{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreia3nehj56hfmx6vfd3hixzbm6pjzdrml4wqn5fx2kcqvi6amdz56m",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmfemorhy2h2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreibdpdevkhrssvrelefjrnbxxonhphmrhfi5wgrgpw2kducbvf5aam"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 53881
  },
  "path": "/node/186001",
  "publishedAt": "2026-05-21T14:15:41.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "pic.twitter.com/lnOBxTg1Be",
    "May 20, 2026",
    "Pakistan",
    "Chakwal",
    "pic.twitter.com/1n90xJmwVY",
    "https://t.co/4eSojeS8OU",
    "pic.twitter.com/TEopYYj8uw",
    "May 21, 2026",
    "پاکستان",
    "اسرائیل",
    "کیمپس",
    "ارشد چوہدری",
    "news",
    "@chemajournalist",
    "@hyperRoguex",
    "@M1Pak"
  ],
  "textContent": "**پنجاب کے شہر چکوال کی سرکاری یونیورسٹی کی ایک تقریب میں اسرائیلی پرچم لگانے پر شدید تنقید کے بعد جامعہ نے جمعرات کو اسے ’نامناسب حرکت‘ قرار دیتے ہوئے اس حوالے سے تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔**\n\nسوشل میڈیا پر یونیورسٹی آف چکوال میں منعقدہ ایک تقریب کی ایک مختصر ویڈیو وائرل ہے جس میں دیگر ممالک کے پرچموں کے بیچ اسرائیل کا پرچم بھی دیکھا جا سکتا ہے۔\n\nاس حوالے سے یونیورسٹی آف چکوال کے وائس چانسلر فرخ ارسلان صدیقی نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا: ’ڈیپارٹمنٹ آف انٹرنیشنل ریلیشنز میں 15 دن پہلے ایک تقریب ہوئی جہاں طلبہ کے ایک گروپ نے عالمی تعلقات کے حوالے سے پروجیکٹ تیار کیا۔‘\n\nفرخ ارسلان کے مطابق: ’اسی دوران اسرائیل سمیت دیگر ممالک کے جھنڈے لگائے گئے، لیکن یونیورسٹی انتظامیہ کی اس بارے میں نہ مشاورت شامل ہے نہ ہی اجازت لی گئی۔‘\n\nان کا مزید کہنا تھا: ’اسرائیل سے متعلق پاکستان کے موقف کے حوالے سے یہ نامناسب حرکت تھی۔ ہم نے انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔‘\n\n> یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز (IR) ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ اسٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کی موجودگی کا کیا مقصد تھا ،وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ اور حناء پرویز بٹ صاحبہ ضرور اسکی مذمت کریں گی اور 24 گھنٹے میں ضلح چکوال کی ساری بیورو کریسی اور چکوال… pic.twitter.com/lnOBxTg1Be\n>\n> — ijaz cheema (@chemajournalist) May 20, 2026\n\nانہوں نے کہا کہ ’آئندہ 48 گھنٹوں میں ذمہ داران کا تعین کر کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔‘\n\nپاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جو فلسطین کے حق میں نہ صرف اسرائیل کے وجود کو تسلیم نہیں کرتے بلکہ اپنے شہریوں کو اسرائیل جانے سے قانونی طور پر منع کرنے کے لیے پاکستانی پاسپورٹ پر یہ عبارت بھی درج کر رکھی ہے کہ ’یہ پاسپورٹ سوائے اسرائیل کے دنیا کے تمام ممالک کے لیے کار آمد ہے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nنہ صرف پاکستان کی حکومت بلکہ عوام بھی فلسطینی عوام اور فلسطینی کاز کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کرتے آئے ہیں بلکہ اسرائیل کی فلسطینیوں کے خلاف پرتشدد کارروائی کی پاکستان کی جانب سے ہمیشہ پرزور مذمت کی جاتی رہی ہے، جس سے معاملے پر پاکستانی عوام کے جذباتی لگاؤ کی عکاسی ہوتی ہے۔\n\nان حالات میں جبکہ پاکستان کی حکومت کا اسرائیل سے متعلق دو ٹوک موقف ہے، اسرائیل کا پرچم یونیورسٹی میں دکھائی دینا ایک ایسا غیرمعمولی واقعہ تھا، جس پر کھلے عام تنقید کی جا رہی ہے۔\n\nایک صارف نے ایکس پر لکھا: ’یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ سٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی پرچم لگا کر طلبہ و طالبات کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟‘\n\nایک اور ایکس صارف کا کہنا تھا کہ ’اسرائیلی جھنڈا یونیورسٹی آف چکوال کے آئی آر ڈیپارٹمنٹ میں لگایا گیا ہے۔ کیا اس کے پیچھے وہی سوچ ہے جسے آہستہ آہستہ بنایا جا رہا ہے؟ یونیورسٹی نے وضاحت دی ہے لیکن۔۔۔؟‘\n\n> یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز (IR) ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ اسٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈا لگا کر طلبہ و طالبات کو کیا پیغام دیا جا رہا ہے۔#Pakistan #Chakwal pic.twitter.com/1n90xJmwVY\n>\n> — Hyper|RogueX ™ (@hyperRoguex) May 20, 2026\n\nاسی طرح ایک اور سوشل میڈیا صارف کا کہنا تھا کہ ’یونیورسٹی آف چکوال کے انٹرنیشنل ریلیشنز ڈیپارٹمنٹ کی طرف سے منعقدہ سٹریٹجک کانفرنس میں اسرائیلی جھنڈے کی موجودگی کا کیا مقصد تھا؟‘\n\nان کا مزید کہنا تھا کہ ’وزیر اطلاعات پنجاب عظمیٰ بخاری صاحبہ اور حنا پرویز بٹ صاحبہ ضرور اس کی مذمت کریں گی اور 24 گھنٹے میں ضلح چکوال کی ساری بیورو کریسی اور چکوال یونیورسٹی انتظامیہ کو فارغ کرنے کا اعلان بھی کروائیں گی۔۔۔۔‘\n\n> An Israeli flag displayed by University of Chakwal’s International Relations Department.\n>\n>  Is this the same mindset being gradually created ?\n>\n>  By the way university has given an explanation but ... ?https://t.co/4eSojeS8OU pic.twitter.com/TEopYYj8uw\n>\n> — M.Madni (@M1Pak) May 21, 2026\n\nچکوال یونیورسٹی میں اسرائیلی پرچم پر تنقید میں اس وقت مزید اضافہ ہو گیا جب سوشل میڈیا پر ایک اور تصویر منظرعام پر آئی، جس میں مقام تو وہی تھا مگر اسرائیل کے پرچم کی جگہ چین کا پرچم دکھائی دے رہا تھا۔\n\nاگرچہ بعد میں یہ تو واضح ہو گیا کہ تصویر کو ایڈٹ کر کے پرچموں کو تبدیل کیا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں ہوا کہ ایسا کس نے کیا تھا۔\n\nپاکستان\n\nاسرائیل\n\nکیمپس\n\nیونیورسٹی آف چکوال کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے متعلق پاکستان کے موقف کے حوالے سے یہ نامناسب حرکت تھی جس پر انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nجمعرات, مئی 21, 2026 - 19:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">یونیورسٹی آف چکوال میں منعقدہ ایک تقریب کے دوران دیگر ممالک کے پرچموں کے ساتھ اسرائیل کا پرچم بھی دیکھا جا سکتا ہے (سکرین گریب/ ایکس)</p>\n\nکیمپس\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکراچی: اسرائیلی جھنڈا تھمانے پر تنقید کے باوجود سکول انتظامیہ کا دفاع\n\nپاکستانی قیادت نے کبھی اسرائیل کا دورہ نہیں کیا: دفتر خارجہ\n\nپاکستانی صحافیوں اور محققین کا اسرائیل کا خفیہ دورہ: اسرائیلی میڈیا\n\nامدادی فلوٹیلا کے زیرحراست کارکنوں کو رہا کیا جائے: پاکستان\n\nSEO Title:\n\nچکوال یونیورسٹی کا کیمپس ایونٹ میں اسرائیلی پرچم لگانے پر تحقیقات کا آغاز\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "چکوال یونیورسٹی کا کیمپس ایونٹ میں اسرائیلی پرچم لگانے پر تحقیقات کا آغاز"
}