{
"$type": "site.standard.document",
"bskyPostRef": {
"cid": "bafyreib3zyiaisy75opm6hwmudvqdfqchghunhoyx7cyauejj5whagru7e",
"uri": "at://did:plc:vc2nen26a4wwwtacdiwdpeqk/app.bsky.feed.post/3mm3cbgewt6a2"
},
"coverImage": {
"$type": "blob",
"ref": {
"$link": "bafkreibnxty6eddat2zyfb7fr5bvlj4lwx622hkmjfoqsqmd4ijkcgswym"
},
"mimeType": "image/jpeg",
"size": 70201
},
"path": "/node/185941",
"publishedAt": "2026-05-17T11:01:36.000Z",
"site": "https://www.independenturdu.com",
"tags": [
"ایران",
"ایران چین تعلقات",
"باقر قالیباف",
"اے ایف پی",
"ایشیا",
"news"
],
"textContent": "**امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے ایران کے پارلیمنٹ کے سپیکر محمد باقر قالیباف کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔**\n\nایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔\n\nایران کے میڈیا کے مطابق اتوار کو تسنیم نیوز ایجنسی نے ’معتبر ذرائع‘ کے حوالے سے رپورٹ کیا کہ محمد باقر قالیباف کو اسلامی جمہوریہ ایران کی جانب سے چین کے امور کے لیے خصوصی نمائندہ مقرر کیا گیا ہے۔ دیگر میڈیا اداروں نے بھی اسی نوعیت کی رپورٹس نشر کی ہیں۔\n\nتسنیم کے مطابق یہ تقرری صدر مسعود پزشکیان کی تجویز پر اور سپریم لیڈر آیت اللہ مجتبیٰ خامنہ ای کی منظوری سے کی گئی۔ وہ ایران اور چین کے درمیان تعلقات کے مختلف شعبوں کو منظم اور مربوط کریں گے۔\n\nفارس نیوز ایجنسی نے بتایا کہ سابق سکیورٹی چیف علی لاریجانی، جو 17 مارچ کو امریکی اور اسرائیلی حملوں میں مارے گئے تھے، بھی اسی نوعیت کے عہدے پر فائز رہے ہیں۔ انہوں نے چین کے ساتھ 2021 میں ہونے والے 25 سالہ تعاون کے معاہدے کی پیش رفت میں کردار ادا کیا تھا۔\n\n28 فروری کو اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کے آغاز کے بعد قالیباف امریکہ کے ساتھ ہونے والے ایک دور کے مذاکرات میں اہم کردار ادا کرنے والے مرکزی شخص کے طور پر سامنے آئے ہیں۔\n\n# مزید پڑھ\n\nاس سیکشن میں متعلقہ حوالہ پوائنٹس شامل ہیں (Related Nodes field)\n\nامریکہ اور اسرائیل کے حملوں میں کئی سینئر ایرانی حکام، جن میں سابق اعلیٰ عہدیدار علی خامنہ ای بھی شامل ہیں، مارے گئے۔ یہ جنگ مشرق وسطیٰ میں پھیل گئی تھی اور 8 اپریل کو ایک نازک جنگ بندی پر جا کر رکی۔\n\nایران نے حالیہ دنوں میں آبنائے ہرمز سے چند چینی جہازوں کو گزرنے کی اجازت بھی دی ہے، جو عالمی توانائی کی ترسیل کا ایک اہم راستہ ہے اور جنگ کے بعد ایران نے اسے بند کر دیا تھا۔\n\nپاسدارانِ انقلاب کے مطابق ان جہازوں کو ’آبنائے کے انتظامی پروٹوکولز پر معاہدے‘ کے بعد گزرنے دیا گیا۔\n\nایران\n\nایران چین تعلقات\n\nباقر قالیباف\n\nایران کے پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف، جو حال ہی میں امریکہ کے ساتھ مذاکرات میں مرکزی مذاکرات کار کے طور پر سامنے آئے ہیں، کو چین کے ساتھ تعلقات کی نگرانی کی ذمہ داری سونپ دی گئی ہے۔\n\nاے ایف پی\n\nاتوار, مئی 17, 2026 - 16:00\n\nMain image:\n\n> <p class=\"rteright\">ایران کی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف اور ان کے لبنانی ہم منصب 12 اکتوبر 2024 کو بیروت میں ملاقات کے بعد (اے ایف پی)</p>\n\nایشیا\n\ntype:\n\nnews\n\nrelated nodes:\n\nامریکی بحری ناکہ بندی نفسیاتی جنگ ہے: باقر قالیباف\n\nوزرائے خارجہ ملاقات: چین ایران ’سٹریٹیجک معاہدہ‘ یا ’تیل درآمدات‘\n\nایران کے ساتھ سیزفائر ’لائف سپورٹ‘ پر ہے: صدر ٹرمپ\n\nاپنے جواب میں جنگ کے خاتمے اور منجمد اثاثوں کی بحالی کا مطالبہ کیا: ایران\n\nSEO Title:\n\nباقر قالیباف نگران برائے ایران چین تعلقات مقرر\n\ncopyright:\n\nTranslator name:\n\nMuhammad Alaas\n\nshow related homepage:\n\nHide from Homepage",
"title": "باقر قالیباف نگران برائے ایران چین تعلقات مقرر"
}