{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreiegbythqu3aa2glfjrvekmhs6ugprjmx5cshzzp7z4l6zmnw6epkm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmi3shi73gu2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibcehzx3cb6w6gkqlgqsaozfkdqmls2opilk4idoess43pof5y2nm"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 64105
  },
  "path": "/node/186004",
  "publishedAt": "2026-05-22T16:30:30.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/Gkk89AknGG",
    "May 22, 2026",
    "View this post on Instagram",
    "A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)",
    "pic.twitter.com/5FdAcrpwvF",
    "صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
    "ایران",
    "امریکہ",
    "ایران جنگ",
    "امن  مذاکرات",
    "انڈپینڈنٹ اردو",
    "دنیا",
    "news",
    "لائیو اپ ڈیٹس",
    "@MOISaudiArabia",
    "@StateDept"
  ],
  "textContent": "**امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔**\n\n**اس حوالے سے لائیو اپ ڈیٹس یہاں دیکھیے:**\n\n* * *\n\n**فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے**\n\nپاکستانی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق پاکستان کے چیف آف آرمی سٹاف اور چیف آف ڈیفنس سٹاف فیلڈ مارشل سید عاصم منیر ایران اور امریکی کے درمیان جاری ثالثی کوششوں کے سلسلے میں جمعے کو تہران پہنچ گئے ہیں۔\n\nتہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے ان کا پرتپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقعے پر وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔\n\nدوسری جانب امریکہ اور ایران گذشتہ روز تک تہران کے یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف پر ڈٹے رہے۔\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششوں کی کڑی ہے۔ اس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں برس اپریل میں بھی ایران کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔\n\n* * *\n\n**سعودی وزیر داخلہ کو پاکستانی ہم منصب کی جانب سے ٹیلی فون کال موصول**\n\nوزارت داخلہ سعودی عرب نے کہا ہے کہ آج وزیر داخلہ شہزادہ عبدالعزیز بن سعود کو پاکستان کے وفاقی وزیر داخلہ محسن رضا نقوی کی جانب سے ایک ٹیلی فون کال موصول ہوئی۔\n\n> الأمير عبدالعزيز بن سعود وزير الداخلية يتلقى اتصالًا هاتفيًا من وزير الداخلية الباكستاني. pic.twitter.com/Gkk89AknGG\n>\n> — وزارة الداخلية (@MOISaudiArabia) May 22, 2026\n\nگفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے باہمی دلچسپی کے امور پر تبادلہ خیال کیا، اور دونوں برادر ممالک کے مابین سکیورٹی تعاون اور ہم آہنگی کے پہلوؤں کا جائزہ لیا۔\n\n* * *\n\n**فیلڈ مارشل عاصم منیر ایران کے دورے پر روانہ**\n\nپاکستانی فیلڈ مارشل عاصم منیر جمعے کو تہران کے لیے روانہ ہو گئے ہیں، جہاں ان کی ایران کے اعلیٰ حکام سے ملاقات متوقع ہے۔\n\nپی ٹی وی نے سکیورٹی ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ فیلڈ مارشل عاصم منیر امریکہ۔ایران مذاکرات اور خطے میں امن و استحکام کے حوالے سے ایرانی قیادت سے اہم بات چیت کریں گے۔\n\nامریکہ اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے 11 اور 12 اپریل کو اسلام آباد میں ہونے والے مذاکرات کے پہلے دور کے بعد براہ راست گفتگو کا سلسلہ تو تعطل کا شکار ہے تاہم اس دوران پاکستان کی جانب سے ثالثی کی کوششیں مسلسل جاری ہیں۔\n\nدوسری جانب امریکہ اور ایران گذشتہ روز تک تہران کے یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف پر ڈٹے رہے۔\n\nفیلڈ مارشل عاصم منیر کا حالیہ دورہ امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششوں کی کڑی ہے، جبکہ پاکستان کے وزیر داخلہ سید محسن رضا نقوی بھی مسلسل تیسرے روز تہران میں موجود ہیں۔\n\nاس سے قبل فیلڈ مارشل عاصم منیر نے رواں برس اپریل میں بھی ایران کا تین روزہ دورہ کیا تھا۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Independent Urdu (@indyurdu)\n\n* * *\n\n**ایران مذاکرات پر بنیادی رابطہ کار پاکستان رہا: امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو**\n\n> SECRETARY RUBIO on IRAN NEGOTIATIONS: The primary interlocutor on this has been Pakistan and they’ve done an admirable job. We’ve been working with them on all of this and that will remain the case. pic.twitter.com/5FdAcrpwvF\n\n> — Department of State (@StateDept) May 22, 2026\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے آج کہا ہے کہ ایران مذاکرات میں ’بنیادی رابطہ کار پاکستان رہا ہے اور انہوں نے انتہائی قابلِ تحسین کام کیا ہے۔ ہم ان تمام معاملات پر ان کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں اور آگے بھی صورتحال یہی رہے گی۔‘\n\n* * *\n\n**قطر کی مذاکراتی ٹیم تہران پہنچ گئی: روئٹرز**\n\nروئٹرز نے رپورٹ کیا ہے کہ ایک قطری مذاکراتی ٹیم امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت جمعہ کے روز تہران پہنچی ہے تاکہ ایران کے ساتھ جنگ کے خاتمے اور بقایا مسائل کو حل کرنے کے لیے ایک معاہدے کو یقینی بنانے میں مدد کی جا سکے۔\n\nمعاملے کی معلومات رکھنے والے ایک ذریعے نے جمعہ کو روئٹرز کو بتایا کہ’ایک قطری مذاکراتی ٹیم جمعہ کو تہران میں موجود ہے۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ اس ٹیم نے امریکہ کے ساتھ ہم آہنگی کے تحت سفر کیا ہے اور وہ وہاں ’ایک حتمی معاہدے تک پہنچنے میں مدد کے لیے موجود ہے جو جنگ کا خاتمہ کرے گا اور ایران کے ساتھ بقایا مسائل کو حل کرے گا۔‘\n\nدوحہ، جس نے غزہ جنگ اور بین الاقوامی تناؤ کے دیگر شعبوں میں ثالث کے طور پر کام کیا ہے، حالیہ تنازع کے دوران ایرانی میزائلوں اور ڈرونز کے حملوں کا نشانہ بننے کے بعد اب تک ایران جنگ میں ثالثی کا کردار ادا کرنے سے دور رہا تھا۔\n\nقطری وزارت خارجہ نے تبصرے کی درخواست کا فوری جواب نہیں دیا۔\n\nاگرچہ لڑائی شروع ہونے کے بعد سے پاکستان نے باضابطہ ثالث کے طور پر کام کیا ہے، لیکن قطر کی دوبارہ شمولیت خطے میں ایک امریکی اتحادی اور واشنگٹن اور تہران کے درمیان ایک قابل اعتماد خفیہ راستے (بیک چینل) کے طور پر اس کے دیرینہ کردار کی عکاسی کرتی ہے۔\n\n28 فروری کو ایران پر امریکہ اور اسرائیل کے حملوں سے شروع ہونے والی جنگ میں ایک کمزور جنگ بندی نافذ ہے، لیکن کوئی بڑی کامیابی حاصل نہیں ہو سکی ہے، کیونکہ ایرانی بندرگاہوں کی امریکی ناکہ بندی اور تہران کی جانب سے آبنائے ہرمز کی مؤثر بندش نے مذاکرات کو پیچیدہ بنا دیا ہے۔\n\nایک سینئر ایرانی ذریعے نے جمعرات کو روئٹرز کو بتایا کہ کوئی معاہدہ طے نہیں پایا ہے لیکن اختلافات کم ہوئے ہیں، جس میں ایران کی یورینیم افزودگی اور آبنائے پر اس کا کنٹرول باقی ماندہ پیچیدہ مسائل میں شامل ہیں۔\n\n* * *\n\n**امریکہ نے آبنائے ہرمز کے معاملے پر نیٹو سے مدد نہیں مانگی، مارکو روبیو**\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے سویڈن میں نیٹو وزراء کے اجلاس کے بعد کہا ہے کہ جمعہ کے روز امریکہ کی جانب سے آبنائے ہرمز کے معاملے پر نیٹو سے مدد کی کوئی خاص درخواست نہیں کی گئی، لیکن اگر ایران سپلائی کا یہ راستہ دوبارہ کھولنے سے انکار کرتا ہے تو ایک متبادل پلان (پلان بی) کا ہونا ضروری ہے۔\n\n* * *\n\n**مذاکرات میں ’معمولی پیش رفت‘ ہوئی ہے لیکن غیر یقینی صورتحال برقرار ہے: مارکو روبیو**\n\nامریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے جمعہ کے روز کہا کہ ایران کے ساتھ مذاکرات کے دوران ’معمولی پیش رفت‘ ہوئی ہے، جبکہ اس حوالے سے غیر یقینی صورتحال موجود ہے کہ آیا کوئی معاہدہ طے پا جائے گا یا جنگ دوبارہ شروع ہو جائے گی۔\n\nانہوں نے یہ گفتگو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے چند دن بعد کی جس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ ایران پر فوجی حملے کو مؤخر کر رہے ہیں کیونکہ ’سنجیدہ مذاکرات‘ جاری ہیں۔ ٹرمپ ہفتوں سے یہ دھمکی دے رہے ہیں کہ اگر ایران کوئی معاہدہ نہیں کرتا تو اپریل کے وسط میں ہونے والی جنگ بندی ختم ہو سکتی ہے، اور اس طرح کے معاہدے تک پہنچنے کے لیے پیرامیٹرز تبدیل ہو رہے ہیں۔\n\nروبیو نے سویڈن کے شہر ہیلسنگ برگ میں نیٹو کے وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل بات چیت کی، جہاں توقع ہے کہ یہ فوجی اتحاد اس بات پر بحث کرے گا کہ جنگ ختم ہونے کے بعد ہرمز کی پٹی کی نگرانی میں مدد کے لیے وہ کیا کردار ادا کر سکتا ہے۔\n\nروبیو نے پیش رفت کو بڑھا چڑھا کر پیش کرنے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ ’تھوڑی سی ہلچل ہوئی ہے اور یہ اچھی بات ہے۔‘ انہوں نے کہا کہ بات چیت جاری ہے۔ حالیہ ہفتوں میں بار بار پیش رفت کے دعوے کیے گئے ہیں، لیکن معاہدہ تاحال پہنچ سے دور ہے۔\n\n* * *\n\n**امریکہ، ایران میں معاہدے کے امکانات ’ففٹی ففٹی‘: یو اے ای صدر کے مشیر**\n\nمتحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش نے جمعہ کو کہا ہے کہ امریکہ اور ایران کے درمیان امن معاہدے کے لیے امکانات ’ففٹی ففٹی‘ ہیں، تاہم انہوں نے زور دیا کہ کسی بھی سیاسی حل میں خطے میں عدم استحکام کی بنیادی وجوہات کو حل کرنا ضروری ہے، ورنہ آئندہ تنازعات کا خطرہ برقرار رہے گا۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nپاکستان اس وقت امریکہ اور ایران کے درمیان جنگ بندی کرانے کی کوششوں میں مصروف ہے تاکہ اس جنگ کا خاتمہ ہو سکے، جس نے عالمی معیشت کو ہلا دیا ہے اور آبنائے ہرمز کے ذریعے تجارت کو متاثر کیا ہے۔ یہ آبی راستہ عالمی تیل اور مائع قدرتی گیس کی ترسیل کا ایک بڑا حصہ سنبھالتا ہے۔\n\nپراگ میں گلوبسیک کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انور قرقاش نے کہا کہ معاہدے تک پہنچنے کے امکانات برابر ہیں، لیکن ان کی تشویش یہ ہے کہ ایران اکثر مذاکرات میں حد سے زیادہ سخت مؤقف اختیار کرتا ہے، جس کی وجہ سے وہ ماضی میں کئی مواقع گنوا چکا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ اس مرتبہ ایسا نہ ہو۔\n\nانہوں نے مزید کہا کہ خطے کو ایک سیاسی حل کی ضرورت ہے، کیونکہ فوجی تصادم کا ایک اور دور معاملات کو مزید پیچیدہ بنا دے گا۔ تاہم ان کا کہنا تھا کہ اگر مذاکرات صرف جنگ بندی تک محدود رہے اور بنیادی مسائل حل نہ کیے گئے، تو یہ مستقبل میں ایک نئے تنازع کی بنیاد بن سکتا ہے، جو قابل قبول نہیں ہے۔\n\nانور قرقاش نے خبردار کیا کہ اگر آبنائے ہرمز پر کسی ایک ملک کا کنٹرول قائم ہوا تو یہ ایک خطرناک مثال ہوگی، کیونکہ اس سے اس اہم آبی گزرگاہ کو سیاسی دباؤ کے لیے استعمال کیا جا سکے گا اور ایران کو غیر معمولی اثر و رسوخ مل جائے گا۔\n\nانہوں نے کہا کہ اس آبی راستے کی موجودہ حیثیت میں کسی بھی تبدیلی کے عالمی سطح پر سنگین اثرات ہوں گے، خاص طور پر یورپ کے لیے، اور یورپی ممالک کو اس مسئلے کو اپنی توانائی کی سکیورٹی اور تجارتی مفادات سے براہ راست جڑا ہوا سمجھنا چاہیے۔ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو جنگ سے پہلے والی حیثیت میں واپس آنا چاہیے، جہاں یہ ایک بین الاقوامی آبی راستہ تھا اور جہاں سے توانائی، تجارت اور جہاز رانی بلا رکاوٹ جاری رہتی تھی، جیسا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے ہوتا رہا ہے۔\n\nمتحدہ عرب امارات کے صدر کے سفارتی مشیر انور قرقاش 15 جون 2024 کو سوئٹزرلینڈ کے شہر لوسرن کے قریب برگن اسٹاک ریزورٹ میں یوکرین امن سمٹ کی افتتاحی تقریب میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں (ڈینس بالیبوس / پول / اے ایف پی)\n\n\n\n\n* * *\n\n**ایران سے انتہائی افزودہ یورینیئم حاصل کرلیں گے: ٹرمپ**\n\nامریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکہ بالآخر ایران کا انتہائی افزودہ یورینیم کا ذخیرہ حاصل کر لے گا، جسے واشنگٹن کے خیال میں ایٹمی ہتھیاروں کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ تہران کا کہنا ہے کہ اس کا مقصد خالصتاً پرامن ہے۔\n\nخبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ’ہم اسے حاصل کر لیں گے۔ ہمیں اس کی ضرورت نہیں، ہم اسے نہیں چاہتے۔ ہم شاید اسے حاصل کرنے کے بعد تباہ کر دیں، لیکن ہم انہیں یہ رکھنے نہیں دیں گے۔‘\n\nان کی جانب سے یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکہ اور ایران جمعرات کو تہران کے یورینیم کے ذخیرے اور آبنائے ہرمز کے کنٹرول پر ایک دوسرے سے مختلف مؤقف پر ڈٹے رہے۔\n\nاگرچہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا کہ مذاکرات میں ’کچھ اچھی علامات‘ دکھائی دی ہیں۔\n\nامریکی وزیر خارجہ روبیو نے صحافیوں کو بتایا کہ اگر تہران نے آبنائے ہرمز میں ٹول کا نظام لاگو کیا تو سفارتی حل ناممکن ہو جائے گا۔ لیکن انہوں نے مزید کہا کہ مذاکرات میں کچھ پیش رفت ہوئی ہے۔\n\nروبیو نے کہا کہ ’کچھ اچھی علامات ہیں۔ میں حد سے زیادہ پرامید نہیں ہونا چاہتا تو، دیکھتے ہیں کہ اگلے چند دنوں میں کیا ہوتا ہے۔‘\n\nایک اعلیٰ ایرانی عہدیدار نے جمعرات کو بتایا کہ کوئی معاہدہ طے نہیں پایا لیکن دوریاں کم ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی یورینیم کی افزودگی اور آبنائے ہرمز پر تہران کا کنٹرول بدستور حل طلب مسائل میں شامل ہیں۔\n\nجمعرات کو ایک غیر مستحکم تجارتی سیشن کے دوران تیل کی قیمتوں میں شدید اتار چڑھاؤ دیکھا گیا، جو جنگ کے حل کے غیر یقینی امکانات کی وجہ سے نیچے آ گئیں۔\n\nٹرمپ کے تبصرے سے قبل دو اعلیٰ ایرانی ذرائع نے بتایا کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای نے ہدایت کی ہے کہ یورینیم کو بیرون ملک نہ بھیجا جائے۔\n\nٹرمپ نے آبنائے استعمال کرنے پر فیس وصول کرنے کے تہران کے ارادوں پر بھی شدید تنقید کی، جہاں سے جنگ سے قبل دنیا کے تیل اور قدرتی گیس کا پانچواں حصہ گزرتا تھا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم اسے کھلا رکھنا چاہتے ہیں، ہم اسے آزاد دیکھنا چاہتے ہیں۔ ہم ٹول نہیں چاہتے۔ یہ ایک بین الاقوامی آبی گزرگاہ ہے۔‘\n\nڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ اگر انہیں ایران کی قیادت سے ’درست جوابات‘ نہ ملے تو وہ ایران پر دوبارہ حملے شروع کرنے کے لیے تیار ہیں، جن کا آغاز امریکہ اور اس کے اتحادی اسرائیل نے پہلی بار فروری کے آخر میں کیا تھا۔\n\nایران کے پاسداران انقلاب نے خبردار کیا ہے کہ دوبارہ حملوں کی صورت میں وہ اپنے خطے سے باہر بھی جوابی کارروائی کریں گے۔\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران\n\nامریکہ\n\nایران جنگ\n\nامن  مذاکرات\n\nتہران آمد پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے فیلڈ مارشل کا پُرتپاک استقبال کیا اور انہیں خوش آمدید کہا۔ اس موقعے پر پاکستانی وزیر داخلہ محسن نقوی بھی موجود تھے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nجمعہ, مئی 22, 2026 - 21:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">22 مئی 2026 کو ایران پہنچنے پر ایرانی وزیر داخلہ اسکندر مومنی فیلڈ مارشل عاصم منیر کا استقبال کر رہے ہیں (آئی ایس پی آر)</p>\n\nدنیا\n\ntype:\n\nnews\n\nlabel:\n\nلائیو اپ ڈیٹس\n\nrelated nodes:\n\nایران کے ساتھ مذاکرات معاہدے اور دوبارہ حملے کے درمیان ’بارڈر لائن‘ پر: ٹرمپ\n\nسعودی عرب کا ٹرمپ کے فیصلے کا خیرمقدم، پاکستانی ثالثی کی تعریف\n\nامریکہ کو دوبارہ ایران پر حملہ کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے: ٹرمپ\n\nآبنائے ہرمز میں ٹول ٹیکس نافذ کیا تو ایران سے معاہدہ ممکن نہیں ہوگا: مارکو روبیو\n\nSEO Title:\n\nامریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششیں جاری: فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "امریکہ اور ایران میں ثالثی کی کوششیں جاری: فیلڈ مارشل عاصم منیر تہران پہنچ گئے"
}