{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreido2z5kwwxiwwvu4kgkvzixuznsivfqjkcgswokzxi3uqeefkzqoy",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmfen6d6giq2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreidrabwhtlxa74x2coi4vcnpcakpdbolry3p3ktrgeptz4ygd7o7gm"
},
"mimeType": "image/png",
"size": 1109706
},
"path": "/node/185997",
"publishedAt": "2026-05-21T12:30:39.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"View this post on Instagram",
"A post shared by Abhijeet Dipke (@abhijeetdipke)",
"A post shared by Cockroach Janta Party (@cockroachjantaparty)",
"A post shared by unknown name (@cockroachjantapartykiawaz)",
"جین زی",
"انڈیا",
"نوجوان",
"بے روزگار",
"بھارتیہ جنتا پارٹی",
"نریندر مودی",
"روئٹرز",
"نئی نسل",
"video"
],
"textContent": "**جین زی کے مسائل کو اجاگر کرنے والا محض پانچ دن پرانا ایک گروپ انڈیا میں وائرل ہو گیا ہے، جس نے انسٹاگرام پر حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کے فالوورز کو بھی پیچھے چھوڑ دیا ہے اور سیاست، مہنگائی اور بے روزگاری جیسے موضوعات کو مزاح کے انداز میں زیر بحث لا رہا ہے۔**\n\n’کاکروچ جنتا پارٹی‘ (سی جے پی) نے ایک ہفتے سے بھی کم عرصے میں انسٹاگرام پر تقریباً ڈیڑھ کروڑ فالوورز حاصل کر لیے ہیں۔ انڈین وزیراعظم نریندر مودی کی ہندو قوم پرست بھارتیہ جنتا پارٹی، جو خود کو دنیا کی سب سے بڑی سیاسی جماعت قرار دیتی ہے، کے فالوورز 90 لاکھ سے بھی کم ہیں۔\n\nسی جے پی، جس کا لوگو ایک لال بیگ (کاکروچ) کی تصویر ہے، کا نعرہ ہے ’ نوجوانوں کا سیاسی محاذ، نوجوانوں کے ذریعے، نوجوانوں کے لیے۔‘\n\nگروپ کے 30 سالہ بانی ابھیجیت دپکے نے روئٹرز کو بتایا کہ سی جے پی کا نام چیف جسٹس سوریہ کانت کے گذشتہ ہفتے کے اس بیان کے بعد رکھا گیا، جس میں انہوں نے کچھ بے روزگار نوجوانوں کو کاکروچ سے تشبیہ دی تھی۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Abhijeet Dipke (@abhijeetdipke)\n\nبعد ازاں جسٹس کانت نے وضاحت کی کہ ان کا مقصد نوجوانوں پر تنقید کرنا نہیں تھا بلکہ وہ ان افراد کی طرف اشارہ کر رہے تھے، جن کے پاس ’جعلی اور بوگس ڈگریاں ہیں اور جو پیراسائٹس (طفیلیوں) کی طرح‘ ہیں۔\n\nدپکے نے گروپ کے بارے میں کہا: ’یہ انڈیا کے سیاسی بیانیے کو بدلنے کی ایک تحریک ہے۔ انڈیا کے نوجوان بڑی حد تک مرکزی سیاسی گفتگو سے غائب ہو چکے ہیں۔ کوئی ہمارے بارے میں بات نہیں کر رہا، نہ ہی ہمارے مسائل کو سن رہا ہے یا ہمارے وجود کو تسلیم کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔‘\n\nسی جے پی کے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر ارکان کی جانب سے تیار کردہ گرافکس اور ویڈیوز موجود ہیں، جن میں میڈیا کی آزادی سے لے کر پارلیمنٹ اور کابینہ کی نصف نشستیں خواتین کے لیے مختص کرنے تک مختلف موضوعات پر بات کی جاتی ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nاس کے علاوہ حال ہی میں قومی میڈیکل کالج کے داخلہ ٹیسٹ کی منسوخی کو بھی اجاگر کیا گیا، جو سوالیہ پرچہ لیک ہونے کے باعث منسوخ ہوا اور جس سے تقریباً 23 لاکھ طلبہ متاثر ہوئے۔\n\nانڈیا کے نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی عکاسی رواں ہفتے ہونے والے ایک عالمی سروے میں بھی ہوئی ہے، جس میں بتایا گیا کہ انڈیا کی جین زی، یعنی 1995 سے 2007 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد، روزگار کی کمی اور بڑھتی قیمتوں سے بری طرح متاثر ہوئے ہیں۔\n\nسروے کے مطابق جین زی میں مالی دباؤ زیادہ پایا جاتا ہے اور بڑی تعداد نے گھروں کی استطاعت اور مالی عدم تحفظ جیسے مسائل کو اجاگر کیا ہے۔\n\nانڈیا دنیا کا سب سے زیادہ آبادی والا ملک ہے اور یہاں نوجوانوں کی تعداد بھی دنیا میں سب سے زیادہ ہے، جہاں تقریباً 65 فیصد آبادی 35 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے۔\n\nسرکاری اعداد و شمار کے مطابق 2025 میں 15 سال یا اس سے زائد عمر کے افراد میں بے روزگاری کی شرح 3.1 فیصد تھی، تاہم 15 سے 29 سال کے افراد میں یہ شرح کہیں زیادہ، یعنی 9.9 فیصد رہی، جس میں شہری علاقوں میں 13.6 فیصد اور دیہی علاقوں میں 8.3 فیصد شامل ہیں۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by Cockroach Janta Party (@cockroachjantaparty)\n\nماہرین کا کہنا ہے کہ بہت سے نوجوان اس بات پر تشویش رکھتے ہیں کہ مصنوعی ذہانت کے باعث ابتدائی سطح کی ملازمتوں میں کمی سے یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔\n\nسروے کے مطابق 54 فیصد جین زی اور 44 فیصد ملینئیلز (1983 سے 1994 کے درمیان پیدا ہونے والے افراد) نے معاشی خدشات کے باعث گھروں کی خریداری جیسے بڑے زندگی کے فیصلے مؤخر کر دیے ہیں۔ اس سروے میں 14 ہزار سے زائد افراد شامل تھے اور اس میں بے روزگاری کو سب سے بڑا مسئلہ قرار دیا گیا۔\n\nدپکے نے پڑوسی ممالک بنگلہ دیش اور نیپال میں جین زی کی قیادت میں ہونے والے احتجاجی مظاہروں سے موازنہ کرنے سے گریز کیا، جنہوں نے حکومتوں کو ہٹانے میں کردار ادا کیا اور اس بات پر بھی تبصرہ نہیں کیا کہ آیا وہ کی کوئی سیاسی جماعت بنانے کا ارادہ ہے یا نہیں۔\n\nتاہم انہوں نے کہا: ’یہ ایک بڑی سیاسی تحریک میں تبدیل ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے اور انڈیا کی سیاست کو بدل سکتی ہے۔ اور ہم جو کچھ بھی کریں گے، آئین کے دائرے میں رہ کر کریں گے۔ ہم یہ سب کچھ جمہوری اور پرامن انداز میں کریں گے، یہ نیپال یا بنگلہ دیش جیسا نہیں ہوگا۔‘\n\nدپکے کے مطابق چار لاکھ سے زائد افراد گوگل فارم کے ذریعے سی جے پی کے رکن بننے کے لیے رجسٹر ہو چکے ہیں، جن میں سے 70 فیصد سے زیادہ کی عمر 19 سے 25 سال کے درمیان ہے۔\n\n> View this post on Instagram\n>\n> A post shared by unknown name (@cockroachjantapartykiawaz)\n\nسی جے پی کے مطابق اس کی رکنیت کے لیے چار شرائط ہیں: بے روزگار ہونا، سست ہونا، مسلسل آن لائن رہنا اور پیشہ ورانہ انداز میں شکایت کرنے کی صلاحیت رکھنا۔\n\nلکھنؤ سے تعلق رکھنے والے 26 سالہ سدھارتھ کناوجیا، جنہوں نے سی جے پی میں شمولیت اختیار کی ہے، نے کہا: ’مجھے کاکروچ جنتا پارٹی واقعی پسند ہے کیونکہ اس ملک میں کوئی نوجوانوں کی آواز نہیں سنتا اور نوجوانوں کے لیے ملازمتیں بھی کافی نہیں ہیں۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا: ’یہ پارٹی نوجوانوں کے مفاد میں بات کرتی ہے اور درست مسائل اٹھاتی ہے۔ کاکروچ مزاحمت کی علامت ہے، جو ہر مشکل کے بعد دوبارہ کھڑا ہو جاتا ہے۔‘\n\nجین زی\n\nانڈیا\n\nنوجوان\n\nبے روزگار\n\nبھارتیہ جنتا پارٹی\n\nنریندر مودی\n\nصرف پانچ دن میں انسٹاگرام پر ڈیڑھ کروڑ فالوورز حاصل کرنے والا گروپ بے روزگاری، مہنگائی اور نوجوانوں کے مسائل کو مزاحیہ انداز میں اجاگر کر رہا ہے۔\n\nروئٹرز\n\nجمعرات, مئی 21, 2026 - 17:30\n\nMain image:\n\n> <p>جین زی کے مسائل کو اجاگر کرنے والا ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نامی گروپ انڈیا میں وائرل ہو گیا ہے (سی جے پی/انسٹاگرام)</p>\n\nنئی نسل\n\njw id:\n\ncDYlpoCq\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nڈھاکہ یونیورسٹی کی ’جین زی‘ اتنی سیاسی سرگرم کیوں؟\n\nجین زی کو جعلی خبروں سے نمٹنے کی تربیت دیں گے: وزیر اطلاعات\n\nجین زی سب سے زیادہ کون سا پاس ورڈ استعمال کرتے ہیں؟\n\n’آفس فراگ‘: جین زی میں بار بار نوکریاں بدلنے کا بڑھتا رجحان\n\nSEO Title:\n\nانڈیا: جین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے پانچ دن میں مودی کی پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "جین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے پانچ دن میں مودی کی پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا"
}