{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreia65ikacwi3q7haectmsni7tp7ovzwetsy7eiont6dwq7xtu6aalu",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3cdkk7f3n2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreiajfpsjhqyxkxtwe452jlc6q2yzxphtpxtqsp4yb5vwi46w4i5hea"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 107881
},
"path": "/node/185937",
"publishedAt": "2026-05-17T05:06:29.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"الیکٹرک کار",
"سکوٹر",
"ارشد چوہدری",
"ٹیکنالوجی",
"video"
],
"textContent": "**دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی ان دنوں الیکٹرک گاڑیوں کے علاوہ ہائبرڈ گاڑیوں کی بھرمار ہے مگر اب ایک ایکسپو کے دوران الیکٹرک کے ساتھ ساتھ ہائبرڈ بائیکس بھی متعارف کروا دی گئی ہیں۔**\n\nلاہور کے ایکسپو سینٹر میں الیکٹرک سکوٹیز اور سکوٹر بنانے والی کمپنیوں نے پرانے کے ساتھ نئے ماڈلز متعارف کروائے جن میں ای وی کے ساتھ ہائبرڈ بائیکس بھی ہیں۔\n\nان دنوں توانائی بحران اور پیٹرول کی آئے دن بڑھتی قیمتوں کے باعث الیکٹرک گاڑیوں اور موٹر سائیکلز کی مانگ میں غیر معمولی اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔\n\nدنیا کے دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی الیکٹرک گاڑیوں، موٹر سائیکلز اور سکوٹیز کی طلب میں روز بروز اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔\n\nماحولیاتی آلودگی پر قابو پانے کے لیے حکومتی سطح پر بھی الیکٹرک پالیسیوں پر تیزی سے عمل ہو رہا ہے۔ اگرچہ ابھی تک الیکٹرک چارجنگ سٹیشن پوری طرح قائم نہیں ہو سکے ہیں پھر بھی اس طرف رجحان بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔\n\nپاکستان آٹو موبائل مینو فیکچرنگ ایسوسی ایشن (پی اے ایم اے) کی حالیہ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کے مقابلے میں رواں سال الیکٹرک موٹر سائیکلوں کی فروخت میں 30 سے 35 فیصد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔\n\nڈائریکٹر شعبہ کلائمیٹ اینڈ ایکیوٹی ڈاکٹر آزر خان نے انڈپینڈنٹ اردو سے گفتگو میں کہا کہ ’دیگر ممالک کی طرح پاکستان میں بھی الیکٹرک موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کی فروخت میں اضافہ ہورہا ہے۔ خاص طور پر توانائی بحران میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافے کے باعث لوگ بجلی سے چلنے والی موٹر سائیکلوں اور گاڑیوں کو ترجیح دے رہے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\n’کیونکہ موٹر سائیکل ایک لیٹر میں زیادہ سے زیادہ 50 کلومیٹر بھی کرے تو وہ سوا چار سو میں پڑتا ہے۔ لیکن ایک یونٹ سے اگر یہی سفر طے کیا جائے تو وہ بہت کم میں پڑتا ہے۔‘\n\n**ای وی کی مانگ**\n\nالیکٹرک سکوٹرز کے علاوہ خواتین میں دو اور تین ویلر سکوٹیز کا رجحان بھی کافی بڑھ رہا ہے۔\n\nلاہور ایکسپو سینٹر میں ہونے والے نمائش میں سکوٹی خریدنے کے لیے آنے والی مسمہ علی کہتی ہیں کہ ’خواتین کی لیے آج کے دور میں سکوٹی بہت ضروری ہے کیونکہ بسوں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں لڑکیاں محفوظ نہیں۔\n\n’اگر سکوٹی ہو تو وہ نکالیں کالجز، یونیورسٹی یا جہاں بھی جانا چاہیں آرام سے جائیں۔‘\n\nیونیورسٹی طالبہ ملائکہ نے کہا کہ ’سکوٹی لڑکیوں کے لیے چلانا بہت آسان ہے۔ میں یونیورسٹی جانے کے لیے سکوٹی لینا چاہتی ہوں۔ تھری وہیلر سکوٹی پسند کی ہے اس کی آرام دہ سیٹیں ہیں۔ اسے چلانا بھی بہت آسان ہے اور لڑکیوں کے لیے آزادی سے سفری سہولت کا ذریعہ ہے۔‘\n\nپی اے ایم اے کی جائزہ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پاکستان میں گذشتہ ایک سال کے دوران مقامی اور چینی کمپنیوں کی بنائی گئی 15 لاکھ 18 ہزار سے زائد الیکٹرک موٹر سائیکل اور سکوٹیز فروخت ہوئی ہیں جبکہ پچھلے سال یہ تعداد 11 لاکھ 50 کے قریب تھی۔\n\nالیکٹرک کار\n\nسکوٹر\n\nلاہور کے ایکسپو سینٹر میں الیکٹرک سکوٹیز اور سکوٹر بنانے والی کمپنیوں نے پرانے کے ساتھ نئے ماڈلز متعارف کروائے جن میں ای وی کے ساتھ ہائبرڈ بائیکس بھی ہیں۔\n\nارشد چوہدری\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 10:00\n\nMain image:\n\n> <p>لاہور میں ای وی پاکستان ایکسپو کا انعقاد ہوا جس میں خواتین کی الیکٹرک بائیکس میں دلچسپی دیکھی گئی (انڈپینڈنٹ اردو)</p>\n\nٹیکنالوجی\n\njw id:\n\nj1j4ghIG\n\ntype:\n\nvideo\n\nrelated nodes:\n\nالیکٹرک گاڑی کے بعد اب یہ ای آر ای وی کیا ہے؟\n\nپاکستان میں الیکٹرک گاڑیاں زیادہ، چارجنگ سٹیشنز کم\n\nالیکٹرک بائیک والدین کے لیے کیوں مفید ہے؟\n\nSEO Title:\n\nلاہور: ای وی پاکستان ایکسپو میں خواتین کی الیکٹرک بائیکس میں دلچسپی\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "لاہور: ای وی پاکستان ایکسپو میں خواتین کی الیکٹرک بائیکس میں دلچسپی"
}