپسی قانونی معاملہ سیاسی نہیں: دفتر خارجہ\n\nSEO Title:\n\nانڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: دفتر خارجہ\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "انڈیا کی سندھ طاس معاہدے کی خلاف ورزی ’قانونی و سیاسی جرم‘: دفتر خارجہ"
}