{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiguizezobi4ly37cfjyj4wu25ymho4yn2ja7s4fp27il42yho53ga",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmbzcyrqg7e2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiek3bl7cn4nnhrzfgkukrqcav2yq2c7crre4nf4qvkkb3sbkxaaba"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 150668
},
"path": "/node/185981",
"publishedAt": "2026-05-20T11:45:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ڈھاکہ",
"بنگلہ دیش",
"گارمنٹ فیکٹریاں",
"روئٹرز",
"ایشیا"
],
"textContent": "**کپڑوں کی فراہمی میں دنیا کے دوسرے بڑے ملک، بنگلہ دیش بھر کے کارخانوں میں ایران تنازعے کے باعث ہونے والی بجلی کی قلت کی وجہ سے پنکھے اور کولر بند کر دیے گئے ہیں، جس سے مزدور گرمی سے بے حال ہیں اور پیداواری صلاحیت میں کمی سے اربوں ڈالر کا نقصان ہونے کا خطرہ ہے۔**\n\nبنگلہ دیش میں سال کے گرم ترین موسم کے آغاز کے ساتھ ہی دارالحکومت ڈھاکہ کے اطراف میں ملبوسات کی صنعت کے علاقے کو اپریل کے آخر سے کبھی بارش اور کبھی جھلسا دینے والی گرمی کا سامنا ہے۔\n\nشدید حبس کے ساتھ درجہ حرارت 37 ڈگری سیلسئیس تک پہنچ گیا ہے۔\n\nفیشن کے شعبے سے وابستہ آزاد مشیر جہانگیر عالم نے کہا: ’ملبوسات تیار کرنے والے کئی چھوٹے صنعت کاروں کے لیے گرڈ کی بجلی بند ہونے کے دوران جنریٹر چلانا بہت مہنگا پڑتا ہے، اس لیے وہ اکثر پنکھوں اور ٹھنڈک کے دیگر آلات کا استعمال کم کر دیتے ہیں۔‘\n\nمزدوروں کے حقوق کی ایک تنظیم، بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی کی ایگزیکٹو ڈائریکٹر کلپنا اختر نے کہا کہ ’اس قدر تکلیف دہ گرمی میں بہت سے مزدور بے تحاشا پسینہ آنے، چکر آنے، متلی، پٹھوں میں کھنچاؤ اور بے ہوش ہونے کے باعث بیمار پڑ رہے ہیں۔‘\n\nبنگلہ دیش اپنی توانائی کی لگ بھگ 95 فیصد ضروریات کے لیے درآمد پر انحصار کرتا ہے۔ مشرق وسطیٰ کے تنازعے کے باعث توانائی کی فراہمی میں قلت اور ایندھن کی قیمتوں میں تیزی سے اضافہ ہوا ہے۔\n\nڈھاکہ کے قریب غازی پور میں متین سپننگ مل کے مینیجر اے کے ایم قمر الزمان کہتے ہیں کہ ’توانائی کی فراہمی میں تعطل کے باعث صنعتیں بمشکل اپنی پیداوار جاری رکھے ہوئے ہیں، مناسب طریقے سے پنکھے، ہوا کی نکاسی اور ٹھنڈک کے آلات چلانا تو دور کی بات ہے۔‘\n\nفروری میں شائع ہونے والے بنگلہ دیش انسٹی ٹیوٹ آف لیبر سٹڈیز کے ایک سروے میں بتایا گیا ہے کہ انٹرویو دینے والے 215 گارمنٹ ورکرز میں سے 78 فیصد نے موسم گرما میں زیادہ گرمی کا سامنا کیا، جبکہ ان میں سے لگ بھگ نصف کا کہنا تھا کہ بڑھتے ہوئے درجہ حرارت نے انہیں کمزور اور بیمار کر دیا ہے۔\n\nطبی جریدے ’دی لانسیٹ‘ کی صحت اور موسمیاتی تبدیلی پر سالانہ رپورٹ، دی لانسیٹ کاؤنٹ ڈاؤن کی 2025 کی ایک ڈیٹا شیٹ میں کہا گیا ہے کہ 2024 میں گرمی کے باعث بنگلہ دیش میں کام کے قریباً 29 ارب ممکنہ گھنٹے ضائع ہوئے، جو 1999-1990 کی اوسط کے مقابلے میں 92 فیصد زیادہ ہے۔\n\nاس میں کہا گیا ہے کہ اس سے جڑا آمدنی کا نقصان 24 ارب ڈالر رہا، جو بنگلہ دیش کی جی ڈی پی کے لگ بھگ 5 فیصد کے برابر ہے۔\n\nکارنیل یونیورسٹی کے آئی ایل آر گلوبل لیبر انسٹی ٹیوٹ کی 2023 کی ایک سٹڈی میں کہا گیا ہے کہ کارخانوں میں گرمی کو کم کرنے میں ناکامی اور ان کے ارد گرد سیلاب کے باعث 2030 تک بنگلہ دیش، کمبوڈیا، پاکستان اور ویتنام میں ملبوسات کی صنعت کو 65 ارب ڈالر کی آمدنی اور لگ بھگ دس لاکھ ممکنہ ملازمتوں کا نقصان ہو سکتا ہے۔\n\nنو اپریل 2025 کو غازی پورمیں بنگلہ دیشی گارمنٹ ورکرز ایک کارخانے کے سلائی کے شعبے میں کپڑے تیار کر رہے ہیں (روئٹرز)\n\n\n\n\n**گرمی سے بچانے کی کوششیں سست روی کا شکار**\n\nمزدور رہنماؤں اور اس شعبے کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ہیٹ ویوز کے دوران مزدوروں کے تحفظ کے اقدامات غیر تسلی بخش رہے اور کارخانوں میں گرمی کے خطرات سے نمٹنے کے لیے کوئی ٹھوس فریم ورک موجود نہیں ہے۔\n\nسٹینڈ ڈاٹ ارتھ، آکسفیم اور بنگلہ دیش سینٹر فار ورکر سولیڈیرٹی (بی سی ڈبلیو ایس) کی فروری کی ایک رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پانچ بڑے عالمی برانڈز نے موسمیاتی اثرات سے ہم آہنگ ہونے کی اہمیت کو تو تسلیم کیا ہے، لیکن گرمی کے دباؤ جیسے مسائل سے نمٹنے میں مزدوروں کی مدد کے لیے بہت کم فنڈنگ دستیاب تھی۔\n\nغازی پور کے ایک مزدور منیر سکدر نے تھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کو بتایا: ’کچھ کارخانے تو بیمار ہونے والوں کو نمکول اور طبی امداد تک فراہم نہیں کرتے۔‘\n\nسکدر نے کہا کہ ’لیکن گھر پر صورت حال اس سے بھی بدتر ہے جہاں ہمیں اکثر دن بھر میں صرف چند گھنٹے ہی بجلی ملتی ہے۔‘\n\nمزدوروں اور کم آمدنی والے رہائشیوں کو گرمی سے بچانے کی کوششیں سست روی سے آگے بڑھی ہیں۔\n\nڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن اور ڈھاکہ ساؤتھ سٹی کارپوریشن نے 2024 میں کلائمیٹ ایکشن پلانز متعارف کروائے جن میں مزدوروں سمیت لوگوں کو گرمی کے اثرات سے بچانے کے لیے کئی اقدامات کی فہرست دی گئی، جیسا کہ پیشگی انتباہ، گرمی سے متعلق بیماریوں سے نمٹنے کے لیے شہر کے صحت کی دیکھ بھال کے نظام کو مضبوط بنانا اور عمارتوں اور کچی آبادیوں میں ٹھنڈی چھتیں بنانا۔\n\nپائیداری پر کام کرنے والی مقامی حکومتوں کے ایک عالمی نیٹ ورک، آئی سی ایل ای آئی کے بنگلہ دیش کے کنٹری نمائندے محمد زبیر راشد نے کہا: ’لیکن ان منصوبوں پر زیادہ پیش رفت نہیں ہوئی ہے۔‘ آئی سی ایل ای آئی نے ان منصوبوں کی تیاری میں سٹی کارپوریشنوں کی مدد کی تھی۔\n\nڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کا مقصد درخت لگانے اور کم آمدنی والے رہائشیوں میں شعور بیدار کرنے جیسے اقدامات کے ساتھ ایک ہیٹ ایکشن پلان تیار کرنا بھی تھا۔\n\nڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن میں بطور چیف ہیٹ آفیسر کام کرنے والی بشریٰ آفرین کا کہنا تھا کہ ’لیکن 2024 میں اس سیاسی ہنگامہ آرائی کے بعد ہیٹ ایکشن پلان پر کام رک گیا جس کے نتیجے میں شیخ حسینہ کی حکومت کا تختہ الٹ دیا گیا تھا۔‘\n\n29 دسمبر 2024 کو لی گئی اس تصویر میں ایک گارمنٹ ورکر ڈھاکہ کے علاقے دھامرائی میں ٹیکسٹائل فیکٹری میں کپڑے سی رہے ہیں (اے ایف پی)\n\n\n\n\n**ڈی کاربنائزیشن کو ترجیح**\n\nحکومت نے 31-2026 کے لیے صحت کا ایک قومی ایڈاپٹیشن پلان (مطابقتی منصوبہ) اپنایا ہے، جبکہ شہر کی جنوبی میونسپلٹی نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ آئندہ پانچ برسوں میں تین لاکھ درخت لگائے گی۔\n\nبراک جیمز پی گرانٹ سکول آف پبلک ہیلتھ کی ایک ایسوسی ایٹ پروفیسر فرزانہ میشا نے کہا کہ ان کی ٹیم ڈھاکہ بھر میں گرمی کی صورت حال کا نقشہ بنانے اور ایک ہیٹ ہیلتھ ایکشن پلان کا مسودہ تیار کرنے کے لیے حکومت کے ساتھ مل کر کام کر رہی ہے، جس میں گرین زونز بنانا، ٹھنڈک کے شیلٹرز تعمیر کرنا اور مقامی سطح پر پیشگی انتباہ جیسے علاقے کی مناسبت سے مخصوص اقدامات شامل ہوں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمیشا نے کہا کہ بنگلہ دیش میں کارخانوں کے اندر ہوا کی نکاسی، پینے کے پانی اور ابتدائی طبی امداد کے اصول تو موجود ہیں، لیکن گرمی کے دباؤ سے بچاؤ کے مخصوص حفاظتی اقدامات جیسے درجہ حرارت کے ایک مقررہ حد سے تجاوز کرنے پر لازمی وقفے دینا اور تھکاوٹ اور گرمی کے دباؤ کو کام کی جگہ پر صحت کے خطرات کے طور پر تسلیم کرنے کا اب بھی فقدان ہے۔\n\nموسمیاتی ماہرین کا کہنا ہے کہ بڑھتی ہوئی گرمی سپلائی چین کا بھی ایک مسئلہ ہے، لیکن برانڈز کے تعمیل کے نظاموں میں اسے اکثر نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔\n\nگرمی سے متعلق آگاہی پر کام کرنے والی ایک بین الاقوامی این جی او ہیٹ واچ کی بانی اپیکشتا ورشنے نے کہا کہ ’میں نے اب تک ایسا کوئی سپلائی چین آڈٹ فریم ورک نہیں دیکھا جس میں مزدوروں پر گرمی کے اثرات کا ذکر ہو۔‘\n\nسٹینڈ ڈاٹ ارتھ، آکسفیم اور بی سی ڈبلیو ایس کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ بہتر کولنگ سسٹم، صاف پانی، کارخانے کی سطح پر صحت کی سہولیات اور ٹریڈ یونین کی زیر قیادت اقدامات، مزدوروں کو گرمی سے ہم آہنگ ہونے میں مدد دینے کے حوالے سے اہم اقدامات ہیں۔\n\nتھامسن روئٹرز فاؤنڈیشن کی جانب سے رابطہ کیے جانے پر کئی عالمی برانڈز نے گرمی سے مطابقت پیدا کرنے کے حوالے سے تبصرہ کرنے کی درخواستوں کا کوئی جواب نہیں دیا۔\n\nاپیکشتا ورشنے نے کہا کہ برانڈز کے پائیداری بجٹ میں عام طور پر مزدوروں کی مطابقت کے بجائے ڈی کاربنائزیشن کو ترجیح دی جاتی ہے، جبکہ اقوام متحدہ کے موسمیاتی عمل کے تحت موسمیاتی فنڈنگ کے وعدے کارخانوں کے اندر کام کرنے والے گارمنٹ ورکرز تک نہیں پہنچے ہیں۔\n\nان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں مزدوروں کو گرمی کے دباؤ کے مطابق ڈھالنے میں مدد کے لیے رقم کی ضرورت ہے۔‘\n\nڈھاکہ\n\nبنگلہ دیش\n\nگارمنٹ فیکٹریاں\n\nایران تنازعے کے باعث ہونے والی بجلی کی قلت کی وجہ سے ملک بھر کے کارخانوں میں پنکھے اور کولر بند کر دیے گئے ہیں۔\n\nروئٹرز\n\nبدھ, مئی 20, 2026 - 16:45\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">29 دسمبر 2024 کو لی گئی اس تصویر میں ورکرز ڈھاکہ کے علاقے دھامرائی میں گارمنٹس فیکٹری میں کام کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\nrelated nodes:\n\nسلہٹ ٹیسٹ: پاکستان کو بنگلہ دیش کے ہاتھوں مسلسل دوسرا وائٹ واش\n\nڈھاکہ یونیورسٹی کی ’جین زی‘ اتنی سیاسی سرگرم کیوں؟\n\nڈھاکہ: پاکستانی سپیکر اور انڈین وزیر خارجہ میں مصافحہ\n\nڈھاکہ ایئرپورٹ آتشزدگی: گارمنٹس سیکٹر کو کروڑوں ڈالر کا نقصان\n\nSEO Title:\n\nایران جنگ کے باعث بجلی کی قلت: بنگلہ دیشی گارمنٹس کارخانوں میں پنکھے، کولر بند\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ایران جنگ کے باعث بجلی کی قلت: بنگلہ دیشی گارمنٹس کارخانوں میں پنکھے، کولر بند"
}