{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidxzhvmfv3jwn6tlmi7y2v7cp324seyksi5wz4hcdavx57qpk3dhi",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm5zgys6qxe2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreialoy7u4wl3zyuoxxzz6i5q6ru2es2nf6kgngffi7hoaptbgq5cb4"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 103067
  },
  "path": "/node/185950",
  "publishedAt": "2026-05-18T07:05:13.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "تحقیق",
    "سائنس",
    "سبزیاں",
    "تاریخ",
    "جینز",
    "ول ڈنہم",
    "news"
  ],
  "textContent": "**اینڈیز کے مقامی لوگوں نے 6,000 سے 10,000 سال پہلے آلو کو گھریلو استعمال کے قابل بنایا۔ یہ سبزی نشاستہ، وٹامنز، منرلز اور فائبر سے بھرپور ہے۔**\n\nیہ ان کی خوراک کا مرکزی حصہ بن گئی۔ اس طویل استعمال کی وجہ سے ان کے جسم میں جینیاتی تبدیلیاں آئیں۔ یہ تبدیلیاں آج بھی ان کی پیرو میں رہنے والے نسلوں میں دیکھی جا سکتی ہیں۔\n\nنئی جینومک تحقیق بتاتی ہے کہ ان نسلوں میں، جو تاریخی انکا سلطنت کی کیچوا زبان بولتے ہیں، اے ایم وے ون جین میں مضبوطی آئی۔ یہ جین نشاستہ ہضم کرنے کے لیے بہت اہم ہے۔ آلو پر مبنی خوراک کے لیے یہ جین بہت فائدہ مند ہے۔\n\nایک نئی تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ اینڈیز کے لوگوں میں AMY1 جین کی اوسطاً 10 کاپیاں موجود ہیں، جو عام لوگوں سے دو سے چار زیادہ ہیں۔\n\nیہ تعداد دنیا میں کہیں اور نہیں پائی جاتی۔ اہم بات یہ ہے کہ یہ جینیاتی تبدیلیاں بالکل اسی وقت شروع ہوئیں جب آلو کو گھریلو استعمال کے قابل بنایا گیا۔\n\nجنرنل نیچر کمیونیکشنز میں رواں ہفتے شائع ہونے والی اس تحقیق کے سینیئر مصنف اور یونیورسٹی آف بفیلو کے ماہر جینیات عمر گوککومن کہتے ہیں کہ: ’یہ ایک شاندار مثال ہے کہ کس طرح ثقافت حیاتیات کو بدلتی ہے۔‘\n\nایک اور سینیئر مصنف یوسی ایل اے کی ماہر جینیات ابیگیل بگھم نے کہا کہ ‘یہ انسانی ارتقائی تاریخ میں خوراک کے مطابق ڈھلنے کی اہمیت کو ظاہر کرتا ہے، جس کے اثرات میٹابولزم، صحت اور گھریلو فصلوں کے انسانی حیاتیات پر پڑنے والے اثرات سے جڑے ہیں۔‘\n\nمالیکیولر سطح پر AMY1 جین ایک انزائم امیلیز کو کنٹرول کرتا ہے، جو لعاب میں موجود ہوتا ہے اور نشاستہ کو توڑنے کا کام کرتا ہے۔ زیادہ کاپیاں رکھنے والے افراد زیادہ انزائم بنا سکتے ہیں، جس سے نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کیا جا سکتا ہے۔\n\nمحققین نے کہا کہ زیادہ مقدار میں AMY1 جین کی موجودگی نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کرنے میں مدد دیتی ہے۔ اس جین سے بننے والا انزائم امیلیز لعاب میں موجود ہوتا ہے اور نشاستہ کو منہ میں ہی توڑنا شروع کر دیتا ہے۔\n\nتحقیق کے مطابق یہ انزائم جسم کے مائیکرو بایوم کو بھی متاثر کر سکتا ہے، جو خوراک کے بدلنے سے تبدیل ہوتا ہے۔ خوراک سے جڑی ارتقائی تبدیلی کی ایک اور مثال لیکٹوز ٹالرنس ہے، جو دودھ میں موجود لیکٹوز کو توڑنے والے انزائم سے جڑی ہے۔\n\nاس نئی تحقیق میں 3,700 سے زیادہ افراد کے جینومک ڈیٹا کا تجزیہ کیا گیا، جو امریکہ، یورپ، افریقہ اور ایشیا کی 85 آبادیوں سے تعلق رکھتے تھے۔ ان میں پیرو کے 81 مقامی کیچوا بولنے والے بھی شامل تھے۔\n\nماہرین کے مطابق وقت کے ساتھ ارتقائی قوتوں نے اینڈیز کے لوگوں میں AMY1 کی زیادہ کاپیاں رکھنے کو ترجیح دی۔\n\nکسی جینیاتی تبدیلی کے عام ہونے کے لیے ضروری ہے کہ وہ کچھ فائدہ دے۔\n\nیونیورسٹی آف بفیلو کی محقق لوانے لینڈاؤ نے کہا کہ ’ایک خیال یہ ہے کہ زیادہ کاپیاں رکھنے والے افراد آلو سمیت نشاستہ والی خوراک کو بہتر طریقے سے ہضم کر سکتے تھے۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nلینڈاؤ کا کہنا ہے کہ ’جن افراد میں جین کی زیادہ کاپیاں تھیں، انہیں ان افراد کے مقابلے میں برتری حاصل تھی جن کے پاس یہ نہیں تھیں، اور انہوں نے اس وقت کے دوران زیادہ اولاد چھوڑی۔\n\n’وقت کے ساتھ یہ بات سمجھ میں آتی ہے کہ زیادہ AMY1 کاپیاں رکھنے والا جینیاتی ورژن آج اینڈیز کی آبادی میں زیادہ عام کیوں ہو گیا۔‘\n\nآلو ایک قابلِ اعتماد خوراک کا ذریعہ تھے، ایسی فصل جو ان بلند پہاڑی علاقوں میں پھلتی پھولتی تھی جہاں یہ لوگ رہتے تھے۔\n\nیونیورسٹی آف بفیلو کی ڈاکٹریٹ کی طالبہ اور تحقیق کی شریک مصنفہ کینڈرا شیر کا کہنا ہے کہ ’وہ (آلو) قدیم اینڈیز کی خوراک میں کیلوریز کے اہم ذرائع میں سے ایک تھے۔‘\n\nآلو انکا سلطنت کی خوراک کا مرکزی حصہ تھے۔ سپین کے انکا سلطنت پر قبضے کے بعد 16ویں صدی میں آلو یورپ اور دنیا کے دیگر حصوں میں لے جائے گئے۔\n\nابیگیل بگھم نے کہا کہ ’آلو کا دنیا بھر میں پھیلاؤ ان کی وسیع مقبولیت کا ثبوت ہے۔‘\n\nاینڈیز کے پہاڑی بازاروں اور پیرو کے دیگر علاقوں میں کیچوا بولنے والے لوگ آلو کی بے شمار اقسام فروخت کرتے ہیں۔\n\nان آلوؤں کا گودا مختلف رنگوں میں ہوتا ہے، جن میں جامنی، نیلا، سرخ، سنہری، سفید اور حتیٰ کہ سیاہ بھی شامل ہیں۔\n\nکینڈرا شیر کا کہنا ہے کہ’پیرو میں تقریباً 3,000 سے 4,000 مختلف اقسام کے آلو ہیں، لیکن دنیا کے زیادہ تر حصے میں صرف چند اقسام دستیاب ہیں۔ اس لیے فرنچ فرائز کی بے شمار اقسام ممکن ہیں۔‘\n\nتحقیق\n\nسائنس\n\nسبزیاں\n\nتاریخ\n\nجینز\n\nکینڈرا شیر کا کہنا ہے کہ’پیرو میں تقریباً 3,000 سے 4,000 مختلف اقسام کے آلو ہیں، لیکن دنیا کے زیادہ تر حصے میں صرف چند اقسام دستیاب ہیں۔ اس لیے فرنچ فرائز کی بے شمار اقسام ممکن ہیں۔‘\n\nول ڈنہم\n\nسوموار, مئی 18, 2026 - 12:00\n\nMain image:\n\n> <p>کراچی میں مزدور 2 جون 2014 کو سبزی منڈی میں آلو فروخت کر رہے ہیں (فائل فوٹو/ اے ایف پی) </p>\n\nتحقیق\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nزیادہ پھل، سبزیاں کھانے سے کینسر کا خطرہ لاحق ہو سکتا ہے: تحقیق\n\nکیا آپ جانتے ہیں جوگیوں کی بین ایک سبزی سے بنتی ہے؟\n\nسوات: مٹی کے بغیر سبزیاں اُگانے کا کامیاب تجربہ\n\nانڈیا کے زیرانتظام کشمیر کا ’چھوٹا پنجاب‘ جہاں ہر قسم کی سبزی اگتی ہے\n\nSEO Title:\n\nآلو پر مبنی خوراک نے نسلوں تک لوگوں کی جینیات کو کیسے بدلا؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.independent.co.uk/news/science/andean-potato-genetics-study-peru-b2972183.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "آلو پر مبنی خوراک نے نسلوں تک لوگوں کی جینیات کو کیسے بدلا؟"
}