{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidvlz6v3e2echssqeywqhsjagwr3ykniteprz6rxxq4egt3idd7wm",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmfemt7fzjj2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiextga7o7p37vmsnwswvnkutkwwzon6yvuvwlu7awtm6oa2q773au"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 53073
},
"path": "/node/186000",
"publishedAt": "2026-05-21T13:40:23.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"@Meta",
"May 19, 2026",
"pic.twitter.com/vZHYZnAvev",
"May 18, 2026",
"ناروے",
"انڈیا",
"نریندر مودی",
"آزادی صحافت",
"میٹا",
"فیس بک",
"انسٹاگرام",
"نمیتا سنگھ",
"سوشل",
"news",
"@HelleLyngSvends"
],
"textContent": "**ایک نارویجین صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس اس وقت معطل کر دیے گئے جب انہوں نے انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی سے ان کے ناروے کے دورے کے دوران پریس فریڈم کے حوالے سے سوال کیا، جس کے بعد یہ معاملہ سیاسی تنازع کی صورت اختیار کر گیا۔**\n\nاوسلو سے شائع ہونے والے اخبار کی رپورٹر ہیلے لِنگ نے بدھ کو کہا کہ وہ میٹا کے دونوں پلیٹ فارمز سے لاک آؤٹ ہو گئی ہیں اور یہ صورت حال اس وقت پیدا ہوئی جب ان کے سوالات کو انڈین وزیراعظم اور سینیئر سفارت کاروں کے حوالے سے کافی توجہ ملی۔\n\nانہوں نے اس حوالے سے ایکس پر لکھا: ’اگر آپ مجھے انسٹاگرام یا فیس بک پر رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تو میں بتانا چاہتی ہوں کہ میرے دونوں اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ہیں۔ میں زیادہ سے زیادہ انڈینز کو جواب دینا چاہتی تھی لیکن اب میرے جوابات تاخیر کا شکار ہوں گے۔ امید ہے میرے اکاؤنٹس بحال ہو جائیں گے۔‘\n\nاس کے ساتھ انہوں نے میٹا کو ٹیگ بھی کیا۔\n\n> If you’re trying to reach me on Instagram or Facebook, I would like to let you know I have been suspended from both accounts. I have wanted to respond to as many Indians as possible, but my responses will now be delayed. I hope I will get my accounts back. @Meta\n>\n> — Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 19, 2026\n\nمیٹا نے تاحال اس معطلی پر کوئی عوامی تبصرہ نہیں کیا اور نہ ہی اس کی کوئی وجہ بیان کی ہے۔ اس حوالے سے دی انڈپینڈنٹ نے کمپنی سے رابطہ کیا ہے۔\n\nیہ تنازع اس وقت شروع ہوا جب اوسلو میں نریندر مودی اور ناروے کے وزیراعظم یوناس گہر سٹورے کی مشترکہ بیان جاری کرنے کی تقریب کے دوران دونوں رہنماؤں نے صحافیوں کے سوالات نہ لینے کا اعلان کیا۔ جیسے ہی وہ پوڈیم سے جانے لگے، ہیلے لِنگ نے سوال کیا: ’وزیرِاعظم مودی، آپ دنیا کے سب سے آزاد پریس سے سوال کیوں نہیں لیتے؟‘\n\nیہ واضح نہیں کہ مودی نے یہ سوال سنا یا نہیں کیونکہ انہوں نے کوئی جواب نہیں دیا اور ہال سے چلے گئے۔\n\nیہ لمحہ تیزی سے انٹرنیٹ پر وائرل ہو گیا اور انڈیا میں پریس فریڈم، سیاسی جواب دہی اور مودی کی طویل عرصے سے تنقیدی سوالات سے گریز کی پالیسی پر بحث شروع ہو گئی۔\n\nوزیر اعظم نے مودی نے 2014 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے اب تک کوئی روایتی پریس کانفرنس نہیں کی اور غیر ملکی دوروں کے دوران بھی شاذ و نادر ہی صحافیوں کے براہِ راست سوالات کے جواب دیتے ہیں۔\n\n> Primeminister of India, Narendra Modi, would not take my question, I was not expecting him to.\n>\n> Norway has the number one spot on the World Press Freedom Index, India is at 157th, competing with Palestine, Emirates & Cuba.\n>\n> It is our job to question the powers we cooperate… pic.twitter.com/vZHYZnAvev\n>\n> — Helle Lyng (@HelleLyngSvends) May 18, 2026\n\nبعد میں ہیلے لِنگ نے بی بی سی ہندی سے گفتگو میں کہا: ’یہی جارحانہ صحافت کا طریقہ ہوتا ہے۔ آپ کو سوال روکنے کی کوشش کرنی ہوتی ہے، مزید جواب لینے کی کوشش کرنی ہوتی ہے۔ میں وہ جوابات حاصل کرنا چاہتی تھی جن کی مجھے تلاش تھی، لیکن نہیں، مجھے وہ جواب نہیں ملا۔‘\n\nانہوں نے ایک اور سوشل میڈیا پوسٹ میں ناروے اور انڈیا کے درمیان ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں فرق کی طرف بھی اشارہ کیا۔\n\nانہوں نے لکھا: ’انڈیا کے وزیراعظم نریندر مودی نے میرا سوال نہیں لیا؛ مجھے اس کی توقع بھی نہیں تھی۔ ناروے ورلڈ پریس فریڈم انڈیکس میں پہلے نمبر پر ہے جبکہ انڈیا 157ویں نمبر پر۔‘\n\nیہ تنازع اس وقت مزید بڑھ گیا جب اوسلو میں انڈین سفارت کاروں کی پریس بریفنگ کے دوران انہیں اپنے سوالات براہِ راست رکھنے کا موقع دیا گیا۔ اس دوران انہوں نے انڈین وزارت خارجہ سے پریس فریڈم اور انسانی حقوق کے الزامات پر سوال کیا: ’ہم آپ پر کیوں اعتماد کریں؟‘\n\nسینیئر انڈین سفارت کار سیبی جارج نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے انڈیا کے جمہوری اداروں اور آئینی تحفظات کا دفاع کیا۔\n\nانہوں نے کہا: ’ہم برابری پر یقین رکھتے ہیں، ہم انسانی حقوق پر یقین رکھتے ہیں۔ اور انسانی حقوق کی بہترین مثال کیا ہے؟ حکومت تبدیل کرنے کا حق، ووٹ کا حق۔‘\n\nایک موقعے پر انہوں نے صحافی کو ٹوکتے ہوئے کہا: ’یہ میری پریس کانفرنس ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nسیبی جارج نے انڈیا کے بارے میں بین الاقوامی فہم کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی رپورٹس کو مسترد کیا۔\n\nانہوں نے کہا: ’لوگوں کو انڈیا کے حجم کا اندازہ نہیں ہے۔ وہ کچھ نامعلوم، غیر متعلقہ این جی اوز کی ایک دو رپورٹس پڑھتے ہیں اور پھر سوال کرنے آ جاتے ہیں۔‘\n\nہیلے لِنگ نے بعد میں کہا کہ انہوں نے انسانی حقوق کے الزامات پر مزید وضاحت لینے کی بار بار کوشش کی لیکن انہیں واضح جواب نہیں ملا۔\n\nانڈیا کے اپوزیشن رہنما راہل گاندھی نے اس واقعے کی ویڈیو سامنے آنے کے بعد وزیرِاعظم پر تنقید کرتے ہوئے انہیں ’کمپرومائزڈ وزیراعظم‘ قرار دیا۔\n\nانہوں نے لکھا: ’جب دنیا ایک کمپرومائزڈ وزیراعظم کو گھبرا کر سوالات سے بھاگتے دیکھتی ہے تو انڈیا کی ساکھ کا کیا ہوتا ہے؟ جب چھپانے کو کچھ نہ ہو تو ڈرنے کی بھی ضرورت نہیں ہوتی۔‘\n\nدوسری جانب ہیلے لِنگ نے کہا کہ وہ ابھی تک یہ سمجھنے کی کوشش کر رہی ہیں کہ ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس کیوں بند کیے گئے۔\n\nانہوں نے لکھا: ’کیا کوئی مجھے بتا سکتا ہے کہ میرا انسٹاگرام اور فیس بک کیوں معطل ہوا؟ میں سمجھنے کی کوشش کر رہی ہوں کہ آیا یہ ٹو سٹیپ ویریفکیشن کے غلط استعمال کی وجہ سے ہوا یا کوئی اور وجہ تھی۔‘\n\nانہوں نے یہ بھی پوچھا کہ اگر اکاؤنٹس بحال ہو جائیں تو انہیں محفوظ رکھنے کے لیے کیا طریقہ اختیار کیا جائے۔\n\nناروے\n\nانڈیا\n\nنریندر مودی\n\nآزادی صحافت\n\nمیٹا\n\nفیس بک\n\nانسٹاگرام\n\nصحافی ہیلے لِنگ کا کہنا ہے کہ ناروے میں مودی کے دورے کے دوران پریس فریڈم سے متعلق سوال اٹھانے کے بعد ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل ہو گئے، جس نے آن لائن بحث کو جنم دے دیا۔\n\nنمیتا سنگھ\n\nجمعرات, مئی 21, 2026 - 18:30\n\nMain image:\n\n> <p>صحافی نے دعویٰ کیا ہے کہ ان کے انسٹاگرام اور فیس بک اکاؤنٹس معطل کر دیے گئے ( ہیلے لِنگ/ایکس)</p>\n\nسوشل\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nجین زی کی ’کاکروچ جنتا پارٹی‘ نے پانچ دن میں مودی کی پارٹی کو پیچھے چھوڑ دیا\n\n’مودی نے ملک بیچ دیا:‘ امریکی ٹیرف معاہدے پر انڈیا میں کڑی تنقید\n\nپاکستان انڈیا جنگ اور صحافتی تقاضے\n\nدنیا بھر میں صحافت کو بتدریج جرم بنایا جا رہا ہے: رپورٹ\n\nSEO Title:\n\nمودی سے سوال کے بعد میٹا نے اکاؤنٹس معطل کر دیے: نارویجین صحافی\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/world/europe/norway-journalist-helle-lyng-india-modi-press-freedom-b2980851.html\n\nTranslator name:\n\nعبدالقیوم\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "مودی سے سوال کے بعد میٹا نے اکاؤنٹس معطل کر دیے: نارویجین صحافی"
}