{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreiazmw3qb4x3gstqgh5pzlsyvm7sd23vmarwuawtm77ullvvolkpka",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3cbll6vpf2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreihicfcoz6pdca6djrxqimiofr47cefxjno4c4ys2uw2jkgrvtg2je"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 91009
},
"path": "/node/185938",
"publishedAt": "2026-05-17T06:01:15.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"پاکستان",
"انڈیا",
"معرکہ حق",
"آرمی چیف",
"آئی ایس پی آر",
"انڈپینڈنٹ اردو",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**پاکستانی فوج کے ترجمان ادارے آئی ایس پی آر نے اتوار کو انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ہے جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔**\n\nانڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر پاکستان فوج کے ترجمان ادارے نے نئی دہلی سے کہا ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور تنازع کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج خطے کے لیے ’تباہ کن‘ ہو سکتے ہیں۔\n\nیہ بیان انڈین آرمی چیف جنرل اپیندرا دویویدی کے ایک روز قبل دیے گئے ریمارکس کے جواب میں جاری کیا گیا۔\n\nانڈین بری فوج کے سربراہ نے ایک حالیہ انٹرویو میں بیان دیتے ہوئے کہا تھا کہ ’پاکستان کو فیصلہ کرنا چاہیے کہ وہ جغرافیہ اور تاریخ کا حصہ بننا چاہتا ہے یا نہیں۔‘\n\nآئی ایس پی آر نے اپنے بیان میں کہا کہ ’ہندوتوا نظریے کے زیر اثر انڈیا میں پائے جانے والے وہم اور غیر حقیقت پسندانہ خیالات کے برعکس، پاکستان ایک اہم عالمی حیثیت رکھتا ہے، ایک ایٹمی طاقت ہے اور جنوبی ایشیا کے جغرافیہ اور تاریخ کا ایک ناقابلِ تردید حصہ ہے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ اس قسم کے بیانات سے ظاہر ہوتا ہے کہ ’انڈین قیادت نہ تو پاکستان کے وجود کو تسلیم کر پائی ہے اور نہ ہی آٹھ دہائیاں گزرنے کے باوجود اس نے درست اسباق سیکھے ہیں۔‘\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین بیانیہ سہولت کے ساتھ اپنی اس تاریخی حقیقت کو نظرانداز کر دیتا ہے جس میں خطے میں دہشت گردی کے فروغ، ریاستی سرپرستی، علاقائی عدم استحکام، سرحد پار کارروائیوں اور عالمی سطح پر غلط معلومات پھیلانے میں اس کے کردار کے الزامات شامل رہے ہیں۔\n\n’نئی دہلی کا جارحانہ رویہ دراصل اعتماد سے زیادہ اس مایوسی کا نتیجہ معلوم ہوتا ہے جو پاکستان کو نقصان پہنچانے میں ناکامی کے باعث سامنے آئی ہے، جس کی جھلک ’معرکۂ حق‘ کے دوران بھی دیکھی گئی۔‘\n\nفوج کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے اس بات پر زور دیا کہ ’یہ غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ذہنیت بارہا جنوبی ایشیا کو جنگوں اور بحرانوں کی طرف دھکیلتی رہی ہے۔‘\n\nبیان میں مزید کہا گیا کہ ’انڈین قیادت کے لیے بہتر ہے کہ وہ جنوبی ایشیا کو ایک اور بحران یا جنگ کی طرف دھکیلنے سے گریز کرے، کیونکہ اس کے نتائج پورے خطے اور اس سے باہر کے لیے بھی تباہ کن ہوں گے۔‘\n\nآئی ایس آپی آر کا کہنا تھا کہ ’انڈیا کو چاہیے کہ وہ پاکستان کی اہمیت کو تسلیم کرے اور اس کے ساتھ پرامن بقائے باہمی کا راستہ اختیار کرے۔\n\n’بصورت دیگر، پاکستان کے خلاف کسی بھی قسم کی جارحانہ کوشش ایسے نتائج کو جنم دے سکتی ہے جو نہ صرف جغرافیائی حدود تک محدود ہوں گے اور نہ ہی انڈیا کے لیے سٹریٹجک یا سیاسی طور پر قابلِ قبول ہوں گے۔‘\n\nپاکستان\n\nانڈیا\n\nمعرکہ حق\n\nآرمی چیف\n\nآئی ایس پی آر\n\nآئی ایس پی آر نے اتوار کو انڈین آرمی چیف کے حالیہ بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ انڈین آرمی چیف کا بیان غرور، جنگی جنون اور محدود سوچ پر مبنی ہے جو خطے کے لیے تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔\n\nانڈپینڈنٹ اردو\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 11:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">23 مارچ، 2022 کو اسلام آباد میں یومِ پاکستان پر فوجی پریڈ کے دوران ایک فضائی دفاعی میزائل سسٹم کے پاس کھڑا فوجی سلامی دے رہا ہے (روئٹرز)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nمتحدہ عرب امارات اور انڈیا میں دفاع اور توانائی کے شعبوں میں اہم معاہدے\n\nپاکستان انڈیا جنگ کا ایک سال: جب لوگ ’انڈین ڈرون کباڑ میں بیچتے رہے‘\n\nانڈیا سے مئی میں ہونے والی جنگ آخری نہیں ہے: پاکستان فضائیہ\n\nانڈیا: کیا ایک ہی خاندان کے چار افراد کی تربوز کھانے سے موت ہوئی؟\n\nSEO Title:\n\nانڈین آرمی چیف کا بیان غرور اور جنگی جنون پر مبنی ہے: آئی ایس پی آر\n\ncopyright:\n\nshow related homepage:\n\nShow on Homepage",
"title": "انڈین آرمی چیف کا بیان غرور اور جنگی جنون پر مبنی ہے: آئی ایس پی آر"
}