{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigpqphcxewmokvkicjoaod4d4g3g6o2j55qavi4n2yzvntwvogl3y",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqmblukkf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreifxwomrqe7pwj6eb5g4sweq7wooauti3savox7ebvfjqqxjo6ike4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 65675
},
"path": "/node/185969",
"publishedAt": "2026-05-19T10:31:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"اسلام آباد",
"مقامی عدالت",
"قرۃ العین شیرازی",
"پاکستان",
"video"
],
"textContent": "**اسلام آباد کی مقامی عدالت نے منگل کو ملزم عمر حیات کو ثنا یوسف قتل کیس میں سزائے موت سنا دی ہے۔**\n\nگذشتہ برس دو جون کو اسلام آباد کی رہائشی 17 سالہ سوشل میڈیا سٹار ثنا یوسف کو سیکٹر جی 13 میں واقع ان کے گھر میں قتل کر دیا گیا تھا۔ بعد ازاں پولیس نے بتایا تھا کہ کیس کے مرکزی ملزم عمر حیات کو 20 گھنٹے میں پنجاب کے شہر فیصل آباد سے گرفتار کیا گیا۔\n\nاسلام آباد کے ایڈیشنل سیشن جج افضل مجوکہ نے آج کیس کا محفوظ شدہ فیصلہ سنایا اور ملزم کو سزائے موت سنائی۔\n\nعدالت نے محفوظ فیصلے میں ملزم کو ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید، گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید کی سزا جبکہ 20 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔\n\nاس کیس کی 50 سے زائد سماعتیں ہوئیں اور چالان میں 31 گواہان کی فہرست فراہم کی گئی جبکہ مجموعی طور پر 27 گواہان نے عدالت میں اپنے بیانات ریکارڈ کروائے۔ مقتولہ کی والدہ اور پھوپھی نے واقعے کے چشم دید گواہان کے طور پر بیان ریکارڈ کروائے۔\n\nعدالت نے 20 ستمبر کو ملزم پر فرد جرم عائد کی تھی جبکہ 25 ستمبر کو استغاثہ کے پہلے گواہ نے اپنا بیان ریکارڈ کروایا تھا۔\n\nسوشل میڈیا سٹار ثنا یوسف (دائیں) کے قتل کا مرکزی ملزم عمر حیات (بائیں) 13 ستمبر 2025 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیشی کے موقعے پر (ثنا یوسف انسٹاگرام اکاؤنٹ/قرۃ العین شیرازی)\n\n\n\n\n**ملزم کیسے پکڑا گیا؟**\n\nڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) اسلام آباد جواد طارق نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا تھا کہ مقتولہ کے پاس دو موبائل فون تھے، جن میں سے ایک ملزم اپنے ساتھ لے گیا تھا۔\n\nانہوں نے بتایا کہ پولیس نے مشتبہ افراد کی فہرست بنائی، جو ثنا کے ساتھ رابطے میں تھے۔ ’مشتبہ افراد کو سماجی رابطے کی ویب سائٹس سے ڈھونڈا گیا اور ان کی تصاویر نکالی گئیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nڈی آئی جی کے مطابق ہمارے پاس ملزم کی کافی سی سی ٹی وی فوٹیجز تھیں، جس پر ہم نے کام کیا، کہاں یہ شخص گیا یا بیٹھا یا کہاں سے نکلا۔ ان تصاویر کو فوٹیجز کے ساتھ میچ کرنا شروع کیا اور اندازہ لگایا کہ یہ ملزم ہو سکتا ہے۔‘\n\nانہوں نے بتایا: ’ہم اس لیے اندازے پر چل رہے تھے کیونکہ اس (ملزم) نے فوٹیجز میں ماسک پہنا ہوا تھا۔ جائے وقوع سے بھاگتے ہوئے اس نے ماسک پہن لیا تھا۔\n\n’ہم نے دو سے تین (مشکوک) افراد کو فائنل کیا، ان میں سے اس پر زیادہ شک گیا کیونکہ اس کا (گھر) شہر سے باہر تھا۔\n\n’اس کے بعد اس کا موبائل نمبر ڈھونڈا اور اسے ٹریک کیا اور پتہ ملنے پر ٹیم فیصل آباد روانہ کر دی۔ اس وقت تک ہمارا اندازہ تھا کہ یہی مطلوبہ شخص ہو گا۔‘\n\nڈی آئی جی کے مطابق دیگر مشکوک افراد پر وقت کے ساتھ ساتھ شک کم ہوتا چلا گیا۔\n\n’ہم نے یقین کرنا شروع کر دیا کہ غالباً یہی شخص ہمارا ہدف ہے، جو بعد میں وہی شخص نکلا۔‘\n\nڈی آئی جی جواد طارق کے مطابق ملزم کو پکڑنے کے لیے سوشل میڈیا اور سیف سٹی کیمرے استعمال کیے گئے۔\n\nاسلام آباد\n\nمقامی عدالت\n\nعدالت نے محفوظ فیصلے میں ملزم کو ڈکیتی کی دفعات کے تحت 10 سال قید، گھر میں گھسنے کی دفعات کے تحت 10 سال قید کی سزا جبکہ 20 لاکھ جرمانے کی سزا بھی سنائی ہے۔\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 15:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">سوشل میڈیا سٹار ثنا یوسف (دائیں) کے قتل کا مرکزی ملزم عمر حیات (بائیں) 13 ستمبر 2025 کو اسلام آباد کی مقامی عدالت میں پیشی کے موقعے پر (ثنا یوسف انسٹاگرام اکاؤنٹ/قرۃ العین شیرازی)</p>\n\nپاکستان\n\njw id:\n\n0WLEKUJj\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nثنا یوسف قتل کیس میں ملزم پر فرد جرم عائد، مقتولہ کے والد کو انصاف کی امید\n\nثنا یوسف قتل کیس: ملزم پر فرد جرم کی تاریخ مقرر\n\nثنا یوسف قتل کیس: ’ملزم کا موبائل فون برآمد نہ ہو سکا‘\n\nملزم نے بار بار مسترد کیے جانے پر ثنا یوسف کو قتل کیا: پولیس\n\nSEO Title:\n\nثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو موت کی سزا\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "ثنا یوسف قتل کیس: ملزم عمر حیات کو موت کی سزا"
}