{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreihvcdmpfwnsfssm2cxqbupkyfnrrfiskamfnimyfp5balxyby4vqi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmbs5a6rtke2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreia4crqtv2zsdvjmzsnrgyrtxyjkwtumxrhpbk4c3csqmk7qbx3zq4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 63241
  },
  "path": "/node/185978",
  "publishedAt": "2026-05-20T11:15:15.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فیفا ورلڈ کپ 2026",
    "فٹ بال",
    "اے ایف پی",
    "news"
  ],
  "textContent": "**فیفا ورلڈ کپ 2026 کے آغاز میں اب صرف تین ہفتے ہی باقی رہ گئے ہیں۔ 11 جون سے شروع ہونے والے اس ٹورنامنٹ کے مقابلے امریکہ، کینیڈا اور میکسیکو میں کھیلے جائیں گے۔**\n\nیہ پہلا موقع ہے جب ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ تو کیوں نہ اس تاریخی ورلڈ کپ کو جیتنے کے بڑے دعویداروں پر ایک نظر ڈالی جائے۔\n\n**فرانس**\n\nرینکنگ میں عالمی نمبر ایک اور دو مرتبہ ورلڈ کپ جیتنے والی فرانس کی ٹیم گذشتہ سات ایڈیشنز میں دو بار فائنل پینلٹی پر ہار چکی ہے۔\n\nیہ ٹورنامنٹ طویل عرصے سے کوچنگ کرنے والے ڈیڈیئر ڈیشامپ کے لیے آخری ہوگا، جو 2012 سے ٹیم کے انچارج ہیں۔\n\nفرانس نے مارچ میں برازیل کو 2-1 سے شکست دی، پھر بالکل مختلف ابتدائی لائن اپ کے ساتھ کولمبیا کو 3-1 سے ہرایا۔ دونوں میچ امریکہ میں کھیلے گئے۔\n\nگذشتہ جون سے فرانس نو میچوں میں ناقابلِ شکست ہے اور ان کے پاس نہایت خطرناک اٹیک موجود ہے، جس میں موجودہ بیلن ڈور فاتح عثمان ڈیمبیلے، کلین ایمباپے، مائیکل اولیسے اور رایان چرکی شامل ہیں۔\n\nانہیں روکنا آسان نہیں ہوگا۔\n\n**سپین**\n\nیورپی چیمپیئن سپین نے یورو 2024 جیتنے کے بعد سے کوئی میچ نہیں ہارا۔ لوئس ڈی لا فوینتے کی ٹیم ایک مکمل متوازن مشین کی طرح کھیل رہی ہے، جس کا نمایاں ستارہ نوجوان سپر سٹار لامین یامال ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nتاہم 18 سالہ بارسلونا ونگر اس وقت ہیم سٹرنگ انجری کا شکار ہیں اور اطلاعات ہیں کہ وہ گروپ مرحلے کے پہلے دو میچز سے باہر رہ سکتے ہیں۔\n\nان کے بارسلونا ساتھی فرمن لوپیز بھی پاؤں کی ہڈی ٹوٹنے کے باعث مکمل ٹورنامنٹ سے باہر ہو سکتے ہیں جبکہ آرسنل کے یکل مرینو، جنہوں نے 2025 میں سپین کے لیے 10 میچوں میں 8 گول کیے، جنوری سے انجری کے باعث نہیں کھیل سکے۔\n\nاس کے باوجود ان کے پاس اب بھی بے پناہ صلاحیت موجود ہے، جیسے روڈری اور پیڈری۔\n\n**ارجنٹینا**\n\nلیونل سکالونی کی ارجنٹینا 2022 میں جیتا گیا ٹائٹل برقرار رکھنے کا خواب دیکھ رہی ہے۔\n\nوہ ٹورنامنٹ لیونل میسی کے کیریئر کا سب سے بڑا لمحہ تھا اور اب جبکہ وہ اگلے ماہ 39 سال کے ہونے جا رہے ہیں، ان کے لیے ویسی ہی کارکردگی دہرانا مشکل دکھائی دیتا ہے۔\n\nتاہم میسی اب امریکہ کو مکمل طور پر گھر جیسا محسوس کرتے ہیں اور انہوں نے اس سال انٹر میامی کے لیے 13 ایم ایل ایس میچوں میں 12 گول کیے ہیں۔\n\nارجنٹینا نے امریکہ میں ہونے والا 2024 کوپا امریکہ بھی جیتا اور جنوبی امریکی کوالیفائنگ میں آسانی سے پہلی پوزیشن حاصل کی۔\n\nمیسی کے علاوہ ٹیم کے پاس لاوتارو مارٹینیز، جولین الواریز اور نیکو پاز جیسے باصلاحیت اٹیکنگ کھلاڑی بھی موجود ہیں۔\n\n**انگلینڈ**\n\nگیرتھ ساؤتھ گیٹ کے دور میں کئی بار قریب پہنچ کر ناکامی کے بعد، انگلینڈ اب جرمن کوچ تھامس ٹوخیل سے 1966 کے بعد پہلا بڑا ٹائٹل جیتنے کی امید رکھتا ہے۔\n\nانگلینڈ نے آسانی سے کوالیفائی کیا، مگر کچھ خدشات بھی موجود ہیں۔ مارچ میں انہوں نے یوراگوئے سے ڈرا کیا اور جاپان سے دوستانہ میچ ہار گئے۔\n\nجوڈ بیلنگھم اور کول پالمر کے سیزن بھی زیادہ ہموار نہیں رہے۔\n\nتاہم انگلینڈ کو امید ہوگی کہ ہیری کین اپنی شاندار فارم برقرار رکھیں گے، جنہوں نے بائرن میونخ کے لیے اس سیزن میں 58 گول کیے ہیں۔\n\n**پرتگال**\n\nپرتگال، جو کبھی سیمی فائنل سے آگے نہیں جا سکا، اس بار سنجیدہ امیدوار سمجھا جا رہا ہے، بشرطیکہ کرسٹیانو رونالڈو کی حد سے زیادہ اثر انداز موجودگی ٹیم پر بوجھ نہ بن جائے۔\n\n41 سال کی عمر میں یہ ان کا چھٹا ورلڈ کپ ہوگا، مگر ٹیم کی اصل طاقت ان کا مڈفیلڈ ہے، جس میں وٹینیا، جواو نیویس، برنارڈو سلوا اور برونو فرنینڈیز شامل ہیں۔\n\nگذشتہ سال یوئیفا نیشنز لیگ جیتنے کے باوجود پرتگال کوالیفائنگ میں کچھ لڑکھڑا گیا، خاص طور پر آئرلینڈ کے خلاف شکست میں جب رونالڈو کو ریڈ کارڈ ملا۔\n\n**برازیل**\n\nنئے کوچ کارلو اینچلوتی کے تحت برازیل کی پیشرفت دیکھنا دلچسپ ہوگا۔\n\nبرازیل کا ایک اطالوی کوچ کی طرف جانا اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ ٹیم اس وقت اپنی فٹبال شناخت کے بحران سے گزر رہی ہے۔\n\nاینچلوتی نے نیمار کو سکواڈ میں شامل کیا ہے، حالانکہ 34 سالہ نیمار 2023 کے بعد سے قومی ٹیم کے لیے نہیں کھیلے۔ وہ اس وقت سانتوس کے لیے کھیل رہے ہیں۔\n\nاب ونیسیئس جونیئر برازیل کے اٹیک کے مرکزی رہنما ہیں۔\n\n2002 میں پانچواں ورلڈ کپ جیتنے کے بعد برازیل صرف ایک بار سیمی فائنل تک پہنچا، جب 2014 میں میزبان ہونے کے باوجود جرمنی نے انہیں 7-1 سے شکست دی تھی۔\n\nاینچلوتی نے کہا: ’ورلڈ کپ کوئی مکمل ٹیم نہیں جیتتی، کیونکہ مکمل ٹیم وجود ہی نہیں رکھتی۔ یہ ٹورنامنٹ وہ ٹیم جیتے گی جو سب سے زیادہ مضبوط اعصاب رکھتی ہو۔‘\n\n**جرمنی**\n\nجولین ناگلزمن کی ٹیم رینکنگ میں نیدرلینڈز، مراکش اور بیلجیئم سے بھی پیچھے ہے، اس لیے یہ کہنا مشکل ہے کہ جرمنی 2014 کے بعد پہلا ورلڈ کپ جیت سکے گا۔\n\nجرمنی 2018 اور 2022 میں گروپ مرحلے سے باہر ہو گیا تھا، جبکہ یورو 2024 میں میزبان ہونے کے باوجود کوارٹر فائنل میں شکست کھا گیا۔\n\nاس کے باوجود جوشوا کیمِش، فلوریان ورٹز اور کائی ہیورٹز جیسے کھلاڑی جرمنی کو اب بھی خطرناک ٹیم بناتے ہیں۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nفٹ بال\n\nیہ پہلا موقع ہے جب ورلڈ کپ میں 48 ٹیمیں حصہ لے رہی ہیں۔ تو کیوں نہ اس تاریخی ورلڈ کپ کو جیتنے کے بڑے دعویداروں پر ایک نظر ڈالی جائے۔\n\nاے ایف پی\n\nبدھ, مئی 20, 2026 - 16:15\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">فیفا ورلڈ کپ ٹرافی 14 مئی 2026 کو نیو یارک میں ایک ایونٹ دوران رکھی ہے (فوٹو: اے ایف پی)</p>\n\nفٹ بال\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکیا انڈین فینز اس بار فٹ بال ورلڈ کپ نہیں دیکھ پائیں گے؟\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nفیفا ورلڈ کپ فائنل کی ٹکٹس اوپن مارکیٹ میں 11 ہزار ڈالر کی\n\nکروڑوں شائقین فٹ بال ورلڈ کپ 2026 کیوں نہیں دیکھ پائیں گے؟\n\nSEO Title:\n\nفیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "فیفا ورلڈ کپ جیتنے کے لیے بڑے امیدواروں کی تیاری کیسی ہے؟"
}