{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreidba4kfbjl2xw64p2hhb56r5vh7hauhjwcwfgyia3zhn23abgcnkq",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mmaqlcx5mgv2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreict25pmv7at3va2pbp5hldeipvdxqpnos3nuuvkj57lqdvqdtxwwy"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 101144
},
"path": "/node/185972",
"publishedAt": "2026-05-19T16:01:41.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"pic.twitter.com/gkIUxo7w5M",
"May 18, 2026",
"آئینی ترامیم",
"پارلیمان",
"سیاست",
"قرۃ العین شیرازی",
"news",
"@DrTariqFazal"
],
"textContent": "**وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے منگل کو بتایا ہے کہ مجوزہ آئینی ترمیم کے حوالے سے فی الوقت کوئی تیاری یا بحث نہیں ہوئی اور اس حوالے سے ’تمام چیزیں بجٹ کے بعد ہوں گی۔‘**\n\nحالیہ دنوں مجوزہ 28ویں آئینی ترمیم کو پارلیمان میں جلد پیش کیے جانے سے متعلق سیاسی و قانونی حلقوں میں بحث جاری ہے۔ مختلف سیاسی جماعتوں کی جانب سے ان مجوزہ ترامیم کے ممکنہ اثرات اور اس کی شقوں کی تفصیلات سامنے آ رہی ہیں تاہم ان ترامیم کا مسودہ تاحال سامنے نہیں آ سکا۔\n\nوفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری نے انڈپینڈنٹ اردو نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا ہے کہ مجوزہ 28 ویں ترمیم کو لے کر کوئی تیاری یا بحث شروع نہیں ہوئی، اس کے لیے وقت درکار ہوتا ہے۔ ’ترامیم لانے سے اراکین کی حاضری کے لیے دو تین ہفتے قبل سرگرمی شروع کرنا پڑتی ہے۔ اس ترمیم سے متعلق تمام چیزیں بجٹ کے بعد ہوں گی۔‘\n\nوفاقی وزیر نے مزید کہا کہ ’27 ویں ترمیم میں جو چیزیں حکومت لے کر آئی تھی لیکن اتحادی جماعتوں کے ساتھ اتفاق رائے نہ ہونے کی وجہ سے منظور نہیں کی جا سکی تھیں، ہماری ترجیحات ہیں کہ ان پر اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔‘\n\nانہوں نے مزید کہا کہ چونکہ حکومت کے پاس دو تہائی اکثریت نہیں ہے لہذا انہیں اعتماد میں لیے بغیر یہ ترامیم پارلیمان میں نہیں آ سکتیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nقومی مالیاتی مشن (این ایف سی ایوارڈ) سے متعلق مجوزہ ترمیم کی شمولیت سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر نے جواب دیا کہ ’ہم صوبوں سے گزارش کر رہے ہیں کہ قرضوں کی ادائیگی اور دیگر اخراجات جو وفاق کے ذمہ ہیں، جو ایک بھاری بوجھ ہے اور وفاق نے اسے اکیلے اٹھا رکھا ہے، صوبے بھی اس میں کچھ حصہ ڈالیں۔‘\n\nساتھ ہی انہوں نے کہا: ’اس کے علاوہ 18 ویں ترمیم کے اختیارات محدود یا ختم کرنا یا این ایف سی کو واپس لینے سے متعلق باتیں محض قیاس آرائیاں ہیں۔‘\n\nووٹرز کی عمر کو 18 سال سے تبدیل کر کے 25 سال کرنے کی مجوزہ ترمیم سے متعلق سوال پر وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور نے کہا کہ ’ابھی اس پر کسی بھی طرح کی کوئی بھی بحث نہیں ہو رہی۔‘\n\nاس سے قبل وزیر اعظم کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثنا اللہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ مجوزہ ترمیم میں ووٹرز کی عمر بڑھانے کی تجویز بھی زیر غور ہے۔\n\nاسی طرح طارق فضل چوہدری نے بینظیر انکم سپورٹ پروگرام کو وفاق سے صوبوں کو منتقل کرنے کی مجوزہ ترمیم سے متعلق سوال کے جواب میں کہا کہ ’مرکز اور صوبوں کے درمیان یہ ایک بحث ہے، ہم چاہ رہے ہیں کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام صوبوں کو منتقل کر دیا جائے، لیکن اس کا بھی اتفاق رائے سے فیصلہ کیا جائے گا۔‘\n\n> جب تک حکومت کی طرف سے سرکاری طور پر آگاہ نہیں کیا جاتا کہ ترمیم آ رہی ہے یا نہیں سب باتیں مفروضوں پر ہوتی ہیں\n>\n> ابھی تک ممبران قومی اسمبلی کی تعداد پوری کرنے کے حوالے سے کوئی ایسی کوشش نہیں ہو رہی نا ہی ایسی کوئی ہدایت آئی ہے\n>\n> 28ویں ترمیم پر کام ہو رہا ہے ، 27ویں ترمیم کی جو… pic.twitter.com/gkIUxo7w5M\n>\n> — Dr. Tariq Fazal Ch. (@DrTariqFazal) May 18, 2026\n\nدوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی کے سینیٹر سلیم مانڈوی والا نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا ہے کہ 28 ویں ترمیم سے متعلق کسی سیاسی جماعت یا حکومت سے کسی بھی طرح کی کوئی بات نہیں ہوئی ہے۔\n\nان کا کہنا تھا: ’ابھی تک ہم نے اس سے متعلق کوئی مسودہ یا تفصیل نہیں دیکھی، جب تک کوئی چیز سامنے ہی نہیں آئی تو ہم اس پر کیسے بحث کر سکتے ہیں؟‘\n\nاس سوال پر کہ ’کیا صدر مملکت سے اس حوالے سے بات ہوئی ہے؟‘ سلیم مانڈوی والا نے جواب دیا: ’انہوں نے بھی اس کے شرائط و ضوابط نہیں دیکھے۔ میں نے اس سے متعلق وزیر اطلاعات و خزانہ سے بھی پوچھا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ہمیں اس کی معلومات نہیں ہیں۔‘\n\nدوسری جانب پاکستان تحریک انصاف نے مجوزہ ترمیم کو مسترد کرنے کا اعلان کیا ہے۔\n\nرکن قومی اسمبلی شاہد خٹک نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا: ’نہ ہم نے اس ترمیم کو دیکھا اور نہ اس سے متعلق کچھ معلوم ہے، ہم اسے مسترد کرتے ہیں اور حکومت میں آ کر اسے ریورس کریں گے۔‘\n\nاس سوال پر کہ کیا حکومت نے ان کی جماعت سے اس معاملے پر بات کی ہے؟ انہوں نے جواب دیا: ’حکومت کو خود معلوم نہیں کہ ترمیم میں کیا ہے اور کیا نہیں، تو اپوزیشن کو کیا پتہ ہوگا؟‘\n\nآئینی ترامیم\n\nپارلیمان\n\nسیاست\n\nوفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور طارق فضل چوہدری کے مطابق جو چیزیں 27 ویں ترمیم میں منظور نہیں ہو سکی تھیں، حکومت کی ترجیحات ہیں کہ ان پر ’اتفاق رائے قائم کیا جا سکے۔‘\n\nقرۃ العین شیرازی\n\nمنگل, مئی 19, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">وفاقی وزیر برائے پارلیمانی امور 30 مارچ 2026 کو قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے موقعے پر (طارق فضل چوہدری فیس بک اکاؤنٹ)</p>\n\nسیاست\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآئینی ترامیم میں مزید تاخیر نہیں ہو گی: بلاول بھٹو\n\nفی الحال آئینی ترامیم لانے کا کوئی ارادہ نہیں: وزیر قانون\n\nآئینی ترامیم اور ’ڈی ڈے‘!\n\nمجوزہ آئینی ترامیم: منظوری اور آئینی استحکام ممکن ہوگا؟\n\nSEO Title:\n\n28 ویں ترمیم بجٹ کے بعد، این ایف سی، بینظیر انکم سپورٹ کی تجاویز شامل: وفاقی وزیر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "28 ویں ترمیم بجٹ کے بعد، این ایف سی، بینظیر انکم سپورٹ کی تجاویز شامل: وفاقی وزیر"
}