{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreibjgfto67zzqe3pfdxxeztqm3nqmlltudsn3ac34gebf7kbw5wvaq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqmo5uicf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiam2muqm75ebpj4vkmdv6t4bgev3m2xg3k5stmpmsziaqtx2m2vgy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 36407
},
"path": "/node/185964",
"publishedAt": "2026-05-19T05:47:01.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"چین",
"روس",
"ولادی میر پوتن",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"امریکہ",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**روسی صدر ولادی میر پوتن منگل کو چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کے لیے بیجنگ پہنچ رہے ہیں، جہاں دونوں رہنما سکینڈے نیویا سے جنوب مشرقی ایشیا تک پھیلی سٹریٹجک شراکت داری کو مزید مضبوط بنانے پر غور کریں گے۔**\n\nدونوں جوہری طاقتوں کے تعلقات کی بنیاد چین کی مضبوط معیشت اور روس کی وسیع تیل پیداوار پر قائم ہے، جو اس ہفتے ہونے والی بات چیت کا اہم محور ہونے کا امکان ہے۔\n\nملاقات سے قبل اہم نکات:\n\n**مضبوط دوستی، بار بار ملاقاتیں**\n\nپوتن چین کے باقاعدہ دورہ کرنے والے رہنماؤں میں شامل ہیں اور وہ شی جن پنگ سے درجنوں بار ملاقات کر چکے ہیں۔ دونوں رہنما اکثر ایک دوسرے کو پیغامات، تعزیتی پیغامات اور مبارکباد بھیجتے رہتے ہیں، جن میں سالگرہ کی مبارکباد بھی شامل ہے۔\n\nچینی وزارت خارجہ کے مطابق یہ پوتن کا 25واں دورہ چین ہوگا۔\n\nروسی صدر نے آخری بار ستمبر میں چین کا دورہ کیا تھا، جب وہ شی جن پنگ کے خصوصی مہمان کے طور پر ایک بڑی فوجی پریڈ میں شریک ہوئے تھے۔\n\nپوتن نے اس ہفتے کہا کہ انہیں ’پورا یقین‘ ہے کہ وہ اور شی جن پنگ ’روس-چین شراکت داری کو مزید گہرا کرنے کے لیے ہر ممکن اقدام کریں گے‘۔\n\nبیجنگ ماسکو کے ساتھ اپنے تعلقات کو ’فولادی‘ قرار دیتا ہے، اور ماہرین کے مطابق ٹرمپ کے پرتکلف استقبال کے بعد شی جن پنگ یہ ظاہر کرنا چاہیں گے کہ چین اور روس کے تعلقات پہلے کی طرح مضبوط ہیں۔\n\nکنگز کالج لندن کی ماہر نتاشا کرٹ کے مطابق، ’یہ واشنگٹن کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ یہ 30 سال سے زائد عرصے پر محیط ایک مضبوط تعلق ہے۔‘\n\nشنگھائی انسٹی ٹیوٹ فار انٹرنیشنل سٹڈیز کے ژاؤ لونگ نے کہا کہ یہ تاثر پوتن کے لیے بھی اہم ہے، جو شی جن پنگ کو ’عزیز دوست‘ کہتے ہیں۔\n\nانہوں نے کہا ’ماسکو یہ یقین دہانی چاہتا ہے کہ چین کی سٹریٹجک سوچ میں روس اب بھی ایک خصوصی مقام رکھتا ہے۔‘\n\n**غیر مساوی تعلقات، مشترکہ مفادات**\n\nتاہم چین اور روس کے تعلقات مکمل طور پر برابر نوعیت کے نہیں ہیں۔\n\nمرکیٹر انسٹی ٹیوٹ فار چائنا اسٹڈیز (MERICS) کے اعداد و شمار کے مطابق، یوکرین پر روسی حملے کے بعد دونوں ممالک کے درمیان تجارت 2020 کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہو چکی ہے۔\n\nاعداد و شمار کے مطابق چین کی روس سے درآمدات میں 70 فیصد سے زیادہ حصہ معدنی ایندھن پر مشتمل ہے، جبکہ 2022 کے بعد روسی تیل کی چین کو برآمدات میں تقریباً 30 فیصد اضافہ ہوا۔\n\nتاہم 2025 میں روس سے درآمدات چین کی مجموعی درآمدات کا صرف تقریباً 5 فیصد تھیں۔\n\nاس کے برعکس روسی خبر رساں ادارے تاس کے مطابق، 2025 میں چین روس کی درآمدات کا ایک تہائی سے زیادہ اور برآمدات کا ایک چوتھائی سے زیادہ حصہ رکھتا تھا۔\n\nاس کے باوجود دونوں ممالک، جن کی سرحد 4 ہزار کلومیٹر طویل ہے، امریکہ اور مغرب کے غلبے والے عالمی نظام کی مخالفت میں مشترکہ مؤقف رکھتے ہیں۔\n\nدونوں ایران اور شمالی کوریا کے دیرینہ شراکت دار بھی ہیں۔\n\n**ٹرمپ کے دورے کے چند روز بعد**\n\nپوتن کا یہ دورہ، جو رواں سال ان کا پہلا غیر ملکی دورہ ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے حالیہ دورۂ بیجنگ کے چند روز بعد ہو رہا ہے۔\n\nماہرین کے مطابق دونوں دوروں کا ایک کے بعد ایک ہونا ’اہم‘ ہے، اگرچہ ان کے شیڈول کافی پہلے طے ہو چکے تھے۔\n\nنتاشا کرٹ کے مطابق، ’اس ترتیب کا مطلب یہ ہے کہ شی جن پنگ باآسانی پوتن کو ٹرمپ سے ہونے والی ملاقات کے اہم نکات سے آگاہ کر سکتے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبیجنگ میں ٹرمپ نے شی جن پنگ کی تعریف کرتے ہوئے انہیں ’عظیم رہنما‘ قرار دیا تھا اور ’شاندار تجارتی معاہدوں‘ کے ساتھ یوکرین اور ایران سے متعلق مشترکہ خواہشات کا ذکر کیا تھا۔\n\nژاؤ لونگ نے کہا، ’چین اور روس اکثر دیگر بڑی طاقتوں سے ملاقاتوں سے پہلے اور بعد میں سٹریٹجک رابطہ رکھتے ہیں، جو باہمی اعتماد کی اعلیٰ سطح کو ظاہر کرتا ہے۔‘\n\nشی جن پنگ نے فروری میں ایک ہی دن امریکی اور روسی رہنماؤں سے بات کی تھی، پہلے ویڈیو لنک کے ذریعے پوتن سے اور چند گھنٹوں بعد ٹرمپ سے فون پر گفتگو کی۔\n\n**کیا یوکرین پس منظر میں چلا جائے گا؟**\n\nروس کی یوکرین پر چار سالہ جنگ ان حساس معاملات میں شامل تھی جن پر گذشتہ ہفتے ٹرمپ اور شی جن پنگ نے بات چیت کی۔\n\nٹرمپ نے بیجنگ سے روانگی کے بعد ایئر فورس ون میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’ہم چاہتے ہیں کہ اس مسئلے کا حل نکلے۔‘\n\nتاہم ژاؤ لونگ کے مطابق، اگرچہ یوکرین جنگ کا خاتمہ پوتن کی ترجیح ہے، لیکن چین ’تصفیے کے عمل کا بنیادی معمار بننے کا امکان نہیں رکھتا‘۔\n\nانہوں نے کہا: ’کسی بھی جنگ بندی یا سیاسی روڈ میپ کا انحصار بالآخر اہم فریقین کی پہل پر ہوگا۔‘\n\nچینی وزارت خارجہ کے ترجمان نے پیر کو کہا کہ اس ہفتے پوتن اور شی جن پنگ ’بین الاقوامی اور علاقائی امور پر تبادلہ خیال کریں گے جو دونوں کے لیے اہم ہیں‘۔\n\nچین باقاعدگی سے جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات کی حمایت کرتا رہا ہے، لیکن اس نے کبھی روس کی یوکرین میں فوج بھیجنے کی مذمت نہیں کی اور خود کو ایک غیر جانبدار فریق قرار دیتا ہے۔\n\nبیجنگ یہ بھی تردید کرتا ہے کہ وہ روس کو اس کی دفاعی صنعت کے لیے ہتھیار یا فوجی پرزے فراہم کر رہا ہے۔\n\n**پائپ لائن میں پیش رفت**\n\nچین روسی فوسل فیول کا دنیا کا سب سے بڑا خریدار ہے، جس کے باعث وہ ماسکو کا اہم معاشی شراکت دار بن چکا ہے، جبکہ روس یوکرین جنگ کے باعث مغربی پابندیوں کا سامنا کر رہا ہے۔\n\nدونوں ممالک روس سے منگولیا کے راستے چین تک ’پاور آف سائبیریا 2‘ نامی بڑی قدرتی گیس پائپ لائن کی تعمیر پر بات چیت کر رہے ہیں، جو مشرق وسطیٰ سے سمندری راستے آنے والے خام تیل کا زمینی متبادل ہوگی۔\n\nنتاشا کرٹ کے مطابق، ’پوتن کے لیے یہ تعلق اب پہلے سے کہیں زیادہ اہم ہو چکا ہے، خاص طور پر معاشی لحاظ سے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ایران جنگ روس کے لیے اس پائپ لائن کے امکانات کو بڑھا سکتی ہے، کیونکہ 28 فروری سے حملوں کے آغاز کے بعد آبنائے ہرمز سے پیٹرولیم کی ترسیل متاثر ہوئی ہے، جس کا براہِ راست اثر چین پر پڑ رہا ہے۔\n\nتاہم ان کے مطابق بیجنگ ’توانائی کی فراہمی میں تنوع کو ترجیح دیتا ہے‘۔\n\nانہوں نے کہا، ’چین توانائی کے معاملے میں روس پر حد سے زیادہ انحصار نہیں کرنا چاہتا۔‘\n\nچین\n\nروس\n\nولادی میر پوتن\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nامریکہ\n\nماہرین کے مطابق ٹرمپ کے پرتکلف استقبال کے بعد شی جن پنگ یہ ظاہر کرنا چاہیں گے کہ چین اور روس کے تعلقات پہلے کی طرح مضبوط ہیں۔\n\nاے ایف پی\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 10:45\n\nMain image:\n\n> <p>روسی صدر ولادی میر پوتن نے 3 ستمبر 2025 کو بیجنگ میں ملٹری پریڈ میں شرکت کی تھی (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟\n\nچین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ\n\nٹرمپ چین میں موجود: ایران جنگ، تجارت اور تائیوان پر بات چیت متوقع\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ٹرمپ کے فوراً بعد پوتن کا دورہ چین اہم کیوں؟"
}