{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreihgcxiozy7x7pgc3ywc4nzmrbdxychuftsbfchubzmu2uje3ukwia",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmbeq4cje2u2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifgobx5ux3gx3xj4wwrrxp56v52lrg7zxcpfixc62tqapm44gb5ze"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 81714
},
"path": "/node/185976",
"publishedAt": "2026-05-20T04:30:32.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"روس",
"شی جن پنگ",
"ولادی میر پوتن",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"ایران",
"یوکرین",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"دنیا",
"video"
],
"textContent": "**چین کے صدر شی جن پنگ نے بدھ کو بیجنگ میں روس کے صدر ولادی میر پوتن کا استقبال کیا۔ یہ ملاقات دونوں ممالک کے تعلقات کو مضبوط کرنے کے لیے اہم سمجھی جا رہی ہے اور ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب چند ہی روز قبل امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ بھی چین کا دورہ کر چکے ہیں۔**\n\nشی جن پنگ نے گریٹ ہال آف دی پیپل میں پروقار تقریب کے ساتھ پوتن کا استقبال کیا۔ بعد ازاں دونوں وفود کے درمیان دوطرفہ مذاکرات ہوئے، جس کے بعد تعاون کے معاہدوں پر دستخط کی تقریب متوقع ہے۔\n\nماہرین کے مطابق پوتن کا یہ دورہ، ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد، چین کی ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط دکھانے کی کوشش ہے۔\n\nخبر رساں ادارے ’اے پی‘ کے مطابق لندن یونیورسٹی کے چائنا انسٹی ٹیوٹ کے ڈائریکٹر سٹیو سانگ نے کہا کہ ’یہ واضح پیغام ہے کہ چین جس طاقت کے ساتھ چاہے دوستی اور سٹریٹجک شراکت قائم رکھ سکتا ہے، اور امریکہ ان میں سے صرف ایک ہے۔’\n\nروسی اور چینی رہنما توانائی، سلامتی اور دوطرفہ تعلقات پر تبادلہ خیال کریں گے۔ چینی سرکاری میڈیا کے مطابق دونوں ممالک نے 2001 میں ہونے والے دوستی کے معاہدے میں توسیع پر بھی اتفاق کیا ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n2022 میں یوکرین پر روس کے حملے کے بعد چین روس کا سب سے بڑا تجارتی شراکت دار بن گیا۔ چین نے خود کو اس تنازع میں غیر جانبدار قرار دیا، تاہم اس نے امریکی اور یورپی پابندیوں کے باوجود روس کے ساتھ تجارتی تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہیں۔\n\nچین، روسی تیل اور گیس کا سب سے بڑا خریدار ہے اور ماسکو کو توقع ہے کہ ایران میں جنگ کے باعث طلب میں مزید اضافہ ہو گا۔ چین نے مغرب کے اس مطالبے کو بھی نظرانداز کیا کہ وہ روس کی دفاعی صنعت کو ہائی ٹیک پرزہ جات کی فراہمی بند کرے۔\n\nیوری اوشاکوف نے بتایا کہ 2026 کی پہلی سہ ماہی میں روس کی چین کو تیل کی\n\nپوتن نے اس ماہ کے شروع میں کہا تھا کہ ’روس اور چین نے تیل اور گیس کے شعبے میں تعاون کو ایک اہم سطح تک پہنچا دیا ہے۔ تقریباً تمام اہم معاملات طے ہو چکے ہیں۔ اگر اس دورے کے دوران ہم انہیں مکمل کرنے میں کامیاب ہو گئے تو مجھے بے حد خوشی ہوگی۔‘\n\nپوتن نے دونوں ممالک کے تعلقات کو عالمی سطح پر استحکام اور توازن کے لیے اہم قرار دیا۔\n\nانہوں نے کہا کہ ’چین اور روس جیسے ممالک کے درمیان تعاون یقیناً عالمی نظام میں توازن اور استحکام کا باعث بنتا ہے۔‘\n\nچین اور روس کے صدور کے درمیان یہ ملاقات اس لیے بھی توجہ کا مرکز ہے کہ حال ہی میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے بھی چین کا دورہ کیا تھا اور اس لیے\n\nاس لیے شی جن پنگ اور ولادی میر پوتن کی اس ملاقات کے انداز اور نتائج پر گہری نظر رکھی جا رہی ہے۔\n\nروس\n\nشی جن پنگ\n\nولادی میر پوتن\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nایران\n\nیوکرین\n\nماہرین کے مطابق پوتن کا یہ دورہ، ٹرمپ کے حالیہ دورے کے بعد، چین کی ایک بااثر عالمی طاقت کے طور پر حیثیت کو مزید مضبوط دکھانے کی کوشش ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nبدھ, مئی 20, 2026 - 09:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">روس کے صدر ولادی میر پوتن اور چین کے صدر شی جن پنگ 20 مئی 2026 کو بیجنگ میں مصافحہ کر رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nدنیا\n\njw id:\n\nvVWSdezM\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟\n\nٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟\n\nچین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ\n\nباقر قالیباف نگران برائے ایران چین تعلقات مقرر\n\nSEO Title:\n\nصدر ٹرمپ کے بعد روس کے صدر بیجنگ میں، باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط متوقع\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "صدر ٹرمپ کے بعد روس کے صدر بیجنگ میں، باہمی تعاون کے معاہدوں پر دستخط متوقع"
}