{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreigfl4o6izucmf7boyzkbpr4kxeswoumuggtvsspm7ig5mn3gnk5ue",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3cds6ewqa2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreia5nahzyl4n3nqs63zzgvkr72asitoeeuknscwwp4gcldgjoqmmf4"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 69118
},
"path": "/node/185939",
"publishedAt": "2026-05-17T07:57:04.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"چین",
"امریکہ",
"صدر ڈونلڈ ٹرمپ",
"شی جن پنگ",
"جیمز سی رینلڈز",
"news"
],
"textContent": "**چین کے جنوب مغربی علاقے میں واقع شہر چونگ چنگ چند برس پہلے تک مغربی چین کا ایک نسبتاً غیر معروف صنعتی شہر سمجھا جاتا تھا، مگر آج یہی شہر ایک وسیع و عریض جدید میٹروپولیس میں تبدیل ہو چکا ہے، جہاں دنیا بھر سے سیاح اور سوشل میڈیا انفلوئنسرز اس کی حیرت انگیز تعمیرات، تہہ در تہہ انفراسٹرکچر اور انجینیئرنگ کے غیر معمولی کارنامے دیکھنے آ رہے ہیں۔**\n\n2017 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے آخری دورۂ چین کے بعد سے چین میں نمایاں تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں۔ بیجنگ نے بڑے ترقیاتی منصوبوں اور نئی اقتصادی شراکت داریوں کے ذریعے خود کو عالمی سطح پر امریکہ کے ہم پلہ قوت کے طور پر پیش کرنا شروع کر دیا ہے۔ اگرچہ چین کو اب بھی کئی داخلی چیلنجز کا سامنا ہے، تاہم چینی قیادت اپنے عالمی کردار کے حوالے سے پہلے سے کہیں زیادہ پراعتماد دکھائی دیتی ہے، جبکہ امریکہ صنعتی زوال، بیرونی اثر و رسوخ اور داخلی شناخت کے بحران جیسے مسائل سے دوچار ہے۔\n\nاسی تناظر میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس ہفتے دوبارہ بیجنگ پہنچے، جہاں انہوں نے چینی صدر شی جن پنگ کے ساتھ مذاکرات میں تجارت کو مرکزی حیثیت دی۔ ٹرمپ کی کوشش تھی کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کی جائے تاکہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکے۔ تاہم سفارتی مبصرین کے مطابق اس ملاقات میں چین زیادہ مضبوط پوزیشن میں نظر آیا، جبکہ ٹرمپ کسی بڑے معاہدے یا پیش رفت کے بغیر واپس لوٹے۔\n\nامریکی وفد بدھ کی شب بیجنگ پہنچا، جس کے ہمراہ امریکہ کی بڑی کاروباری شخصیات بھی موجود تھیں۔ ان میں ایپل کے ٹم کک، این ویڈیا کے جینسن ہوانگ، بوئنگ کے کیلی اورٹبرگ اور ٹیسلا کے ایلون مسک شامل تھے۔ وفد کا مقصد تجارتی اختلافات کو کم کرنا اور مختلف خارجہ پالیسی معاملات پر چین کی حمایت حاصل کرنا تھا۔\n\nٹرمپ کے 2017 کے دورے کے برعکس، جب چینی قیادت نے ان کا شاندار استقبال کیا تھا، ممنوعہ شہر تک خصوصی رسائی دی گئی تھی اور 250 ارب ڈالر سے زائد کے معاہدوں اور یادداشتوں کا اعلان کیا گیا تھا، اس بار منظر نامہ مختلف تھا۔ 2026 کے اس دورے میں کسی بڑے تجارتی معاہدے کا اعلان سامنے نہیں آیا۔\n\nتجزیہ کاروں کے مطابق اس سربراہی ملاقات کا بنیادی مقصد دونوں ممالک کے درمیان معاشی تعلقات کو مستحکم رکھنا تھا، مگر کئی اہم معاملات اب بھی حل طلب رہے۔ سب سے اہم مسئلہ محصولات یعنی ٹیرف کا تھا، جس پر دونوں رہنماؤں کے درمیان کوئی واضح گفتگو نہیں ہوئی۔\n\n2016 میں امریکہ سب سے زیادہ تجارت چین کے ساتھ کرتا تھا اور چینی مصنوعات پر اوسط امریکی ٹیرف صرف 3 فیصد تھا، جس سے امریکی صارفین کو سستی اشیا دستیاب رہتی تھیں۔ تاہم ٹرمپ نے اپنے پہلے دورِ حکومت میں چینی مصنوعات پر بھاری درآمدی ٹیکس عائد کیے اور امریکی کمپنیوں کو پیداوار چین سے منتقل کرنے کی ترغیب دی۔\n\nاب صورتحال یہ ہے کہ اگرچہ گزشتہ سال عارضی طور پر تین ہندسوں تک پہنچنے والے ٹیرف میں کمی آئی ہے، لیکن پیٹرسن انسٹیٹیوٹ فار انٹرنیشنل اکنامکس کے مطابق چینی مصنوعات پر امریکی ٹیرف اب بھی تقریباً 48 فیصد ہے۔ گزشتہ اکتوبر دونوں ممالک کے درمیان ایک عارضی معاہدہ ہوا تھا جس کے تحت امریکہ نے ٹیرف میں نرمی کی جبکہ چین نے نایاب معدنیات یعنی “ریئر ارتھ” کی فراہمی جاری رکھنے پر رضامندی ظاہر کی، تاہم یہ معاہدہ نومبر میں ختم ہو رہا ہے۔\n\nجب ٹرمپ سے پوچھا گیا کہ آیا اس معاہدے میں توسیع پر بات ہوئی تو انہوں نے مختصر جواب دیا کہ ’ہم نے ٹیرف پر بات نہیں کی۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبروکنگز انسٹیٹیوشن سے وابستہ خارجہ امور کی ماہر پیٹریشیا کم کے مطابق اگر ٹیرف معاہدے میں توسیع ہو جاتی تو یہی اس سربراہی ملاقات کی بنیادی کامیابی سمجھی جاتی۔\n\nدوسری جانب ’ریئر ارتھ‘ معدنیات کی فراہمی کا مسئلہ بھی حل نہ ہو سکا۔ چین نے اپریل 2025 میں امریکی ٹیرف کے جواب میں ان معدنیات کی برآمدات پر پابندیاں عائد کی تھیں، جس سے امریکی چِپ ساز کمپنیوں اور فضائی صنعت کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔\n\nچین دنیا کی تقریباً 90 فیصد پراسیس شدہ ریئر ارتھ معدنیات اور میگنیٹس تیار کرتا ہے۔ یہ معدنیات جدید ٹیکنالوجی، الیکٹرک گاڑیوں، ریڈار سسٹمز، ایف-35 جنگی طیاروں، ٹوماہاک میزائلوں، آبدوزوں اور سیمی کنڈکٹرز میں انتہائی اہم سمجھی جاتی ہیں۔\n\nماہرین کے مطابق ماضی میں چین شاید امریکہ کو ان قیمتی معدنیات کی فراہمی روکنے سے گریز کرتا، مگر اب بیجنگ اس پوزیشن میں ہے کہ بغیر فوجی کارروائی کے بھی واشنگٹن پر دباؤ ڈال سکے۔ اگرچہ امریکہ اپنی مقامی سپلائی چین قائم کرنے کی کوشش کر رہا ہے، لیکن اب تک وہ بھاری ریئر ارتھ معدنیات کو مقامی سطح پر پراسیس کرنے کی مکمل صلاحیت حاصل نہیں کر سکا۔\n\nدورے کے دوران امریکی ٹیکنالوجی اور کاروباری حلقوں کو بھی کوئی بڑی کامیابی حاصل نہ ہو سکی۔ اگرچہ ممکنہ معاہدوں کی امیدیں برقرار ہیں، مگر سب سے زیادہ زیرِ بحث رہنے والا معاملہ بوئنگ طیاروں کی خریداری کا تھا، جو توقعات سے کم نکلا۔\n\nٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ چین 200 بوئنگ طیارے خریدے گا، جبکہ مارکیٹ میں تقریباً 500 طیاروں کی توقع کی جا رہی تھی۔ بعد ازاں ٹرمپ نے کہا کہ چین ممکنہ طور پر 750 طیارے خرید سکتا ہے، مگر اس حوالے سے کوئی حتمی معاہدہ سامنے نہیں آیا۔ اس اعلان کے بعد بوئنگ کے حصص میں نمایاں کمی دیکھی گئی۔\n\nاسی طرح این ویڈیا کی جدید H200 مصنوعی ذہانت چپس کی چین کو فروخت کے حوالے سے بھی کوئی پیش رفت نہ ہو سکی، حالانکہ کمپنی کے سربراہ جینسن ہوانگ آخری لمحے میں وفد میں شامل ہوئے تھے۔\n\nامریکی حکام کا کہنا ہے کہ زرعی مصنوعات کی فروخت سے متعلق کچھ معاہدے طے پائے ہیں اور مستقبل کی تجارتی سرگرمیوں کے لیے طریقہ کار پر بھی پیش رفت ہوئی ہے۔ دونوں ممالک نے 30 ارب ڈالر مالیت کی غیر حساس اشیا کی فہرست تیار کرنے پر بھی اتفاق کیا ہے۔\n\nٹرمپ نے اس امکان کو بھی نمایاں کیا کہ چین امریکہ سے تیل خرید سکتا ہے۔ امریکی وزیر توانائی کے مطابق چین نے امریکی تیل خریدنے میں دلچسپی ظاہر کی ہے، تاہم چینی وزارت خارجہ نے اس حوالے سے کوئی واضح مؤقف نہیں دیا۔\n\nچین میں مقیم ایک سینئر امریکی کاروباری شخصیت نے فنانشل ٹائمز سے گفتگو میں کہا کہ اگرچہ وسیع تجارتی معاہدے کاروباری برادری کے لیے خوش آئند ہوں گے، لیکن کمپنیوں کو اب بھی ٹائم لائنز اور ریئر ارتھ معدنیات کے مسئلے پر واضح یقین دہانی درکار ہے۔\n\nصدر شی جن پنگ نے امریکی کاروباری رہنماؤں سے خطاب میں کہا کہ چین کے دروازے کاروبار کے لیے “مزید وسیع ہوتے جائیں گے”، تاہم اس دورے میں ایسی کوئی واضح پیش رفت سامنے نہیں آئی جسے واشنگٹن اپنی بڑی سفارتی یا اقتصادی کامیابی قرار دے سکے۔\n\nچین\n\nامریکہ\n\nصدر ڈونلڈ ٹرمپ\n\nشی جن پنگ\n\nٹرمپ کی کوشش تھی کہ نومبر میں ہونے والے وسط مدتی انتخابات سے قبل کوئی ٹھوس کامیابی حاصل کی جائے تاکہ ان کی مقبولیت میں اضافہ ہو سکے۔\n\nجیمز سی رینلڈز\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 12:45\n\nMain image:\n\n> <p>امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے 15 مئی 2026 کو بیجنگ میں چینی صدر شی جن پنگ سے ملاقات کی (روئٹرز)</p>\n\nامریکہ\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nچین بوئنگ سے 200 طیارے خریدے گا: صدر ٹرمپ\n\nٹرمپ چین میں موجود: ایران جنگ، تجارت اور تائیوان پر بات چیت متوقع\n\nچین ٹرمپ کے دورے سے کیا حاصل کرنا چاہتا ہے؟\n\nچین آگے بڑھ چکا، یورپ ابھی پیچھے ہے\n\nSEO Title:\n\nٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟\n\ncopyright:\n\nIndependentEnglish\n\norigin url:\n\nhttps://www.the-independent.com/news/world/americas/us-politics/donald-trump-china-us-trade-economy-b2977261.html\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "ٹرمپ کو چین کے دورے سے کیا حاصل ہوا؟"
}