{
  "$type": "site.standard.document",
  "bskyPostRef": {
    "cid": "bafyreidluqif4knqa5lucyjmb727poptj5dmxwa7zojr26e63nebt3ssh4",
    "uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm5zg26zn2o2"
  },
  "coverImage": {
    "$type": "blob",
    "ref": {
      "$link": "bafkreidagtyx567aq5v3fg4y6zftdzwwq7sdpsjzjdxwtvu6lk76q2bw3a"
    },
    "mimeType": "image/jpeg",
    "size": 53724
  },
  "path": "/node/185958",
  "publishedAt": "2026-05-18T16:09:08.000Z",
  "site": "https://www.independenturdu.com",
  "tags": [
    "امریکہ",
    "ہانتا وائرس",
    "وبا",
    "اموات",
    "روئٹرز",
    "صحت",
    "news"
  ],
  "textContent": "**امریکی ریاست کولوراڈو میں ایک بالغ شخص ہانتا وائرس کے ایک تصدیق شدہ کیس کے بعد موت کے منہ میں چلا گیا۔**\n\nمحکمہ صحت کے حکام کے مطابق یہ کیس حالیہ اس وبا سے منسلک نہیں ہے جو بحرِ اوقیانوس میں ایک کروز شپ پر سامنے آئی تھی۔\n\nحکام نے بتایا کہ ہانتا وائرس کی یہ قسم کولوراڈو میں سال کے اس وقت عام طور پر پائی جاتی ہے، اور حکام اس بات کی تحقیقات جاری ہیں کہ متاثرہ شخص کو یہ وائرس کہاں سے لگا۔\n\nہانتا وائرس زیادہ تر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم انتہائی نایاب صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے، خاص طور پر طویل اور قریبی رابطے کے بعد۔\n\nاس مرض کی علامات ظاہر ہونے میں تقریباً چھ ہفتے تک لگ سکتے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nدوسری جانب ڈچ پرچم بردار کروز شپ جو روٹرڈیم بندرگاہ پر لنگر انداز ہے جس میں تقریباً 150 مسافر اور عملہ سوار تھا جن کا تعلق 23 ممالک سے تھا۔\n\nاس جہاز پر دو مئی کو عالمی ادارہ صحت ’ڈبلیو ایچ او‘ کو شدید سانس کی بیماریوں کے ایک گروپ کی اطلاع دی گئی تھی۔\n\nڈبلیو ایچ او کے مطابق اس جہاز پر اب تک تین افراد جان سے جا چکے ہیں جبکہ مجموعی طور پر آٹھ تصدیق شدہ اور دو ممکنہ کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔\n\nامریکہ\n\nہانتا وائرس\n\nوبا\n\nاموات\n\nہانتا وائرس زیادہ تر چوہوں کے ذریعے پھیلتا ہے، تاہم انتہائی نایاب صورتوں میں یہ انسان سے انسان میں بھی پھیل سکتا ہے، خاص طور پر طویل اور قریبی رابطے کے بعد۔\n\nروئٹرز\n\nسوموار, مئی 18, 2026 - 21:00\n\nMain image:\n\n> <p>13 مئی 2026 کو ارجنٹینا کے شہر کورڈوبا میں واقع فیکلٹی آف ایکزیکٹ، فزیکل اینڈ نیچرل سائنسز کے انسٹیٹیوٹ آف ڈائیورسٹی اینڈ اینیمل ایکولوجی  میں ہانتا وائرس سے متعلق چوہوں پر تحقیق کی جا رہی ہے (اے ایف پی)</p>\n\nصحت\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nآسٹریلیا: ہانتا وائرس سے متاثرہ جہاز کے 6 افراد کو الگ رکھنے کا فیصلہ\n\nہانتا وائرس کیا ہے اور اس کی علامات کیا ہوتی ہے؟\n\nبحرِ اوقیانوس میں کروز جہاز پر ہنٹا وائرس سے تین اموات\n\nنیپاہ وائرس: وہ خاموش قاتل جس کی کوئی دوا نہیں\n\nSEO Title:\n\nامریکہ میں ہانتا وائرس سے ایک شخص کی موت: حکام\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nاشتیاق\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
  "title": "امریکہ میں ہانتا وائرس سے ایک شخص کی موت: حکام"
}