{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreieiwbqt4nzjcfmedbqykucotmngfcleke7hlcrmyv2ijrjzyhegsm",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaxbzmddz22"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreihopiqahd5dpfrgchsialy72i7puvzjurcwuavaebyklzzsrvs4ze"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 66206
  },
  "path": "/node/185973",
  "publishedAt": "2026-05-20T01:38:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "منشیات",
    "نشہ",
    "آمنہ مفتی",
    "نقطۂ نظر",
    "news"
  ],
  "textContent": "**پچھلے کچھ دنوں سے ایک خبر نے ہلچل مچا رکھی ہے، خبر ہے ایک مبینہ منشیات ڈیلر کی، جو مبینہ طور پر کروڑوں روپوں کی منشیات کی ترسیل میں ملوث تھیں۔**\n\nخبر آئی، تصویر آئی، آڈیو آئی، ویڈیو آئی اور خلقت شہر جو کہنے کو فسانے مانگتی ہے، اس کہانی پہ رائے دینے پہ بھی مستعد ہو گئی کہ یہی دنیا کی ریت ہے۔\n\nہر سال دو سال بعد ایک کیس نکلتا ہے اور لوگ منشیات فروشوں اور ان کے گاہکوں کو دیکھ کر کانوں کو ہاتھ لگاتے ہیں۔ کیس کا کیا بنا؟ یہ کچھ عرصے بعد سب بھول بھال جاتے ہیں۔\n\nوہی، یا کوئی دوسرا منشیات فروش وہی جگہ لیتا ہے، گاہک کچھ عرصہ محتاط رہتے ہیں اور پھر دوبارہ سب کچھ ٹھکانے پہ آجاتا ہے اور وہی شراب، وہی چرس، وہی آئس، وہی کوکین ہوتی ہے اور وہی نشئی۔\n\nپچھلے سال ہی مصطفیٰ قتل کیس سے منسلک کتنے چہرے سامنے آئے اور پھر کہانی غائب۔ ظاہر جعفر کیس کسے بھول سکتا ہے؟ ظاہر ابھی جیل میں ہے اور کبھی کبھی مجھے یہ خیال آتا ہے کہ وہ شخص جو بار بار ری ہیب جانے کے بعد بھی نشے سے باز نہ آیا اور نشے میں اس قدر غرق ہو گیا کہ ایک بھیانک قتل کا مرتکب ہوا، کیا اتنے عرصے سے وہ جیل میں منشیات کے بغیر رہ رہا ہے؟\n\nاگر وہ نشے کے بغیر رہ سکتا تھا تو پہلے ایسا ممکن کیوں نہیں ہوا؟ اور اگر ایسا نہیں ہے تو کیا جیل میں وہ منشیات استعمال کر رہا ہے؟\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nمصطفیٰ عامر کیس کا ملزم ارمغان قریشی بھی سوا سال سے جیل میں ہے، اس کے باپ کی ویڈیو ز اب بھی کہیں نہ کہیں موجود ہوں گی جن میں وہ چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ میرا لڑکا مر جائے گا، اسے ڈرگز چاہییں۔\n\nارمغان آج بھی 4 مقدمات کے سلسلے میں پولیس کی تحویل میں ہے اور سوال وہیں موجود ہے، کیا اس نے منشیات چھوڑ دی ہیں یا ۔۔۔؟\n\nجن افراد نے نشے کے عادی افراد کو قریب سے دیکھا ہے وہ بخوبی جانتے ہیں کہ ایسے افراد جو نہ صرف منشیات استعمال کرتے ہیں بلکہ اس کی فروخت میں بھی ملوث ہوتے ہیں، منشیات کے بغیر نہیں رہ سکتے اور اس نشے کے حصول کے لیے وہ کسی بھی حد تک جاتے ہیں۔\n\nاب ایک نہیں کئی سوالات جنم لیتے ہیں۔ یہ جو گاہے گاہے منشیات فروش پکڑے جاتے ہیں، پھر یہ کہاں جاتے ہیں؟ جب تک یہ نہیں پکڑے جاتے تو کیوں نہیں پکڑے جاتے اور جب پکڑے جاتے ہیں تو کیا واقعی پکڑے جاتے ہیں؟\n\nسوالوں کے جواب ہوتے تو منشیات کا یہ زہر ہماری رگوں میں اس طرح نہ دوڑ رہا ہوتا، کتنے ہی خاندان اس منحوس لت کے بالواسطہ یا بلاواسطہ شکار بنے۔\n\nنشہ کرنے والا خود بھی بہت دُکھتا ہے اور خود سے منسلک لوگوں کو بھی بہت دکھاتا ہے۔ انمول پنکی نے گرفتار ہونے سے پہلے مبینہ طور پہ اپنی جگہ کسی اور کو دینے کا اعلان کیا تھا۔\n\nکارٹیل سلامت رہتے ہیں، نشے چلتے رہتے ہیں۔ وہ جیل شاید ابھی بنی ہی نہیں جس میں سارے مجرم قید کیے جا سکیں۔ معاشرے میں یہ لوگ موجود رہتے ہیں۔\n\nنشے سے پاک معاشرہ ایک رات میں نہیں بن جائے گا۔ اس کے لیے صرف قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ضرورت نہیں ہے ایک قومی ضمیر چاہیے، وسیع ذہن اور سوچ کے ساتھ اس ’گیپ‘ کو کھوجیے، جو نوجوانوں کو نشے کی طرف لے کر جاتا ہے۔\n\nاس ’گیپ‘ کو بھرنے کے لیے کلچرل پالیسی، تعلیمی اداروں میں کھیل اور غیر نصابی سرگرمیوں کے فروغ اور دیگر سماجی اصلاحات کی بھی شدید ضرورت ہے۔\n\nہمارے معاشرے میں عمومی طور پہ جب علم ہوتا ہے کہ کوئی شخص نشے کا عادی ہو گیا ہے تو اس سے کچے پکے وعدے لے کر فٹافٹ کسی معصوم لڑکی سے شادی کر دی جاتی ہے کیونکہ بیوی ٹھیک کر لے گی۔\n\nمنشیات کے فروغ کی بہت بڑی وجہ یہ سماجی رویہ ہے۔ پولیس، جیل، سزائیں، یہ سب اس کے کہیں بعد آتی ہیں۔ اپنی اپنی سماجی ذمے داری کو سمجھیے، پنکی کے حلیے،گفتگو اور لباس پہ رائے دے کر جب اکتا جائیں تو ذرا دیر کو سوچیے اور دیکھیے کہ آپ کے قریب کوئی نشے کا مریض ہے تو آپ اس کے گھر والوں کی کیسے مدد کر سکتے ہیں اور کیسے اسے اس لت سے نکال سکتے ہیں۔\n\nاگر آپ یہ کام نہیں کر سکتے تو ازراہ کرم، انمول پنکی کی فوٹو شاپ تصویریں اور لطائف سننے اور آگے بھیجنے سے بھی باز رہیے۔ یہ آگ ہے اور جب جنگل میں آگ لگی ہو اور اسے کوئی بجھانے نہ اٹھے تو ایک روز وہ آپ کے گھونسلے تک بھی پہنچے گی۔\n\nہاتھ سینکنا چھوڑیے، آگ بجھانے کی تدبیر کیجیے۔\n\n_**نوٹ: یہ تحریر کالم نگار کی ذاتی آرا پر مبنی ہے، جس سے انڈپینڈنٹ اردو کا متفق ہونا ضروری نہیں۔**_\n\nمنشیات\n\nنشہ\n\nانمول پنکی نے گرفتار ہونے سے پہلے مبینہ طور پہ اپنی جگہ کسی اور کو دینے کا اعلان کیا تھا۔کارٹیل سلامت رہتے ہیں، نشے چلتے رہتے ہیں۔ وہ جیل شاید ابھی بنی ہی نہیں، جس میں سارے مجرم قید کیے جا سکیں۔\n\nآمنہ مفتی\n\nبدھ, مئی 20, 2026 - 06:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">منشیات کی مبینہ سپلائر انمول عرف پنکی 12 مئی 2026 کو کراچی سٹی کورٹ میں پیشی کے موقعے پر (ویڈیو سکرین گریب/سوشل میڈیا)</p>\n\nنقطۂ نظر\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nکوکین کی ’سپلائر‘ انمول ہیں کون اور انہیں ’تحفظ‘ کون دے رہا تھا؟\n\nکراچی میں منشیات کی آن لائن فروخت کیسے ہوتی ہے؟\n\nکشمیر، منشیات کی زد میں\n\nانمول عرف پنکی کے جسمانی ریمانڈ میں 22 مئی تک توسیع\n\nSEO Title:\n\nمنشیات اور معاشرتی ’گیپ‘\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
  "title": "منشیات اور معاشرتی ’گیپ‘"
}