{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibym6jzbx7l47yhnxf4ei3islszyqutqahlqguuqgec422zkrdw54",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3sx4sdco2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiatjd7ulr3w54dlqhtljo2zxdszpx2jkco7bydubpjfqospuq52pm"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 66068
},
"path": "/node/186010",
"publishedAt": "2026-05-22T11:45:59.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پلوامہ حملہ",
"پاکستان کے زیر انتظام کشمیر",
"مظفرآباد",
"ندیم شاہ",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں جمعرات کو قاتلانہ حملے میں زخمی ہونے والے نجی تعلیمی ادارے کے پرنسپل حمزہ برہان آج جان کی بازی ہار گئے، وہ حملے کے بعد سے انڈین میڈیا پر موضوع گفتگو ہیں اور ان کا تعلق پلوامہ حملے سے جوڑنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔**\n\nگذشتہ روز دارالحکومت مظفرآباد کے مصروف علاقے گوجرہ بائی پاس روڈ پر واقع نجی کالج کے سامنے حمزہ برہان پر قاتلانہ حملہ کیا گیا تھا، جس کے نتیجے میں وہ شدید زخمی ہوئے اور آج صبح پولیس نے تصدیق کی کہ وہ اس حملے میں جان کی بازی ہار چکے ہیں۔\n\nواقعے کے بعد انڈیا میڈیا پر حمزہ برہان کا تعلق پلوامہ حملہ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم پولیس یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔\n\n14 فروری 2019 کو انڈیا کے زیر انتظام کشمیر کے ضلع پلوامہ میں ایک خودکش بمبار نے انڈین فوجی اہلکاروں کی بس کو نشانہ بنایا تھا، جس میں کم از کم 44 سکیورٹی اہلکار مارے گئے تھے۔ پاکستان میں موجود شدت پسند تنظیم جیشِ محمد نے حملے کی ذمہ داری قبول کی تھی۔\n\nحمزہ برہان کی نماز جنازہ کے بعد ان کی تدفین آج راولپنڈی میں کی جا چکی ہے۔ دوسری جانب مظفرآباد میں بھی ان کی غائبانہ نماز جنازہ آزادی چوک مظفرآباد میں ادا کی گئی، جس میں شہریوں نے بڑی تعداد میں شرکت کی ہے۔\n\nڈپٹی سپرنٹنڈنٹ پولیس (ڈی ایس پی) سٹی اشتیاق گیلانی کے مطابق یہ واقعہ گوجرہ کے علاقے میں اُس وقت پیش آیا جب حمزہ برہان کالج سے باہر اپنے چند دوستوں سے ملنے کے بعد واپس کالج کے اندر جا رہے تھے کہ حملہ آور نے انہیں ان کے کالج کے باہر فائرنگ کا نشانہ بنایا۔\n\nپولیس کے مطابق حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا، تاہم بعد ازاں وہ مظفرآباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ اپنا ایک نجی سکول اور کالج چلا رہے تھے (حمزہ برہان فیس بک اکاؤنٹ)\n\n\n\n\nپولیس کے مطابق حملہ آور کی جانب سے حمزہ برہان کو تین گولیاں ماری گئیں، جن میں سے دو ان کے سر اور ایک کمر میں لگی۔\n\nکالج کے سکیورٹی گارڈ کے مطابق: ’گذشتہ روز دوپہر کے وقت کالج کے پرنسپل حمزہ برہان نے انہیں ہدایات دیں کہ میرے کچھ مہمان کالج آ رہے ہیں، جس کے بعد وہ خود انہیں ریسیو کرنے کے لیے کالج کے مرکزی گیٹ سے باہر گئے۔‘\n\nسکیورٹی گارڈ کے مطابق وہ اس وقت اندر ہی موجود تھے جب اچانک فائرنگ کی آواز آئی اور جب انہوں نے باہر آ کر دیکھا تو پرنسپل زخمی حالت میں پڑے ہوئے تھے۔\n\nپولیس کے مطابق حمزہ برہان کو شدید زخمی حالت میں فوری طور پر کمبائنڈ ملٹری ہسپتال مظفرآباد منتقل کیا گیا، تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دورانِ علاج دم توڑ گئے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپولیس کا کہنا ہے کہ واقعے کے فوری بعد فرار ہونے کی کوشش کرتے ہوئے مبینہ ملزم عبداللہ کمال کو گرفتار کر لیا گیا اور اس کے قبضے سے آلہ قتل بھی برآمد کیا جاچکا ہے۔\n\nایس ایس پی مظفرآباد ریاض مغل کی جانب سے اس واقعے کی ایف آئی آر درج ہونے کی تصدیق کی گئی ہے۔\n\nڈی ایس پی اشتیاق گیلانی کے مطابق حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا اور وہ بعد ازاں مظفرآباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ اپنا ایک نجی سکول اور کالج چلا رہے تھے۔\n\nپولیس کے مطابق حملہ کرنے والے زیرِ حراست ملزم کا تعلق پنجاب کے شہر واہ کینٹ سے ہے اور اس کا نام عبداللہ کمال ہے۔\n\nواقعے کے بعد انڈیا میڈیا پر حمزہ برہان کا تعلق پلوامہ حملہ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم پولیس یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔\n\nڈی ایس پی سٹی کا کہنا ہے کہ پکڑے جانے والے مبینہ قاتل سے تفتیش جاری ہے اور حملے کے تمام پہلوؤں کا جائزہ لیا جا رہا ہے۔\n\nاس واقعے میں جان سے جانے والے حمزہ برہان اپنے پیچھے ایک بیوہ اور چھ ماہ کا ایک بچہ چھوڑ گئے ہیں۔\n\nقتل کے اس واقعے کے بعد مظفرآباد کے تعلیمی و سماجی حلقوں کی جانب سے افسوس کا اظہار کیا گیا اور ان کے قاتل کو قرار واقعی سزا دینے کا مطالبہ کیا گیا۔\n\nدوسری جانب واقعے کے بعد ان کے کالج میں زیر تعلیم طلبہ کی جانب سے بھی احتجاج کیا گیا۔\n\nپلوامہ حملہ\n\nپاکستان کے زیر انتظام کشمیر\n\nمظفرآباد\n\nانڈیا میڈیا پر حمزہ برہان کا تعلق پلوامہ حملہ سے جوڑا جا رہا ہے، تاہم پولیس یا کسی سرکاری ادارے کی جانب سے اب تک اس معاملے پر کوئی موقف نہیں دیا گیا۔\n\nندیم شاہ\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">پولیس کے مطابق حمزہ برہان کا تعلق انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر سے تھا، تاہم بعد ازاں وہ مظفرآباد منتقل ہو گئے تھے، جہاں وہ اپنا ایک نجی سکول اور کالج چلا رہے تھے (حمزہ برہان فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\nJGIYpidc\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nپلوامہ حملہ: جیش محمد کے مسعود اظہر، دیگر رہنماؤں کے خلاف فرد جرم دائر\n\nپلوامہ حملہ:بارودی مواد کہاں سے آیا، ایک سال بعد بھی پتہ نہ چل سکا\n\nمظفرآباد: مظاہرین کا احتجاج ختم کرنے کا اعلان، اموات پر یوم سوگ\n\n’انڈین جاسوس‘ قرار دیے جانے والے نوجوانوں کی مظفرآباد میں رہنے کی درخواست\n\nSEO Title:\n\nمظفر آباد میں قتل کیے گئے کالج پرنسپل حمزہ برہان کون تھے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "مظفر آباد میں قتل کیے گئے کالج پرنسپل حمزہ برہان کون تھے؟"
}