{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreieztjue3x4qgr3n7rmwjisgnlksfcp7v2huidjkhxnwps3a2npqni",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqlwjsvzv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihz6oruxohru3njv6evere75muoynqic7byagcd6pywap4aodweja"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 176058
},
"path": "/node/185970",
"publishedAt": "2026-05-19T11:37:03.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پنجاب",
"چھٹیاں",
"نجی تعلیمی ادارے",
"سرکاری سکول",
"ارشد چوہدری",
"کیمپس",
"news"
],
"textContent": "**پنجاب میں نجی سکول مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت سال میں اتنی چھٹیاں دیتی ہے کہ تعلیمی سال 240 دن کی بجائے 90 سے 120 دن تک محدود ہو چکا ہے، جس سے نہ صرف تعلیم کا حرج ہو رہا ہے بلکہ والدین بھی بچوں کی تعلیم کے حوالے سے پریشان ہیں۔**\n\nپاکستان اور پنجاب میں موسم خراب ہو، کوئی وبا آئے یا توانائی کا بحران ہو، سب سے پہلے تعلیمی ادارے بند کیے جاتے ہیں۔\n\nاس بار بھی پنجاب میں 22 مئی سے تین ماہ کے لیے موسم گرما کی چھٹیوں کا اعلان کر دیا گیا ہے۔ اس سے پہلے سموگ اور حالیہ توانائی بحران کے دوران بھی تعلیمی ادارے بند کر دیے گئے تھے۔\n\nآل پاکستان پرائیویٹ سکولز فیڈریشن (اے پی پی ایس ایف) نے چھٹیوں میں کمی کے لیے لاہور ہائی کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس پر عدالت نے رواں ہفتے حکومت سے جواب طلب کر لیا ہے۔\n\nاے پی پی ایس ایف کے صدر کاشف مرزا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’ہماری درخواست چھٹیوں میں کمی کے لیے ہے کیونکہ تعلیمی سال کے دوران 365 دنوں میں تعلیمی ادارے صرف 90 سے 120 دن تک کھلے رہ گئے ہیں۔‘\n\nترجمان محکمہ تعلیم نورالہدیٰ نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’موسم کی شدت کو مدنظر رکھتے ہوئے تین ماہ کی چھٹیوں کا نوٹیفکیشن برقرار ہے، تاہم اگر عدالت اس حوالے سے کوئی حکم دے گی تو اس پر عمل کیا جائے گا۔‘\n\n**زیادہ چھٹیوں سے تعلیمی نقصان**\n\nاے پی پی ایس ایف کے صدر کاشف مرزا کے مطابق: ’حکومت نے پہلے سموگ، پھر توانائی بحران کے دوران چھٹیوں کا اعلان کیا۔ اب گرمیوں کی چھٹیوں کا دورانیہ دو ماہ سے بڑھا کر تین ماہ کر دیا گیا ہے۔ 90 دن تعلیمی اداروں کی بندش آئین پاکستان کے آرٹیکل 4، 9، 14، 17، 18، 25، 25 اے، 37 (بی) اور 227 کی خلاف ورزی ہے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ ’امریکہ اور انگلینڈ سمیت بڑے ممالک میں تعلیمی سال 230 دن کا ہوتا ہے۔ تین ماہ تعلیمی ادارے بند کرنے سے طلبہ کی پڑھائی شدید متاثر ہو گی۔ تعلیم کے بغیر کوئی معاشرہ ترقی کی راہ پر گامزن نہیں ہو سکتا۔‘\n\nکاشف مرزا نے تجویز دی کہ ’موسم گرما کی تعطیلات چھ سے آٹھ ہفتے ہونی چاہییں۔ حکومتی نوٹیفکیشن اقوام متحدہ کے بچوں کے عالمی حقوق کے کنونشن، پائیدار ترقی کے ہدف اور انسانی حقوق کے عالمی اعلامیے کے تحت پاکستان کی ذمہ داریوں کے برخلاف ہے۔‘\n\nانہوں نے کہا کہ ’آرٹیکل 25 اے 5 سے 16 سال کی عمر کے تمام بچوں کو مفت اور لازمی تعلیم کی ضمانت دیتا ہے، جو ان کا بنیادی آئینی حق ہے۔ آرٹیکل 37 (بی) ریاست کو ناخواندگی دور کرنے کا پابند کرتا ہے۔ 14 ہفتوں کی تعلیمی بندش براہ راست ان ضمانتوں کو متاثر کرتی ہے۔ یہ گرمی کا انتظام نہیں بلکہ تعلیمی تباہی ہے۔‘\n\n27 مئی، 2025 کی اس تصویر میں لاہور کے ایک سکول میں طلبہ چھٹی کے بعد گھروں کے لیے روانہ ہوتے ہوئے (اے ایف پی)\n\n\n\n\nانہوں نے کہا کہ ’حکومت کو پابند کیا جائے کہ عالمی معیار کے مطابق کم از کم 200 سے 240 دنوں کے تعلیمی کیلنڈر پر عملدرآمد کیا جائے۔ ایسے ملک میں جہاں 33 فیصد بچے پہلے ہی سکولوں سے باہر ہیں، مسلسل چھٹیاں سیکھنے کے عمل کو مزید نقصان پہنچا رہی ہیں اور ڈراپ آؤٹ کی شرح میں اضافے کا باعث بن رہی ہیں۔ ہمارا مطالبہ ہے کہ چھٹیاں 20 جون سے شروع کر کے دو ماہ کی دی جائیں۔‘\n\nدوسری جانب ترجمان محکمہ تعلیم پنجاب کہتے ہیں کہ ’ہر بار چھٹیوں کے موقعے پر نجی سکول مالکان کو ایسے ہی بیان بازی کا شوق ہوتا ہے۔ حکومت موسمی اثرات سے بچوں کو بچاتے ہوئے معیاری تعلیم کا سلسلہ جاری رکھتی ہے۔‘\n\n**تعلیمی صورت حال اور والدین کے مسائل**\n\nڈومیسٹک انٹیگریٹڈ اکنامک سروے (ایچ آئی ای ایس) 25-2024 کے مطابق پاکستان میں پانچ سے 16 سال کی عمر کے دو کروڑ 80 لاکھ بچے اب بھی تعلیم سے محروم اور سکولوں سے باہر ہیں۔\n\nسروے کے مطابق صرف پنجاب میں 51 فیصد بچے سکول نہیں جاتے۔ صوبے میں خواندگی کی شرح مردوں کے لیے 68 فیصد اور خواتین کے لیے 52.8 فیصد ہے۔ پاکستان کی مجموعی شرح خواندگی 63 فیصد ہے اور عالمی تعلیمی معیار میں 193 ممالک میں 156 ویں نمبر پر ہے۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلاہور کے علاقے اسلام پورہ کے رہائشی صادق حسین نے بتایا کہ وہ رکشہ چلا کر اپنے تین بچوں اور بیوی کو پال رہے ہیں۔ سب سے بڑی بیٹی نویں، بیٹا ساتویں اور دوسری بیٹی پانچویں جماعت میں پڑھتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کے تینوں بچے قریبی پرائیویٹ سکول میں پڑھتے ہیں۔ بچوں کی ماہانہ فیس تین ہزار سے پانچ ہزار روپے تک ہے اور بڑی مشکل سے پیٹ کاٹ کر ان کی فیس اور کتابوں کا خرچہ پورا ہوتا ہے، لیکن آئے روز چھٹیوں کی وجہ سے بچوں کی تعلیم بھی متاثر ہوتی ہے۔\n\nبقول صادق: ’سکول کی فیس ہر ماہ وصول کی جاتی ہے۔ چھٹیاں ہوں یا سکول کھلے ہوں، فیس میں ناغہ نہیں ہوتا، جبکہ مہینے میں کئی کئی چھٹیاں دے دی جاتی ہیں۔ اس کے علاوہ گرمیوں اور سردیوں کی چھٹیاں الگ ہیں، مگر فیس پہلے جمع کروانی ہوتی ہے۔ جب بچے پڑھنے نہیں جائیں گے تو فیس کیوں لی جاتی ہے؟‘\n\nبچوں کو تعلیمی اداروں میں ملنے والے تعلیمی معیار کا یہ حال ہے کہ ٹیوشن پڑھانا بھی الگ سے والدین کی ذمہ داری بن چکا ہے۔\n\nبقول صادق: ’جب مسلسل چھٹیاں دی جائیں گی تو بچے امتحان کی تیاری کے لیے الگ سے ٹیوشن پڑھنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ لوگ سکولوں میں بھیجنے کی بجائے بچوں کو کوئی ہنر سکھانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ میں نے بھی سوچ لیا ہے کہ بچے کو میٹرک تک پڑھا کر ورکشاپ میں گاڑیوں کا کام سکھاؤں گا تاکہ وہ نوکری کے پیچھے خوار ہونے کی بجائے اپنا روزگار کما سکے۔‘\n\nحکومت پنجاب سرکاری سکولوں کی نجکاری کر کے انہیں نجی شعبے کے تحت چلانے کی حکمت عملی پر بھی عمل کر رہی ہے۔ کئی سکول نجی شعبے کے حوالے کیے جا چکے ہیں جبکہ مزید دینے پر کام جاری ہے۔\n\nپنجاب\n\nچھٹیاں\n\nنجی تعلیمی ادارے\n\nسرکاری سکول\n\nپنجاب میں نجی سکول مالکان کا کہنا ہے کہ حکومت سال میں اتنی چھٹیاں دیتی ہے کہ تعلیمی سال 240 دن کی بجائے 90 سے 120 دن تک محدود ہو چکا ہے۔\n\nارشد چوہدری\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 16:30\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">15 ستمبر 2023 کو لی گئی اس تصویر میں بچے ایک سکول میں کلاسوں میں شرکت کے لیے پہنچ رہے ہیں (اے ایف پی)</p>\n\nکیمپس\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nپنجاب کا نیا تعلیمی نظام: آن لائن چھٹیاں، تبادلے اور ریٹائرمنٹ\n\nآن لائن کلاسز کا مطلب ہے چھٹی\n\nججوں کو موسم گرما کی چھٹیاں: انگریز دور کی روایت آج بھی قائم\n\nکراچی میں بارش سے متعدد علاقے زیر آب، تعلیمی ادارے بند\n\nSEO Title:\n\nپنجاب میں تین ماہ چھٹیاں: تعلیمی سال 240 کی بجائے ’تقریبا 100‘ دن تک محدود\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "پنجاب میں تین ماہ چھٹیاں: تعلیمی سال 240 کی بجائے ’تقریبا 100‘ دن تک محدود"
}