{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreig5sxmua2f2drwqbcote6c5xsvvnk2tt5k6cnjhjrvatfffvyrxuy",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqmjctgwf2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreia4taqr6wuhw767dewaoefrs7guvqcr5pir63b7zfpajeeoa5efmi"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 121769
  },
  "path": "/node/185965",
  "publishedAt": "2026-05-19T06:04:56.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "فیفا ورلڈ کپ 2026",
    "فیفا",
    "انڈیا",
    "فٹ بال ورلڈ کپ",
    "آدتیہ کالرا، منصف وینگاتل",
    "کھیل",
    "news"
  ],
  "textContent": "**انڈیا بھر میں کروڑوں فٹ بال شائقین اگلے ماہ ہونے والے ورلڈ کپ کو دیکھنے سے محروم ہونے کے خطرے سے دوچار ہو چکے ہیں جب کہ فیفا حکام ایک نشریاتی معاہدے کو حتمی شکل دینے کی کوشش میں اس وقت ملک میں موجود ہیں۔**\n\nعالمی گورننگ باڈی ابھی تک ٹورنامنٹ کے لیے کوئی معاہدہ طے نہیں کر سکی ہے، جس کی بڑی وجہ قیمتوں پر پائے جانے والے نمایاں اختلافات ہیں۔\n\nاس تعطل کا مطلب یہ ہے کہ 11 جون کو ورلڈ کپ شروع ہونے والا ہے، اور نشریاتی بنیادی ڈھانچہ قائم کرنے اور اشتہارات فروخت کرنے کے لیے اب صرف تین ہفتے باقی ہیں۔\n\nیہ صورت حال چین کے بالکل برعکس ہے، جہاں گذشتہ ہفتے ایک نشریاتی معاہدہ طے پانے کے بعد اسی طرح کا تعطل ختم ہو گیا تھا۔\n\nفیفا کے منصوبوں سے باخبر ذرائع اس بات کی تصدیق کرتے ہیں کہ میڈیا رائٹس کے ایگزیکٹوز انڈیا میں موجود ہیں، تاہم ان کی ملاقاتوں اور ایجنڈے کی تفصیلات سامنے نہیں لائی گئیں۔\n\nفیفا نے روئٹرز کو دیے گئے ایک بیان میں تصدیق کی کہ وہ 180 سے زائد خطوں میں معاہدے مکمل کر چکا ہے، اور مزید کہا کہ انڈیا میں میڈیا حقوق کے حوالے سے بات چیت جاری ہے اور ’اس مرحلے پر اسے خفیہ رکھا جانا چاہیے۔‘\n\nگذشتہ اطلاعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ انڈیا کی سب سے بڑی میڈیا کمپنی، ریلائنس ڈزنی جوائنٹ وینچر، اور فیفا کے درمیان بات چیت رک چکی ہے۔ ریلائنس ڈزنی جوائنٹ وینچر نے فیفا کے حقوق کے لیے دو کروڑ ڈالر کی پیشکش کی تھی۔ روئٹرز کی رپورٹ کے مطابق، اس کی وجہ سے اختلاف پیدا ہوا کیوں کہ فیفا نے ابتدائی طور پر 10 کروڑ ڈالر مانگے تھے تاہم وہ کم از کم چھ کروڑ ڈالر کے لگ بھگ کی توقع کر رہا تھی۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nانڈین مارکیٹ کے ایک اور بڑے نام، سونی نے بولی لگانے سے گریز کیا۔ ارب پتی مکیش امبانی کی قیادت میں ریلائنس ڈزنی وینچر نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ آیا فیفا کے ساتھ کوئی ملاقات طے ہے۔\n\nڈیلائٹ اور گوگل کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق، کرکٹ کے غلبے کے باوجود انڈیا میں فٹ بال کے مداحوں کی ایک بڑی تعداد موجود ہے، جن کی تعداد کرکٹ کے 49.2 کروڑ کے مقابلے میں تقریباً 8.5 کروڑ ہے۔\n\n2022 کے ورلڈ کپ کے دوران عالمی لینیئر ٹی وی کی رسائی میں انڈیا کا حصہ 2.9 فیصد تھا، جو داؤ پر لگے ممکنہ ناظرین کو نمایاں کرتا ہے۔\n\nورلڈ کپ کی میزبانی امریکہ، میکسیکو اور کینیڈا کریں گے، اور یہ 11 جون سے 19 جولائی تک جاری رہے گا۔\n\nافتتاحی میچ میں شریک میزبان میکسیکو کا مقابلہ میکسیکو سٹی میں جنوبی افریقہ سے ہوگا۔ یہ اس میچ کی تکرار ہوگی جس سے 2010 کے ورلڈ کپ کا آغاز ہوا تھا۔\n\nتھامس ٹوچل کی انگلینڈ کی ٹیم 17 جون کو ٹیکساس میں اپنا پہلا میچ کروشیا کے خلاف کھیلے گی، جس کے بعد وہ گروپ مرحلے میں گھانا اور پاناما کا سامنا کرے گی۔\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026\n\nفیفا\n\nانڈیا\n\nفٹ بال ورلڈ کپ\n\nفیفا حکام 11 جون کو شروع ہونے والے فٹ بال ورلڈ کے حوالے سے کا تنازع نمٹانے کے لیے انڈیا پہنچ گئے۔\n\nآدتیہ کالرا، منصف وینگاتل\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 11:45\n\nMain image:\n\n> <p>ممبئی میں 14 دسمبر 2025 کو لیونل میسی کے دورے کے دوران ایک انڈین فین نے ان کے نام کا پوسٹر اٹھا رکھا ہے (فائل فوٹو/ اے ایف پی)</p>\n\nکھیل\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nفیفا ورلڈ کپ میں اس بار کون سے نوجوان ستارے جگمگائیں گے؟\n\nمتوقع شائقین میں کمی، فیفا ورلڈ کپ سے پہلے امریکی ہوٹل سستے: رپورٹ\n\nفیفا ورلڈ کپ فائنل کی ٹکٹس اوپن مارکیٹ میں 11 ہزار ڈالر کی\n\nفیفا ورلڈ کپ 2026 فاتحین کو ریکارڈ 5 کروڑ ڈالر انعامی رقم دے گا\n\nSEO Title:\n\nکیا انڈین فینز اس بار فٹ بال ورلڈ کپ نہیں دیکھ پائیں گے؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/sport/football/world-cup/india-fifa-world-cup-2026-tv-broadcast-deal-b2979128.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "کیا انڈین فینز اس بار فٹ بال ورلڈ کپ نہیں دیکھ پائیں گے؟"
}